افغان ایشو، اردوان عمران خان، پاکستان برطانیہ وزرائے خارجہ میں رابطہ

افغان ایشو، اردوان عمران خان، پاکستان برطانیہ وزرائے خارجہ رابطہ

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن پاکستان نیوز) افغان ایشو اردوان عمران

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کی صورتحال پر قومی سلامتی کونسل کا

اجلاس آج طلب کرلیا ہے جس میں وفاقی وزراء سمیت عسکری حکام بھی شرکت

کریں گے، دریں اثناء وزیراعظم عمران خان کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے

ٹیلی فون کیا اور افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، اس

ضمن میں وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو کے

دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا افغانستان سے بین الاقوامی سفارتی عملے

کے کابل سے انخلاء میں تعاون کر رہے ہیں، قومی سلامتی کونسل کے اجلاس

میں افغان صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اعلامیےکے مطابق دونوں رہنماؤں کے

مابین آج قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد صورت حال پر دوبارہ

مشاورت کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے ترک صدر سے

بات چیت کے دوران افغان تنازع کے سیاسی حل کے لیے کوششیں جاری رکھنے

کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

=-،-= افغانوں نے اپنا مستقبل خود متعین کرنا ہے، شاہ محمود

دوسری طرف وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارا افغانستان میں

کوئی فیورٹ نہیں، افغانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ پڑوسی ملک

افغانستان کی بدلتی صورتحال پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی

نے کہا طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ عالمی رائے عامہ اور زمینی

حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ افغان مسئلہ

بات چیت کے ذریعے حل ہو۔ بھارت بھی خطے کی بہتری کیلئے منفی کردار سے

گریز کرے۔ کابل میں سفارت خانہ کام کر رہا ہے، کوئی پاکستانی پھنسا ہوا ہے تو

واپس لانے کیلئے سہولت فراہم کریں گے۔ اس سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمود

قریشی اور برطانوی ہم منصب ڈومینک راب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا

جس میں افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صوتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا-

=-،-= افغان سکیورٹی فورسز کا ریت ثابت ہونا حیران کُن

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا

اظہار کیا۔ انھوں نے ا یک ٹویٹ میں کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ بین الاقوامی

برادری متحد ہو کر طالبان کو باور کروائیں کہ تشدد کا اختتام ہونا چاہیے اور

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ

پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے افغان فریقین کے رویوں سے

موجودہ صورتحال پیدا ہو گی، افغان سیکیورٹی فورسز ریت کی دیوار ثابت ہوئی،

جس پر عالمی برادری حیران ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابل سے سفارتکاروں کے

انخلا میں سہولت فراہم کر رہے ہیں اور افغان صورتحال پر مسلسل نظر رکھے

ہوئے ہیں ہم افغانستان میں خانہ جنگی کا نیا دور شروع ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

شاہ محمود قریشی نے برطانوی ہم منصب سے کہا ہے کہ افغانستان میں امن و

استحکام کی واپسی کا پاکستان سے زیادہ کوئی ملک خواہاں نہیں ہو سکتا، افغان

فریقین کے بے لچک رویوں سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی- افغان رہنما امن اور

مفاہمتی عمل کے لیے عالمی برادری کی واضح حمایت کا فائدہ اٹھائیں، عالمی

برادری کا افغان رہنماؤں کے ساتھ رابطہ استوار رکھنا انتہائی ناگزیر ہے-

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

مذاکرات کے ذریعے پرامن تصفیہ کے سوا آگے بڑھنے کاکوئی راستہ نہیں۔ شاہ

محمود قریشی نے کہا کہ امن اور مفاہمت کی راہ اپنانے کے لئے تمام فریقین پر

زور دیتے رہیں گے، افغانستان میں خانہ جنگی کے ہمسایہ ممالک کے لئے نہایت

منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے، شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ

افغانستان کے مسئلے پر دنیا اور پاکستان ایک پیج پر ہیں کہ مسئلے کو مذاکرات

کے ذریعے حل کیا جائے، موجودہ حالات افغانستان کی قیادت کی آزمائش کے

لمحات ہیں، عاشورہ کے بعد میں وزیراعظم کی اجازت سے افغانستان کے تمام

ہمسایہ ممالک سے رابطہ کروں گا، ہمیں افغانستان کی بہتری مقصود ہے، ہمارا

کوئی ایجنڈا نہیں، اور ہے تو صرف امن و استحکام اور افغانستان کی یکجہتی و

خوشحالی ہے، موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار مثبت رہے گا، افغانستان

کے مستقبل کا فیصلہ افغانوں نے کرنا ہے، بھارت الجھانے کی کوشش نہ کرے،

شر پسندعناصر محرم الحرام میں امن خراب کرنے کے کوشش کر سکتے ہیں،

ضلعی انتظامیہ و پولیس مکمل چوکس ہو کر سیکورٹی پلان پر عملدرآمد کرائے۔

افغان ایشو اردوان عمران ، افغان ایشو اردوان عمران ، افغان ایشو اردوان عمران

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply