Kud Kalami by Journalist Imran Rasheed Khan

افغانستان کا مستقبل ، پَر پھیلائے ہولناک بحران اور جی ٹونٹی

Spread the love

افغانستان کا مستقبل

پندرہ اگست 2021ء کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں جب نئی

عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا، تو اسوقت پورے ملک میں خوشی کا

سماں تھا جس کا اظہار روایتی انداز میں چھوٹے، بڑے ہتھیاروں سے ہوائی

فائرنگ اور دیگر مختلف طریقوں سے کیا گیا- افغان طالبان کیساتھ ساتھ ان کے

حامی عوام نے جہاں بھرپور خوشی منائی، وہیں افغان بارڈر کے پار پاکستان کے

صوبہ خیبر پختونخوا میں انتہائی مسرت کا اظہار دیکھنے کو ملا- اُس وقت کی

موصولہ اطلاعات کے مطابق کے پی کے صوبہ کے بعض مقامات پر کافی بڑے

جشن کی تقریبات کا بھی انعقاد کیا گیا، خوشی میں کھانے پلانے کی محافل بھی

جسمیں ،کچھ نے اسے کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی بڑی فتح قرار دیتے ہوئے

بارگاہِ الٰہی میں شکرانے کے نوافل ادا کئے، کیونکہ صوبہ کے پی کے میں

بسنے والے عوام کا افغان بھائیوں کیساتھ صرف پڑوسی ہونے تک کا تعلق نہیں

ہے بلکہ دونوں اطراف کے عوام کی آپس میں خونی رشتہ داریاں بھی ہیں، اسی

وجہ سے کہا جاتا ہے پاک افغان عوام کے دل ایک دوسرے کیساتھ دھڑکتے ہیں-

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاک سر زمین پر بسنے والے ایسے خاندان بھی موجود

ہیں جن کا لباس، زبان، رسم و رواج اور رہن سہن افغان قوم سے کسی طور بھی

ملتا جلتا نہیں، اور تو اور ان کے علم میں اب تک یہ بات ہے ہی نہیں کہ ان کی

شاخیں افغانستان کے کس قوم قبیلے سے ملتی ہیں اور ان کے آباؤ اجداد افغانستان

میں خشک سالی کے باعث ہجرت کر کے اُس وقت کے برصغیر پاک و ہند میں

داخل ہوئے، رہائش اختیار کی اور پھر اسی علاقے کے ہو کر رہ گئے، دیس بدلہ

تو آہستہ آہستہ بھیس اور زبان بھی بدلی، بزرگ اپنے خاندانوں کی ناگفتہ بے

صورتحال، حالات کی سختیاں لئے دنیا کے تماشے میں گم ہو گئے، گردش دوراں

نے دوبارہ پیچھے پلٹ کر دیکھنے دیا اور نہ ہی آنیوالی نئی نسل کو ان کا حسب

و نسب ( شجرہ ) بتا سکے، بعد ازاں ایسے خاندان خود کو آج بھی ہندوستانی،

گجراتی، پنجابی، کشمیری، پشاوری وغیرہ وغیرہ ہی سمجھتے ہیں اور اب انہی

اقوام و قبیلوں سے ان کی پہچان بن چکی ہے، اور ایسے کنبے، قبیلوں میں

اکثریت دو ہجرتیں کرنیوالے خاندانوں کی ہے-

=-،-= افغانسنتان سے خشک سالی کے باعث ہجرت کرنیوالے آج کہاں؟

ایسے ہی ایک خاندان سے راقم السطور کا بھی تعلق ہے، کیونکہ ہمارے قبیلے

نے بھی افغانستان میں خشک سالی، اجناس اور اشیائے خورونوش کے بحران

کے باعث افغان صوبہ غزنی سے ہجرت کر کے اپنی طاقت کے بل بوتے پر

پٹھان کوٹ میں پڑاؤ ڈالا، اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا، اس مقام پر آباد ہونے

