Newark, FM Shah Mehmood Qurashi Talks With Media

افغانستان کا امن واستحکام ہمارے مفاد میں ہے، شاہ محمود

Spread the love

افغانستان ہمارے مفاد میں

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کا امن

و استحکام ہمارے مفاد میں ہے، افغانستان میں دیرپا قیام امن کیلئے افغانستان کے حوالے سے علاقائی

و عالمی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، افغانستان کے قریبی ہمسایوں بالخصوص پاکستان

کیلئے یہ خدشات کء گنا زیادہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانوں کی معاشی معاونت کو یقینی

بنایا جائے، ہمارے وسائل مزید مہاجرین کا بوجھ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، عالمی

برادری کو افغان شہریوں کو ترجیح دینا ہو گی۔ بدھ کو یہاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے

امریکہ اور جرمنی کی میزبانی میں افغانستان کے حوالے سے منعقدہ ورچوئل اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے انہوںنے کہاکہ افغانستان کے حوالے سے منعقدہ اس بروقت اجلاس

میں مدعو کرنے پر سیکرٹری آف اسٹیٹ، انتھونی بلکن اور جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس کا شکر

گزار ہوں، پاکستان,ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے، گذشتہ چالیس سالوں سے افغانستان میں جاری جنگ

و جدل سے شدید متاثر ہوا۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان کا امن و استحکام ہمارے مفاد میں ہے، ہم

افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے حوالے سے، صدر بائیڈن کے 31 اگست 2021 کو دیے گئے

پیغام کو سراہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم بھی یہی سمجھتے ہیں کہ آج افغانستان کی صورتحال یکسر بدل

چکی ہیں، طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کا اعلان کر دیا گیا ہے، پاکستان توقع رکھتا ہے کہ

گزشتہ بیس سالوں میں حاصل کی گئی سماجی و اقتصادی ترقی کے فوائد کو محفوظ بنانے کیلئے

تحرک کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان میں دیرپا قیام امن کیلئے افغانستان کے حوالے سے

علاقائی و عالمی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، پاکستان، افغانستان کا قریبی ہمسایہ ہونے

کے ناطے اس صورت حال سے دستبردار نہیں ہو سکتا، اب میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر

روشنی ڈالنا چاہوں گا۔انہوںنے کہاکہ افغانستان، میں ایک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، افغانستان میں

قحط جیسی صورتحال، خوراک کی کمی اور بڑھتے ہوئے افراط زر کے حوالے سے رپورٹس ہم سب

کے سامنے ہیں، اطمنان بخش بات یہ ہے کہ افغان حکومت کے خاتمے کے بعد افغان مہاجرین کی

جس یلغار کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا وہ بظاہر ٹل گیا ہے، ہمیں اس حوالے سے محتاط رہنے کی

ضرورت ہے کیونکہ معاشی بحران اس خطرے کو مزید بڑھا سکتا ہے، افغانستان کے قریبی ہمسایوں

بالخصوص پاکستان کیلئے یہ خدشات کء گنا زیادہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانوں کی

معاشی معاونت کو یقینی بنایا جائے۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان کے ساتھ ہمارے بارڈرز، افغانوں کیلئے

کھلے ہیں لیکن دنیا کو ہماری بساط کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے ، ہم پہلے سے ہی دستاویزی

اور غیر دستاویزی طور پر 4 ملین افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں، پاکستان ایک ترقی

پذیر ملک ہے جو کرونا جیسی عالمی وبا سے نبرد آزما ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے وسائل مزید

مہاجرین کا بوجھ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، عالمی برادری کو افغان شہریوں کو

ترجیح دینا ہو گی۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان کو اس کے غیر ملکی زخائر اور عالمی مالیاتی اداروں تک

رسائی نہ دینے سے ان کے مسائل کا تدارک نہیں ہو سکتا، یہ ہمارے اجتماعی مفاد میں ہے کہ ہم

معاشی مشکلات کے باعث افغانوں کو ہجرت کرنے کا موقع فراہم نہ کریں جو بصورتِ دیگر اپنے

ملک میں اطمینان سے رہ سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے کابل سے مختلف ممالک کے شہریوں

کو انخلاء میں بھرپور معاونت فراہم کی، پاکستان نے امریکہ کی درخواست پر بیرونی ممالک میں

منتقلی کے خواہش مند افغانوں کے ”ٹرانزٹ”کے بندوبست کیے، ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں توقع ہے کہ

افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند افغانوں اور غیرملکیوں کے محفوظ انخلاء کے وعدے کی مکمل

پاسداری کی جائے گی، کابل ہوائی اڈے کا فعال رہنا ضروری ہے، انہوںنے کہاکہ اس طرح ہمارے

باڈرز پر موجود دباؤ میں کمی لانے میں مدد ملے گی، ہم سب جانتے ہیں کہ یہ اجلاس 11 ستمبر کے

حملوں کو بیس سال مکمل ہونے سے قبل منعقد ہو رہا ہے، یہ افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے

حوالے سے ہمارے مشترکہ مفاد کی یاد دلاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان سے بڑھ کر کوئی ملک ایسا

نہیں جو چاہتا ہو کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کی پھر سے آماجگاہ نہ بنے، دہشت گردی کے

خلاف جنگ میں ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی اور ہمارے ملک کو 150 ارب ڈالر کا معاشی

نقصان اٹھانا پڑا، ہمیں تشویش ہے کہ کہیں القاعدہ، آئی ایس آئی ایس ـ کے،؛ بی ایل اے، اور تحریک

طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروہ، افغانستان کی سرزمینِ کو اپنے مضموم مقاصد کیلئے استعمال

نہ کریں، یہ صورت حال افغانستان میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کی ضرورت کو واضح

کرتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ صرف ایسی مضبوط حکومت ہی افغانستان پر اپنی عملداری قائم کر سکتی

ہے اور عالمی برادری کے ساتھ، ان دہشت گردوں کو جگہ نہ دینے کے حوالے سے معاونت کر

سکتی ہے جو ہمارے ممالک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ، لہذا ضروری ہے کہ ایسا سیاسی

خلائ پیدا نہ ہونے دیا جائے جس میں عدم تحفظ اور عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہو۔انہوںنے کہاکہ

عالمی برادری کی جانب سے افغانستان کی مستقل معاونت ہی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے

ہماری بہترین سرمایہ کاری شمار ہو سکتی ہے

افغانستان ہمارے مفاد میں

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply