افغان طالبان کا عبوری حکومت میں غیر طالبان ارکان شامل کرنے کا عندیہ

افغان طالبان کا عبوری حکومت میں غیر طالبان ارکان شامل کرنے کا عندیہ

Spread the love

کابل، اسلام آباد، واشنگٹن، جینوا (جتن انٹرنیشنل نیوز) افغان طالبان عندیہ

افغانستان کی عبوری حکومت میں غیرطالبان اراکین کو بھی شامل کیے جانے کا

امکان ہے، جبکہ رواں یا اگلے ماہ باضا بطہ حکومت کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

افغاں حکومت کے قائم مقام وزیرِ داخلہ ملا سراج الدین حقانی نے کہا ہے ہم نے

جو معافی دی وہ سیاسی نہیں بلکہ شرعی قانون ہے، معافی نے ہمارے دلوں سے

بدلے کی سوچ نکال دی ہے، افغانستان میں طالبان تحریک کی جانب سے دوبارہ

سے ملک کا کنٹرول سنبھالے ایک ماہ کے قریب گزر چکا ہے تاہم تحریک ابھی

تک افغان مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر ہاتھ رکھنے میں کامیاب نہیں

ہو سکی۔ ذخائر کا اندازہ تقریبا 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ امریکہ نے اگست میں

افغان حکومت کے سقوط کے بعد مرکزی بینک کے اثاثوں کا بڑا حصہ منجمد کر

دیا جس کی مالیت 9.5 ارب ڈالر ہے۔ اس کا کچھ حصہ نیویارک میں محفوظ ہے۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

پاکستان کا ایک اور سی ون 30 طیارہ امدادی سامان لے کر افغانستان کے شہر

خوست پہنچ گیا، امدادی سامان میں آٹا، کوکنگ آئل اور ادویات شامل ہیں۔ امریکہ

نے طالبان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے انہوں نے فوجی انخلا کے بعد ملک

سے نکلنے والے امریکی شہریوں کے پہلے انخلاء میں سنجیدہ اور پیشہ ورانہ

رویہ اپناتے ہوئے تعاون فراہم کیا، تاہم واشنگٹن حکومت نے افغانستان میں طالبان

کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کرنے کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا ہے

جب اس کے مفاد میں ہو گا وہ طالبان کے ساتھ بات کرے گا، اقوام متحدہ نے

پرامن مظاہرین پر طالبان کے سخت ردعمل بشمول ان پر گولیاں چلنے پر سخت

تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تقریبا تمام افغان گھرانوں کو ضرورت کے

مطابق خوراک دستیاب نہیں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ترجمان افغان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغان

عبوری حکومت میں غیر طالبان اراکین کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، طالبان کی

متعدد افغان رہنماؤں سے بات چیت جاری ہے، غیر طالبان اراکین کو اعلی ترین

عہدوں پر تعیناتی کا موقع مل سکتا ہے۔ رواں یا اگلے ماہ افغانستان میں باضابطہ

حکومت کا اعلان کیا جا سکتا ہے، اور معاملا ت طے پانے کے بعد چین سمیت

دیگر ممالک سے اعلی سطح کے وفود کو دعوت دی جائے گی۔ دریں اثناء افغاں

حکومت کے قائم مقام وزیرِ داخلہ ملا سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ ہم نے جو

معافی دی وہ سیاسی معافی نہیں بلکہ شرعی قانون ہے، معافی نے ہمارے دلوں

سے بدلے کی سوچ نکال دی ہے۔

کابل میں ہونے والے اعلی سطح کے اجلاس میں افغان حکومت کے قائم مقام

وزیرِ داخلہ ملاسراج الدین حقانی کا تعارف کرایا گیا۔ اجلاس میں افغانستان بھر

سے متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی، جبکہ قائم مقام وزیرِ داخلہ ملا سراج

الدین حقانی نے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا ہم اپنی زمین پر قبضہ ختم

کرکے اسلامی نظام چاہتے تھے جو اللہ تعالی نے ہمیں دیا، تمام پڑوسی ممالک

اور دنیا سے اسلامی اصولوں و قومی روایات کے تحت تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم

کسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتے، دوسرے بھی ہمارے معاملات میں

مداخلت نہ کریں۔ افغان عوام کی آرام دہ زندگی کی حفاظت و ترقی کی کوشش

کریں گے، مجاہدین اپنے رہنماؤں کی اطاعت کریں۔ سراج الدین حقانی نے مزید

کہا مالِ غنیمت اور دیگر مادی چیزوں اور عہدوں سے دھوکا نہ کھائیں، ہمارے

لوگ مظلوم تھے، ان کیساتھ بُرا سلوک نہ کریں۔ انہوں نے افغان حکام کو ہدایت

کی کہ سابق افسران سے متعلق نامناسب الفاظ استعمال نہ کریں، آپ افغان عوام

کے حکمران نہیں خادم ہیں، کسی کو تکلیف نہ پہنچائیں۔ ملا سراج الدین حقانی

نے شہریوں کو ہدایت کی کہ ایسے مسائل میں وہ حکام سے اپیل کریں، مجرموں

کو شریعت کے مطابق سزا ملے گی۔

افغانستان میں طالبان تحریک کی جانب سے دوبارہ سے ملک کا کنٹرول سنبھالے

ایک ماہ کے قریب گزر چکا ہے، تاہم تحریک ابھی تک افغان مرکزی بینک کے

زر مبادلہ کے ذخائر پر ہاتھ ر کھنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ ان ذخائر کا

