World-Bank

عالمی بینک نے افغانستان کی امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا

Spread the love

افغانستان کی امداد بند

نیویارک(جے ٹی این آن لائن نیوز) ورلڈ بینک نے افغانستان کے لیے امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

افغانستان میں ورلڈ بینک کے دو درجن سے زائد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔غیرملکی خبررساں

ادارے کے مطابق عالمی بینک نے کہاکہ طالبان کے کنٹرول کے بعد افغانستان کی صورتحال انتہائی

تشویش ناک ہے، صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق عالمی بینک افغانستان

کو 5.3 ارب ڈالر دے چکا ہے جس میں زیادہ تر امداد شامل ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ (یو

این)کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ ہم افغانستان میں کام جاری رکھیں گے۔

سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہکہ ہم افغانستان میں عملے کے تحفظ

اور افغان عوام کی مدد کیلئے جو ممکن ہوا کریں گے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہدنے کہا

ہے کہ میڈیا کو افغانستان میں کام کرنے کی مکمل اجازت ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان کے

دارالحکومت کابل میں موجود غیر ملکی صحافیوں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے افغان

طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے یہ بات کہی۔ذبیح اﷲ مجاہد کے ساتھ عبدالقہار بلخی، سردار

شکیب اور مولوی سعدالدین بھی موجود تھیجن کے ہمراہ انہوں نے صحافیوں کے مسائل بھی سنے۔اس

موقع پر افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے کہا کہ جب حکومت بن جائے گی تو صحافیوں

کو نقل و حرکت کی سہولت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ صورتِ حال ابھی واضح نہیں ہے، آپ لوگ

محتاط ہو کر فلم بندی کریں۔ترجمان طالبان نے مزید بتایا کہ صحافیوں کی سہولت کے لیے 3 رکنی ٹیم

بھی تشکیل دے رہے ہیں۔ذبیح اﷲ مجاہد کا یہ بھی کہنا تھا کہ صحافی دنیا کو افغانستان کی اصل

تصویر دکھائیں، 10 دن پہلے کی سیکیورٹی کی صورتِ حال کا آج سے موازنہ بھی کریں۔طالبان نے

افغانستان پر قبضے کے بعدعبوری کابینہ کی تشکیل کے لیے مشاورت تیز کردی ہے ‘طالبان کے

ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد کو وزارت اطلاعات اور وزیر ثقافت کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ہے.

افغان ذرائع ابلاغ نے ذرائع کے حوالے سے میڈیارپورٹس میں بتایا ہے کہ محمد نبی المروی کو افغان

صوبے خوست کا گورنر تعینات کرنے کا بھی امکان ہے ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے

فوجی کمیشن کے سابق سربراہ عبدالقیوم ذاکر کو افغانستان کا وزیر دفاع بنانے کا امکان ہے،تاہم

طالبان کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے.اقوام متحدہ کی انسانی حقوق

کونسل کی سربراہ مشیل بیچیلیٹ نے کہا ہے کہ طالبان کا خواتین سے سلوک ایک بنیادی سرخ لکیر

ہونا چاہیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مشیل بیچیلیٹ نے انسانی حقوق کونسل کے ہنگامی اجلاس سے

خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کی

ضرورت ہے۔ طالبان کی جانب سے سنگین خلاف ورزیوں کی مصدقہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کونسل کا ہنگامی اجلاس پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی درخواست پر

بلایا گیا تھا۔برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہاہے کہ افغانستان میں دیگر افراد کے انخلا

کیلئے آخری لمحہ بھی کار آمد بنائیں گے۔ ڈومینک راب نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ افغانستان سے

تقریبا تمام برطانوی شہریت رکھنے والے افراد کا انخلا ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کو

دوبارہ فعال دیکھنا چاہتے ہیں،ہم نے طالبان کے کنٹرول کے بعد سے اب تک 9 ہزار سے زائد افراد

کو برطانیہ پہنچایا ہے۔دوسری جانب فرانسیسی وزیر برائے یورپی امور کاکہنا تھا کہ قوی امکان ہے

افغانستان سے انخلا کا فرانسیسی آپریشن جمعرات تک ختم ہو جائے گا۔فرانس نے کہاہے کہ امریکہ

کی جانب سے افغانستان سے اپنے فوجیوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع سے انکار کے بعد وہ

جمعرات سے افغانستان کے دارالحکومت کابل سے لوگوں کے انخلا کا عمل روک سکتا ہے۔غیرملکی

خبررساں ادارے کے مطابق یورپی امور کے فرانسیسی وزیر کلیمنٹ بیون نے بدھ کو خبردار کیا اس

بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان کا ملک انخلا کی کارروائی جمعرات سے روک سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ

نے کہاہے کہ رواں برس جن افغان شہریوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے ان میں سے 60 فیصد

کے قریب بچے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق یو این اوچا کے دفتر سے جاری ہونے والے اعدادوشمار

میں بتایاکہ مئی سے اب تک چار لاکھ سے زیادہ افغانوں کی بطور پناہ گزین رجسٹریشن کی گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق رواں برس اپنا گھر بار چھوڑنے والے افغانوں کی کل تعداد ساڑھے پانچ لاکھ

کے قریب پہنچ چکی ہے۔افغانستان میں نیٹو کے ایک سفارت کار نے کہا ہے کہ ہمسایہ ممالک کو اپنی

افغان شہریوں کے لیے اپنی سرحدیں کھول دینی چاہییں تاکہ زیادہ سے زیادہ پناہ گزین وہاں سے نکل

سکیں۔کابل میں موجود سفارت کار نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایاکہ ایران، پاکستان اور

تاجکستان کو پروازوں کے ذریعے یا زمینی راستوں سے اور لوگوں کو نکالنا چاہیے۔فلاحی اداروں

کے مطابق افغانستان کو طالبان کے قبضے کے دوران انسانی بحران کا سامنا کرنا ہو سکتا ہے۔نیٹو

کے سفارت کار کے مطابق کئی بین الاقوامی امدادی ادارے اپنے افغان کارکنوں کو ہمسایہ ممالک

پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ کے مطابق ان کے پاس

ایسی اطلاعات ہیں کہ طالبان افغانستان میں سنگین جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں جن میں ہتھیار ڈالنے

والے افغان شہریوں اور فوجیوں کا قتل بھی شامل ہے۔

افغانستان کی امداد بند

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply