afghan war

افغان سکیورٹی فورسز پسپا، طالبان کا صوبہ فراہ کے دارالحکومت پر بھی قبضہ

Spread the love

افغان سکیورٹی فورسز پسپا

کابل،واشنگٹن(جے ٹی این آن لائن نیوز) افغانستان میں طالبان نے نمروز، جوزجان، تخار، سرپل،

قندوز اور سمنگان کے بعد فراہ کے صوبائی دارالحکومت کا کنٹرول بھی حکومتی سکیورٹی فورسز

سے حاصل کرلیا جبکہ دیگر کئی صوبوں کے 100 سے زائد اضلاع پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان میں حکومتی فورسز طالبا ن کیساتھ جاری لڑائی میں پسپا ہو گئیں،

طالبان نے ایک اور صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کر لیا جس کے بعد طالبان کے زیر کنٹرول

صوبائی دارالحکومتوں کی تعداد سات ہو گئی ہے، جن میں فرا کے علاوہ ایبک، قندوز، سرِ پْل، تالقان،

شبرغان اور زرنج شامل ہیں ۔ طالبان نے فراہ صوبے کے گورنر ہاؤس پر قبضہ کر لیا، شمالی

صوبے بدخشان کے صدر مقام فیض آباد پر بھی 6 اطراف سے دھاوا بول دیا ہے۔ہلمند، قندوز

ائیرپورٹ اور لشکر گاہ سمیت درجنوں شہروں میں فریقین کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے، ہلمند

اور نجراب میں امریکی طیارو ں نے بھی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ دوسری طرف افغانستان

میں طالبا ن کی پیش قدمی جبکہ مزارشریف اور پل خمری میں شدید لڑائی جاری ہے۔اْدھر افغان شہر

مزار شر یف کی طرف طالبان کی پیش قدمی کی وجہ سے بھارت نے شہر میں اپنا قونصلیٹ بندکرنے

اور اپنے شہر یوں کو بھار ت واپس جانے کی ہدایت کر دی ہے۔مزار شریف میں تعینات بھارتی

قونصلیٹ جنرل نے ٹویٹ میں کہا ہے مزار شریف اور اس کے ارد د گرد موجود بھارتی شہری فوری

طور پر اپنے نام اورپاسپورٹ نمبر واٹس نمبر پر بھجوا دیں ،انہیں خصوصی پرواز کے ذریعے آج

رات ہی دلی لے جایا جائیگا۔بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت تقریبا ایک ہزار

سے 15 سو کے قریب بھارتی افغانستان میں مقیم ہیں۔مزید برآ ں افغانستان میں قتل ہونے کے ڈر سے

ائیرفورس کے متعدد پائلٹس نے نوکریاں چھوڑ دی ہیں، کیونکہ افغان حکومت ان کی زندگی کے تحفظ

کی یقین دہانی نہیں کراسکی ، اقوام متحدہ نے کہاہے افغانستان میں گزشتہ 3روز کے دوران جھڑپوں

میں 27بچے ہلاک اور 136سے زائد زخمی ہوئے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے

یونیسیف کی جا نب سے جاری بیان میں کہا گیا صرف قندھار میں لڑائی کے دوران 20 بچے مارے

گئے جبکہ 130کے قریب زخمی ہوئے، اس کے علاوہ خوست اور پکتیا میں 7بچے جان سے گئے ،

اس کے علاوہ مسلح گروہوں کی جانب سے کم عمر بچوں کو تیزی سے اپنے ساتھ شامل کیا جارہا ہے

جو باعث تشویش ہے۔ادھرامریکی صدر جوزف بائیڈن نے کہا ہے اپنے ملک کا دفاع کرنا افغان فوج

کی ہی ذمہ داری ہے،امر یکہ کا افغانستان میں فوجی مشن 31 اگست کو مکمل طور پر اختتام کو پہنچ

جائیگا اور افغانستان کے عوام کو اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہو گا۔ میں امریکیوں کی

ایک اور نسل کو 20 سا لہ جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔دریں اثناء پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے

کہا ہے کہ افغانستان میں جاری صورتحال سے امریکہ کو بہت تشویش لاحق ہے تاہم افغان فوج کے

پاس طالبان سے جنگ کرنے کی پوری صلاحیت ہے،کیونکہ یہ انکی اپنی فوج اپنے صوبائی

دارالحکومت ، اپنے لوگ ہیں جن کا انہوں نے دفاع کرنا ہے، اور یہ سب ان کی قیادت پر ہے کہ وہ

اس موقع پر کیسی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے مناسب دفاع نہ ہونے

کی صورت میں امریکی فوج کے کردار سے متعلق سوال پرترجمان پینٹاگون نے کہا اس بارے میں

ابھی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ادھرافغانستان میں امریکہ کی جنگ کے دوران امریکی فوج کو رسد کی

امداد فراہم کرنیوالے غیر ملکی ٹھیکیدار اپنے گھروں کو پہنچنے کی بجائے کورونا وبا کے سبب بین

الاقوامی سفری پابندیوں کی وجہ سے دبئی میں پھنس گئے ہیں ۔ ان ٹھیکیداروں میں چند کا تعلق دنیا

کے غریب ترین ممالک سے ہے، جنہوں نے برسوں بحیثیت باورچی، صفائی کا کام کرنیوالے،

تعمیراتی کارکن اور تکنیکی کا موں میں مدد کرنیوالوں کے امریکی فوجی اڈوں پر اپنی خدمات انجام

دیں۔ دبئی کے ہوٹلوں میں پھنسے یہ مسافر اب کورونا وبا کی وجہ سے بین الاقوامی سفری قوائد و

ضوابط اور سختیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں قید جیسی صورتحال کا سامنا ہے۔دریں اثنا امریکی

ملٹری سینٹرل کمانڈ نے سکیورٹی کے نجی ٹھیکیداروں کے حوالے سے کسی قسم کا بیان دینے سے

انکار کرتے ہوئے اس سلسلے میں اٹھنے والے تمام سوالات کی ذمہ داری کمپنیوں کو سونپ دی ہے ۔

دوسری طرف جرمن وزیر دفاع آنیگریٹ کرامپ کارین بارنے طالبان کی پیش قدمی کی خبروں پر رد

عمل دیتے ہوئے کہاہے کہ قندوز سمیت پورے افغانستان سے ملنے والی اطلاعا ت بہت ہی تکلیف دہ

اور تلخ ہیں۔ ہم نے وہاں اپنے اتحادیوں کیساتھ جنگ لڑی اور جرمن فوجی بھی اس جنگ میں ہلاک

ہوئے، تاہم انہوں نے افغانستان میں جرمن افواج کی تعیناتی کے دوران بہت سے مثبت پہلوں کا ذکر

کرتے ہوئے کہا ہم بظاہر جو کچھ بھی کرنے میں ناکام رہے وہ افغانستان میں طویل مدتی مثبت تبدیلی

تھی۔ مستقبل میں اب جب کبھی بھی بیرون ملک فوج تعینات کرنی ہو تو ہمیں اس سے سبق لینے کی

ضرورت ہے ، انہوں نے افغانستان میں دوبارہ فوج تعینات کرنے کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا

اورسوال کیا کیا معا شرہ اور پارلیمان جرمن فوج کو وہاں بھیجنے کیلئے کیلئے تیار ہے؟۔

افغان سکیورٹی فورسز پسپا

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply