افغان طالبان کابینہ، کون کیا کیا۔۔؟

Spread the love

پشاور(خصوصی رپورٹ:عمران رشید خان)

افغان طالبان کی جانب سے افغانستان کی نئی عبوری حکومت

کا اعلان کردیا گیا ہے جس کے مطابق ملا محمد حسن اخوند طالبان

کی نئی حکومت میں ریاست کے سربراہ ہوں گے جنہیں وزیر اعظم

(رئیس الوزرا) مقرر کیا گیا ہے
جبکہ طالبان

کے سربراہ ملا ہیبت اللہ سپریم کمانڈر ،امیرالمومین

اور نئی حکومت کے سرپرست اعلیٰ ہوں گے۔
طالبان ذرائع کے مطابق

امیر المومنین شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے خود ملا محمد حسن اخوند

کونئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا ہے
جبکہ قطر میں

طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر سربراہحکومت کے

معاون اورمولوی عبدالسلام حنفی نائب وزرائے اعظم ہوں گے۔

اس حوالے سےطالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کے

دارالحکومت کابل میں ایک پریس کانفرنس میں
عبوری حکومت

کیلئے کابینہ کے اراکین کے ناموں کا اعلان کیا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان کے دارالحکومت

کابل میں ایک پریس کانفرنس میں عبوری حکومت کیلئے

کابینہ کے اراکین کے ناموں کا اعلان کیا۔ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ

ملا محمد حسن اخوند افغانستان کے عبوری وزیر اعظم ہوں گے جبکہ ملا عبدالغنی

برادر اورمولوی عبدالسلام حنفی نائب وزرائے اعظم ہوں گے۔ملا یعقوب

وزیردفاع، سراج حقانی وزیرداخلہ اور قاری فصیح آرمی چیف مقرر

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ طالبان کے سابق بانی امیر ملا عمر کے

صاحبزادے اور ملٹری آپریشن کے سربراہ ملا محمد یعقوب مجاہد

کو عبوری وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے جبکہ ان کے نائب ملا محمد فاضل اخوند ہوں گے۔

کمانڈر قاری فصیح الدین افغانستان کے آرمی چیف ہوں گے۔

سراج الدین حقانی وزیر داخلہ اور مولوی نور جلال نائب

وزیر داخلہ ہوں گے جبکہ مولوی امیر خان متقی کو ملک کا وزیر خارجہ

مقرر کیا گیا ہے اور ان کے نائب شیر محمد عباس استنکزئی ہوں گے۔

عبوری حکومت میں ملا ہدایت اللہ بدری کو وزیر خزانہ اور شیخ اللہ منیر

کو وزیر تعلیم مقرر کیا گیا ہے۔ امیر متقی وزیر خارجہ، ملا خیر اللہ

وزیراطلاعات اور ذبیح اللہ نائب وزیراطلاعات مقرر

خلیل الرحمان حقانی وزیر برائے مہاجرین اور خیراللہ خیرخواہ

وزیر اطلاعات و ثقافت ہوں گے جبکہ ذبیح اللہ مجاہد کو

نائب وزیر اطلاعات و ثقافت مقرر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ نور محمد

ثاقب وزیر حج اور اوقاف، عبدالحکیم وزیر برائے انصاف اور نور

اللہ نوری وزیر برائے امور سرحد اور قبائل ہوں گے۔
وزیر معدنیات

اور پیٹرولیم ملا محمد عیسیٰ اخوند، وزیر برائے پانی و توانائی ملا

عبدالطیف منصور اور وزیر برائے سول ایوی ایشن اور ٹرانسپورٹ

ملا حمید اللہ اخوندزادہ ہوں گے, افغانستان کی عبوری کابینہ میں

وزیر برائے اعلیٰ تعلیم عبدالباقی حقانی اور وزیر مواصلات نجیب اللہ حقانی

کو مقرر کیا ہے, ان تقرریوں کے علاوہ عبدالحق واثق کو

انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر اور مرکزی بینک کا ڈائریکٹر حاجی

محمد ادریس کو مقرر کیا گیا ہے, طالبان ترجمان کے مطابق نئے

تعینات عہدیدار کل سے اپنا کام شروع کر دیں گے۔۔

نئی افغان حکومت کے سربراہ کون ہیں ایک نظر۔۔۔

الحاج ملا محمد حسن اخوند اس وقت طالبان
کی طاقتور فیصلہ

ساز رہبری شوریٰ کے سربراہ ہیں ان کا تعلق
قندھار سے ہے جہاں

سے طالبان کی تحریک کا آغاز ہوا تھا، ملا
محمد حسن اخوند

طالبان کی مسلح تحریک کے بانیوں میں سے ہیں
ملا محمد حسن اخوند

نے 20 سال رہبری شوریٰ کے سربراہ کے طور پر کام کیا جبکہ انکے

بارے میں مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ عسکری
پس منظر نہیں رکھتے

بلکہ مذہبی رہنما ہیں اور اپنے کردار اور دینداری
کی وجہ سے پہچانے

جاتے ہیں علاوہ ازیںملا حسن اخوند 20 سال سے شیخ ہیبت اللہ

کے قریب رہے ہیں۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ملا محمد حسن اخوند

طالبان کی سابقہ حکومت میں اہم عہدوں پر
کام کرچکے ہیں،

انہیں پہلے وزیر خارجہ بنایا گیا اور جب ملا محمد ربانی وزیراعظم

تھے تو انہیں نائب وزیراعظم بنایا گیا۔

ملا عبدالغنی المعروف ملا برادر کون ہیں انکی زندگی پر ایک نظر۔۔۔

ملا عبدالغنی برادر المعروف ملا برادر 1968 میں افغانستان کے

صوبے ارزوگان میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق افغانستان کے انتہائی

بااثر پوپلزئی قبیلے سے ہے، وہ کئی سال افغان صوبے قندھار

میں مقیم رہے اور طالبان دور میں ہرات کے گورنر رہنے کے علاوہ

طالبان فوج کے سربراہ بھی رہےملا عبدالغنی برادر 1994 میں افغانستان

میں قائم ہونے والی تنظیم طالبان کے بانی قائدین میں سے ہیں۔

سنہ 1998 میں جب طالبان نے افغان صوبے بامیان پر قبضہ کیا

تو اس وقت ملا عبدالغنی برادر ہی طالبان کے کمانڈر تھے۔

ملا عبد الغنی برادر افغانستان میں طالبان کارروائیوں کی

نگرانی کے علاوہ تنظیم کے مالی امور بھی چلاتے تھے۔

ملا برادر طالبان رہنما ملا محمد عمر کے سب سے قابل اعتماد سپاہی اور نائب تھے،

2001 میں جب طالبان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو اُس وقت وہ نائب وزیر دفاع تھے،

افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد وہ نیٹو افواج کے خلاف جنگ کے سربراہ بن گئے۔

فروری 2010 میں پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی میں

ملا برادر کو پاکستان سے گرفتار کیا گیا اور افغان حکومت سے امن

مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اُنہیں 2018 میں رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے بعد انہیں قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کا سربراہ مقرر

کیا گیا جہاں اُنہوں نے دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی قیادت کی۔

2020 میں امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ملا عبدالغنی برادر نے

ہی کیے تھے جس کے بعد افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔

مولوی عبدالسلام حنفی حنفی کون ہیں انکی شخصیت کا سرسری جائزہ

مولوی عبدالسلام حنفی افغانستان کے
شہری اور ان کے

بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ بنیادی طور جوز جان صوبے کے ازبکوں

میں سے تعلق رکھتے ہیں، پیشے کے لحاظ سے عالم
اور ایک منجھے

ہوئے سیاست دان بھی ہیں مولوی عبدالسلام حنفی طالبان کے ایک افغان

سینئر رہنماء ہیں اور قطر دفتر میں مزاکراتی
ٹیم کے مرکزی

رکن ہیں، وہ طالبان حکومت میں نائب وزیر تعلیم کے طور پر بھی خدمات

سر انجام دے چکے ہیں انہوں نے کراچی سمیت
مختلف دینی مدارس

میں بھی تعلیم حاصل کی, عبد الاسلام حنفی کچھ عرصہ سے کابل

یونیورسٹی میں تدریس بھی کر رہے تھے۔ وہ شروع سے ہی طالبان تحریک

کا حصہ رہے ہیں۔ تاہم ، وہ عام طور پر طالبان میں عالم دین کے نام سے جانا جاتا ہے۔

Leave a Reply