اندازہ تقریبا 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ امریکہ نے اگست میں افغان حکومت کے

سقوط کے بعد مرکزی بینک کے اثاثوں کا بڑا حصہ منجمد کر دیا جس کی مالیت

9.5 ارب ڈالر ہے۔ اس کا کچھ حصہ نیویارک میں محفوظ ہے۔ مالی رقوم کے

بغیر طالبان کو مطلوب فنڈ حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ یہ صورتحال ان حالات سے

ملتی جلتی ہے جب ایرانی سخت گیروں کی جانب سے سال 1979ء میں اقتدار پر

قبضے کے بعد امریکہ نے کئی دہائیوں کے لئے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے

تھے۔

پاکستان کا ایک اور سی ون 30 طیارہ امدادی سامان لے کر افغانستان کے شہر

خوست پہنچ گیا ہے، امدادی سامان میں آٹا، کوکنگ آئل اور ادویات شامل ہیں،

پاکستانی حکومت اورعوام کی طرف سے افغان عوام کیلئے تحفہ بھجوا دیا گیا،

افغانستان میں پاکستانی سفیر منصوراحمد خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے سی 130 طیارے کے ذریعے امدادی

سامان کی تیسری کھیپ خوست پہنچ گئی، سامان میں آٹا، کوکنگ آئل اور ادویات

شامل ہیں، امدادی سامان خوست کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا۔

امریکہ نے طالبان کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے انہوں نے امریکی فوجی انخلا

کے بعد افغانستان سے نکلنے والے امریکی شہریوں کے پہلے انخلا میں سنجیدہ

اور پیشہ ورانہ رویہ اپناتے ہوئے تعاون فراہم کیا۔ امریکی قومی سلامتی کونسل

کی ترجمان ایمیلی ہارن نے قطر ایئرویز کی چارٹرڈ پرواز کے ذریعے کابل سے

دوحہ روانگی کو افغانستان میں نئی حکومت کا پہلا مثبت قدم قرار دیا اور کہا

طالبان نے سنجیدہ اور پیشہ ورانہ انداز میں ہمارے ساتھ معاملے کو آگے بڑھایا۔

دریں اثناء نیوز بریفنگ میں محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے افغانستان

میں طالبان کی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کرنے کے امکان کو رد کرتے

ہوئے کہا جب اس کے مفاد میں ہو گا وہ طالبان کےساتھ بات کرے گا۔ ایک نیوز

بر یفنگ میں محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا پاکستان نے افغانستان

کے بارے میں عالمی برادری کے خدشات کا اظہار کیا اور وہ گزشتہ 20 برس

کے فوائد کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے حالیہ وزارتی اجلاس میں امریکہ

اور جرمنی کی مشترکہ میزبانی میں افغانستان کے بارے میں اپنا موقف بتایا۔

ہمارے پاکستانی شراکت داروں سمیت وسیع پیمانے پر معا ہد ہ ہوا ہے کہ گزشتہ

20 برس کے فوائد کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جوبائیڈن انتظامیہ اور

طالبان کے مابین تعلقات یا بات چیت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا طالبان

حکومت یا ان کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرنا اور عملی طور پر کچھ کرنے کرنا

دو مختلف چیزیں ہیں۔ نیڈ پرائس نے کہا یقینی طور پر آپ نے ہم اور دوسری

حکومتوں سے سنا ہو گا کہ ہم قومی مفادات کی بنیاد پر طالبان سے بات چیت

کریں گے۔ افغانستان کے پڑوسیوں نے افغانستان میں انسانی صورتحال کے بگاڑ

کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے پر اتفاق کیا۔ نیڈ پرائس نے مزید کہا

یہ خاص طور پر افغانستان کی سرحد سے متصل ممالک کی جانب سے سختی

سے محسوس کیا جاتا ہے انسانیت کے اثرات خطے کے ان ممالک کے لئے شدید

ہو سکتے ہیں، اسی وجہ سے امریکہ افغانستان کی حکومت کیلئے اپنی دو طرفہ

امداد کا جائزہ لے رہا ہے اور افغانستان کے لوگوں کو انسانی امداد فراہم کرتا رہا

ہے۔ یہ ایک پائیدار عزم ہے، جسے نہ صرف امریکہ بلکہ خطے کے دیگر

ممالک نے بہت زیادہ محسوس کیا۔

اقوام متحدہ نے پرامن مظاہرین پر طالبان کے سخت ردعمل بشمول ان پر گولیاں

چلنے پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تقریبا تمام افغان گھرانوں کو

ضرورت کے مطابق خوراک دستیاب نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے

دفتر کی ترجمان روینہ شامداسانی نے کہا ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ

پرامن مظاہرین اور احتجاج کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے خلاف

طاقت کا استعمال اور ان کی گرفتاری کو فوری طور پر بند کریں۔ انہوں نے کہا

اسلحہ کبھی استعمال نہیں کیا جانا چاہیے سوائے اس وقت جب انتہائی خطرہ ہو۔

افغان طالبان عندیہ ، افغان طالبان عندیہ ، افغان طالبان عندیہ ، افغان طالبان عندیہ

افغان طالبان عندیہ ، افغان طالبان عندیہ ، افغان طالبان عندیہ ، افغان طالبان عندیہ

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply