halat e hazra jtnonline

افغانستان کی سول وار خطے کے لئے تباہ کن ہو گی

Spread the love

(تحریر:—سینئر صحافی و تجزیہ کار/ سید اظہر علی شاہ المعروف بابا گل) افغانستان کی سول وار

Joirnalist and analyist Sayed Azher Ali Shah

یہ بات طے ہے اگر افغانستان میں حالات بگڑتے ہیں، تو سب سے پہلے پاکستان

اس سے بری طرح متاثر ہو گا، اس کے بعد چین کیلئے بھی مشکلات میں اضافہ

ہو سکتا ہے، اب تک کی صورتحال کے مطابق افغانستان میں طالبان کی حکومت

کو مستحکم ہونے میں کئی سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے، ان مشکلات

میں سرفہرست عوام کی بھوک کا مسلہ ہے، مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی

خبروں کے مطابق افغانستان میں بھوک سے کمسن بچوں کی اموات کا سلسلہ

شروع ہو چکا ہے- افغانستان کی 75 فیصد آبادی کو صرف ایک وقت کی روٹی

میسر ہے، طالبان کی حکومت اس مسئلے کے حل میں فی الحال تو ناکام نظر آ

رہی ہے، بھوک کے بعد صحت کی سہولیات اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی

سمیت تنخواہوں کی عدم ادائیگی سنگین مسائل میں سرفہرست ہیں-

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

افغانستان کے عوام فی الحال عدم تحفظ کا بھی شکار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ

یہ نظر آتی ہے کہ افغان قیادت اور ان کی فورس ایک پیج پر نہیں ہے، طالبان

فورس کی طرف سے مختلف اضلاع میں کئی ایسی کارروائیاں ہوئی ہیں جو ان

کی اعلی قیادت کی طرف سے ممنوع قرار دی گئی ہیں، ان کارروائیوں میں عام

شہریوں اور ہتیار پھینکنے والے سرکاری فوجیوں کا قتل اہم ہے، جس پر اندرون

اور بیرون ملک سے طالبان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، افغان حکومت اسوقت

داعش کے خلاف برسر پیکار ہے، مختصر عرصے کے دوران داعش نے حملے

کر کے کئی طالبان اور ان کے کمانڈروں کی جان لی ہے، یہاں تک کے گزشتہ

روز ننگرہار کے ایک ضلعی گورنر بھی داعش کا نشانہ بنے، نائب وزیر

اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد کی والدہ کی فاتحہ خوانی کی تقریب پر حملہ یہ بات ظاہر

کر رہا ہے، کہ وہاں پر داعش نے اپنے قدم کس حد تک جما رکھے ہیں-

=ضرور پڑھیں= افغانستان میں انسانی المیے کا خطرہ، ہمسایہ ممالک کی ذمہ داریاں

طالبان کی جانب سے بھی داعش کے کئی مراکز اور نیٹ ورک تباہ کرنے کے

علاوہ ان کے کمانڈرز اور کارکنوں کو مارنے کے دعوے کر رہے ہیں، یہ جنگ

ابھی جاری ہے اور کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ جنگ کتنا عرصہ

جاری رہے گی اور اس کا انجام کیا ہو گا، مگر اس تلخ حقیقت سے چشم پوشی

نہیں کی جا سکتی کہ افغانستان میں اگر خانہ جنگی (سول وار) شروع ہو گئی تو

یہ خطے کے لئے تباہ کن ثابت ہو گی، خصوصا ” پاکستان ” اس صورتحال سے

سب سے زیادہ متاثر ہو گا، اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں

اپنے مفادات کو دیکھنے والے ممالک جن میں چین، روس، پاکستان، قطر، ایران

ترکی قابل ذکر ہیں، وہ انسانی بنیادوں پر خوردنی اجناس کی امداد میں نہ صرف

اضافہ کریں، بلکہ اس کی تقسیم اور مستحق لوگوں تک رسائی میں وہاں کی

انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون بھی کریں ورنہ وہاں عوام کی یہ بھوک بغاوت

میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

افغانستان کی سول وار ، افغانستان کی سول وار ، افغانستان کی سول وار

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply