0

افغان طالبان کو سیاسی قوت کے طور پر دیکھتے ہیں، چین

Spread the love

پاکستان میں چینی سفیریاؤ جنگ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات چینی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیریاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ترقی کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست سے ریاست کے تعلقات مختلف امور پر مذاکرات اور تعاون پر مبنی ہیں، دونوں ملکوں کو کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے اور حکومت پاکستان کا وژن بھی چین جیسا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پرامن ملک اور خطے میں امن کیلئے کام کر رہا ہے، پاکستان نے ہمیشہ ہمسایوں کے ساتھ پْرامن تعلقات کیلئے کوشش کی۔ سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان، چین اور چین، پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ستون ہیں، دوطرفہ تعلقات کی تمام جہتیں دوستی کی عکاس ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی تمام چیلنجز میں ثابت قدم رہی اور یہ دوستی شہد سے میٹھی، سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے اونچی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاک، چین خصوصی تعلقات کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا ۔علاوہ ازیں پشاور میں گفتگو کرتے ہوئے چینی سفیر یا ؤجنگ کا کہنا تھا کہ بیجنگ طالبان کو افغانستان میں ایک سیاسی قوت کے طور پر دیکھتا ہے،افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن قائم کرنے کیلئے پاکستان کی حالیہ کوششوں کو سراہاتا ہے۔جب ان سے چین کی جانب سے افغان مسئلے کے سیاسی حل میں عدم دلچسپی کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ان کا ملک طالبان اور افغان حکومت سے رابطے میں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ چین کی جانب سے ایک خصوصی نمائندہ دوحہ میں طالبان سے بات چیت کے لیے ان کے دفتر میں ایک خصوصی نمائندہ بھی بھیجا ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ بیجنگ طالبان کو ایک سیاسی قوت کے طور پر دیکھتا ہے کیونکہ وہ افغانستان کے سیاسی عمل کا حصہ ہیں اور ان کے سیاسی تحفظات بھی ہیں۔یاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ طالبان کو مستقبل میں بھی سیاسی استحکام کیلئے کردار ادا کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔چینی سفیر نے کہا کہ ان کی حکومت افغان امن عمل کو دنیا بھر میں مختلف فورمز پر اٹھا رہی ہے تاہم اگر ممکن ہوا تو طالبان پر امن عمل کا حصہ بننے پر زور بھی دیا جائے گا۔اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)سے متعلق مغربی میڈیا پر منفی پروپگینڈا کرنے کا الزام عائد کیا۔چینی سفیر نے اپنی بات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک سی پیک کے ذریعے پاکستان کو کیوں کنٹرول کرے گا اور اس مقصد کے لیے کیوں اپنا پیسہ لگائے گا؟ان کا مزید کہنا تھا کہ 1960 کی دہائی میں دونوں ممالک کی دوستی گہری تھی اور اس وقت پاکستان بہت مشکل حالات میں بھی تھا لیکن اس وقت بھی بیجنگ اسلام آباد کو کنٹرول نہیں کر سکا۔چینی سفیر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ کی خارجہ پالیسی کبھی بھی کسی پر اثر انداز ہونے یا کسی کو کنٹرول کرنے کی بنیاد پر نہیں رہی، اب چین نے نئی خارجہ پالیسی ترتیب دی ہے جس کی بنیاد بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ(بی آر آئی)ہے۔امریکی حکومت کی جزوی بندش کے سبب ملکی تفتیشی ادارہ ایف بی آئی بھی متاثر ہو رہا ہے اور اپنے مخبروں اور مترجموں کو تنخوایں دینے کے قابل نہیں رہا جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ ایسی شکایات ایف بی آئی کے ملازمین نے اپنے گمنام پیغامات میں کی ہیں جو ان کی ایسوسی ایشن FBIAA کو بھیجی گئی ہیں۔ امریکی سینیٹ کل جمعرات کو دو مختلف تجاویز پر ووٹنگ کرانا چاہتی ہے تاکہ حکومت کی جزوی بندش ختم ہو سکے مگر ان دونوں میں سے کسی بھی تجویز پر اتفاق رائے مشکل قرار دیا رہا ہے۔

Leave a Reply