افغان طالبان کا قندوز میں خالی کردہ بھارتی قونصل خانے پر قبضہ

افغان طالبان کا قندوز میں خالی کردہ بھارتی قونصل خانے پر قبضہ

Spread the love

کابل (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) افغان طالبان کا قندوز

بھارت کی جانب سے افغانستان کے صوبہ قندھار میں خالی کئے جانے والے

قونصل خانے پر طالبان نے قبضہ کر کے سوشل میڈیا پر ویڈیو بھی وائرل کردی،

جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جاتے ہوئے بھارتی سفارتکاروں اور سکیورٹی

عملے نے اپنا سامان بھی پیک نہیں کیا اور ویسے کا ویسے ہی چھوڑ کر بھاگ

نکلے، دوسری طرف ایران نے نمروز، فرح اور ہرات بارڈر پر فوج تعینات کردی

ہے، بھاری ہتھیار بھی ایران افغانستان سرحد پر منتقل کیے جا رہے ہیں-

=-= دنیا بھر سے تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

افغانستان میں بھارت کی جانب سے کھیلی جانے والی ڈبل گیم بے نقاب ہوگئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاں بھارت ایک طرف تو طالبان سے مذاکرات کر رہا

ہے تو دوسری طرف ان کیخلاف استعمال کرنے کیلئے افغان فوج کو اسلحہ بھی

فراہم کر رہا ہے۔ بتایا گیا ہے بظاہر سفارتی عملے کے انخلاء کے نام پر2 بھارتی

سی17 طیارے افغانستان آئے، لیکن درحقیقت یہ اسلحے سے بھرے ہوئے تھے اور

مذکورہ بھارتی طیارے افغانستان میں اسلحہ کی بڑی کھیپ اتار کر بھارتی شہریوں

کو واپس لے گئے۔

=-،-= 26 صوبوں میں افغان فورسز اور طالبان میں گھمسان کی جنگ

طالبان اور حکومتی فورسز کے مابین افغانستان کے 26 صوبوں میں لڑائی جاری

ہے، صوبہ قندوز میں طالبان نے حکومتی فورسز کے دو ہیلی کاپٹر مار گرائے،

صوبہ پکتیکا میں سکیورٹی اہلکار مزاحمت کئے بغیر طالبان کے ساتھ شامل ہو

گئے، غزنی، قندھار اور کابل سمیت کئی بڑے شہروں میں بے یقینی کی صورتحال

ہے۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ قندھار شہر میں پولیس سٹیشن اور کئی چیک

پوسٹوں پر انہوں نے قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ افغان شہریوں نے موجودہ صورت

حال پر امریکہ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو افغانستان کے

مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔

=-،-= آسٹریلیوی فورسز کا افغان مشن ختم، انخلاء مکمل ہونے کی تصدیق

آسٹریلوی وزیر دفاع پیٹر ڈوٹن نے تصدیق کی ہے کہ انکی ملکی فوج کا افغانستان

میں 20 سالہ فوجی مشن ختم ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران افغانستان میں

متعین تمام تر آسٹریلوی افواج کا انخلاء مکمل ہو گیا تھا۔ کینبرا حکومت نے اپریل

میں امریکی منصوبے کے مطابق اعلان کیا تھا رواں برس ستمبر تک افغان فوجی

مشن ختم کر دیا جائے گا۔ ادھر امریکی وزارت دفاع نے امریکی افواج کے جاری

انخلاء کے دوران طالبان کی پیش قدمی اور افغانستان کے زیادہ علاقے پر قبضے

کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان کربی

نے ” فوکس نیوز سنڈے “ کیساتھ انٹرویو میں صدر بائیڈن کے امریکی افواج کو

افغانستان سے نکالنے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبصرہ کیا،

انہوں نے کابل انتظامیہ کی فوج پر زور دیا کہ وہ ملک کے دفاع کے لئے آگے

بڑھیں کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری کا لمحہ ہے۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

فوکس نیوز نے اس رپورٹ میں بتایا گزشتہ دو عشروں سے زائد کے عرصے میں

امریکہ نے افغانستان کو اپنے دفاع کیلئے اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کئے ہیں اور

اب 31 اگست سے اپنا فوجی مشن مکمل کرنے کے صدر بائیڈن کے اعلان کے بعد

ملک کے کنٹرول کی غیریقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طالبان نے دعویٰ

کیا ہے کہ افغانستان کا 85 فیصدحصہ پہلے ہی ان کے قبضے میں آچکا ہے جسے

غیرجانبدار مبصرین تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ فوکس نیوز نے اس موقع پر اپنا

تخمینہ پیش کیا جس کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ طالبان اور ایک کروڑ کی

آبادی افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ جبکہ نوے لاکھ کی آبادی متنازعہ اور

غیر واضح علاقے میں واقع ہے۔

=-،-= پینٹاگون فوکس نیوز کے افغانستان سے متعلق جائزے پر خاموش

پینٹاگون کے ترجمان نے اس جائزے پر اپنی کوئی رائے نہیں دی۔ امریکہ نے

2001ء میں پہلی مرتبہ افغانستان پر حملہ کیا تھا جس کا مقصد القاعدہ کے دہشت

گردوں کے یہاں موجود مراکز کا خاتمہ کرنا تھا جنہوں نے اسی برس گیارہ ستمبر

کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر مسافر طیاروں کو اغوا کر کے حملہ کیا تھا

جس میں تین ہزار کے قریب امریکی باشندے جاں بحق ہو گئے تھے۔ فوکس نیوز

کےساتھ انٹرویو میں امریکی وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی نے مزید بتایا

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے باوجود امریکی کمانڈر دوسرے قریبی

ممالک میں موجود رہیں گے جہاں سے وہ افغان فوج کو ہدایات دینے کا کام جاری

رکھیں گے۔

افغان طالبان کا قندوز ، افغان طالبان کا قندوز ، افغان طالبان کا قندوز ، افغان طالبان کا قندوز

Leave a Reply