0

افغان حکومت غیر قانونی تو طالبان جائز کیسے؟ اشرف غنی

Spread the love

افغان صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر امن مذاکرات پر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے جنگ کی کنجیاں اسلام آباد، کوئٹہ اور راولپنڈی میں ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کو سرحد پار عسکری کارروائیوں کےلئے جنت قرار دےدیا،فغان حکومت غیر قانونی ہے تو طالبان کیسے جائز ہوئے، مکہ اور انڈونیشیا کے علما کے مطابق خود کش حملے اور شہریوں کا قتل جائز نہیں، تو پھر طالبان کیسے جائز ہوئے۔ گزشتہ روز صدر اشرف غنی نے 17سالہ افغان جنگ کے خاتمے کےلئے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونےوالے مذاکرات کے تناظر میں یہ بات امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے ا فغان امن عمل زلمے خلیل زاد کی جانب سے طالبان کےساتھ ہونےوالی بات چیت پر مشاورت کےلئے کابل کے دورے کے موقع پر کہی۔واضح ر ہے 2017ءمیں پاکستان نے افغانستان کےساتھ 2500کلومیٹر طویل متنازع سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کیا تھا تاکہ عسکریت پسند و ں کی دخل اندازی کو روکا جاسکے۔یہ بھی یاد رہے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونےوالے براہِ راست مذاکرات 2015میں ختم ہوگئے تھے جس کے بعد سے طالبان دوبارہ اپنی اسلامی حکومت نافذ کرنے کےلئے غیر ملکی افواج کو ملک سے باہر نکالنے کےلئے لڑ رہے ہیں۔
افغان صدر،اشرف غنی، طالبان، امن عمل،

Leave a Reply