کے پیچھے دو وجوہات تھیں، ایک یہ کہ یہ سرد اور دوسرا فطری تقاضوں کے

مطابق ہونا تھا- بچپن و جوانی میں بزرگوں سے سُنی روایات کے مطابق اسوقت

اس علاقے میں ہندؤوں اور سکھوں کی آبادیاں بھی تھیں، لیکن یہ لوگ مسافتوں

کے تھکے ہارے اس افغان قبیلے کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار نہ تھے، اس افغان

قبیلے کے سردار لکڑ دادا تھے جن کا نام محمد امیر خان تھا جن کی پانچ بیویاں

تھیں جو بے اولاد ہی وقفے وقفے سے دار فانی سے کوچ کر گئیں، تاہم چھٹی

بیوی کو اللہ تعالٰی نے عید کے روز ایک بیٹے سے نوازا جس کا نام محمد عید

خان رکھا گیا، جن کی اولاد آج راقم الحروف سمیت پشوری، لاہوری، فیصل آبادی

راجپوت اور رانا وغیرہ وغیرہ کہلاتی ہیں، تاہم بنیادی طور پر تعلق افغان صوبہ

غزنی سے ہے-

=-،-= انگریز سو سال آگے کی سوچتا ہے کی مشہور مثال اور افغانستان

ایک مشہور بات یہ بھی ہے کہ انگریز 100 پہلے سوچتا ہے، تقسیم ہند کے بعد

قیام پاکستان عمل میں آیا تو وہاں اُس وقت کے انگریز وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن

نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کا ایسا بیچ بو دیا جو کئی

دہایاں گزرنے کے باوجود آج تادم تحریر حل نہیں ہو پایا، جس کے باعث تقسیم

کے بعد پٹھان کوٹ سے یہ قبیلہ بخوشی دوسری ہجرت کر کے” لاالہ الااللہ ” کی

بنیاد پر قائم ہونیوالے وطن پاکستان پہنچ گیا، ابتداء میں اس قبیلے نے ڈسکہ سمیت

پنجاب کے چند دیگر علاقوں میں عارضی طور پر سکونت اختیار کی، یہ بھی کہا

جاتا ہے کہ اس دوسری ہجرت کے دوران قبیلے سے اس کے بعض خاندان بچھڑ

گئے، راستے جدا ہوئے تو کسی نے راستے میں ہی کسی مقام پر قیام کر لیا تو

کوئی کسی نئی منزل کی طرف روانہ ہوا گیا- افغانستان سے ہجرت کر کے پٹھان

کوٹ میں آباد ہونے والے باقی بچے دو یا دو سے زائد خاندانوں قیام پاکستان کے

بعد اپنی نئی منزل کا فیصلہ فطرت کی بنیاد پر کیا، چونکہ وہ افغانستان میں

پہاڑی علاقوں سے یہاں اور پٹھان کوٹ میں بھی پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے

رہائش اختیار کی اسی طرح انہوں نے دوسری ہجرت کے وقت بھی کسی پہاڑی

مگر آباد علاقے کو ترجیح دی اور پاک و ہند کی تقسیم کے بعد مسافت کی اذیتیں

و تکالیف کے باوجود وہ نہ رُکے اور اُسوقت کے شمالی مغربی سرحدی صوبہ

اور آج کے خیبرپختونخوا کے پہاڑوں میں گھری وادی پشاور میں مستقل سکونت

اخیتار کی-

=-،-= کیا جنگیں لڑنا، ہجرت کرنا افغان عوام کا مقدر ہے ؟

افغانستان کی موجود صورتحال پر تحریر کے وقت میرے ذہن میں یہ بات گردش

کر رہی تھی کہ افغان قوم ماضی میں بھی جنگ یا خوراک کے بحران کے باعث

ہجرت کرنے پر مجبور رہی اور آج دور جدید میں بھی اس غیور قوم کی قسمت

میں یہی لکھا نظر آ رہا ہے، افغان قوم کے دلوں کیساتھ ہمارے دل دھڑکنے کی

دلیل اپنی تحریر اپنا ” شجرہ ” شامل کر کے دے چکا ہوں، امیدا کرتا ہوں افغان

طالبان کو میری یہ تحریر ناگوار نہیں گزرے گی، کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت

ہے، جس سے راقم سطور کے اباؤ اجداد میں متاثر ہوئے، ویسے بھی جب افغان

طالبان نے اپنا ملک مسلط شدہ امریکی و نیٹو افواج سے خالی کرایا اور افغانستان

میں اپنی عبوری حکومت تشکیل دینے کے بعد حکومت میں شامل ارکان کے نام

دیئے تو ” جتن ” ( جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن) نے اُس وقت خصوصی ایڈیشنز

جاری کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا، وہاں کی بدلتی صورتحال، مختلف پہلوؤں

کو اجاگر کیا، علاوہ ازیں امارت اسلامیہ افغانستان کے سربراہان اور اہم ترین

کمانڈرز کی جوانمردی اور قابلیت کو دنیا کے سامنے پیش کئے، البتہ گزشتہ دو

ایڈیشنز افغان طالبان کی حکومت کو ٹف ٹائم دینے والے فتنہ گروں، ملک میں

بھوک و افلاس کے جمائے ڈھیروں، افغان عوام کی مشکلات، ہمسایہ ممالک کی

ذمہ داریوں سے متعلق پیش کئے-

=-،-= موجودہ حالات میں افغان عوام کی مشکلات اور عالمی برادری

باعث افسوس امر یہ ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ کے اداروں، انٹرنیشنل تحقیقاتی

ٹیموں کی رپورٹس اور افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ

مختلف ممالک و تنظیموں کی امداد کے باوجود افغان سر زمین پر بسنے والے

عوام فاقہ کشی پر مجبور ہیں، ننھے پھولوں کو بھوک اور بیماریوں نے ابدی نیند

سُلانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، افغانستان میں کم عمر لڑکیوں سے شادی کا

رواج تو دور قدیم سے چلا آرہا ہے، لیکن ڈر ہے کہیں یہ لکھتے ہوئے میرا قلم

خون اُگلنا شروع نہ کر دے کہ اب ننھی کلیاں جن کی عمریں گھر کے آنگن میں

کھیلنے کودنے کی ہیں، آئے روز کوئی نہ کوئی قرض خواہ مقروض کے گھر

کی کلی کو اس کے آنگن سے قرض کے عوض اپنے حجلہ عروسی میں منتقل

کررہا ہے، جبکہ باخبر ذرائع کے مطابق یہ بھی بتیا جا رہا ہے کہ ” ہر بنت کی

قسمت میں حجلہ عروسی کہاں”، ادھر مغربی صوبوں بادغیس، ہرات اور دیگر

علاقوں میں خشک سالی کے باعث بیٹیاں فروخت کرنے کی اطلاعات بھی زبان

زد عام ہیں-

=-،-= افغان عوام پر بیٹیاں فروخت کرنے کی بات سراسر غلط

افغانستان کے عوام سے متعلق دنیا بھر میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ اپنی بیٹیاں

فروخت کرتے ہیں، ممکن ہے ایسا رواج کسی ایک آدھ قبیلے میں ہو لیکن

اجتماعی طور پر یہ خیال سراسر غلط ہے، البتہ افغانی شینو دوشیزہ ہو یا گل بی

بی کی آٹھ سالہ ننی کلی جسے قرض خواہ تین لاکھ نہ ملنے پر ساتھ لے گیا کا

معصوم کلی کی والدہ گل بی بی نے اعتراف کیا اور کہا کہ بیٹی بیچنا کوئی اچھا

عمل نہیں لیکن وہ تین لاکھ کا قرضہ کہاں سے لوٹاتیں اور باقی بچوں کو بھوک

اور بیماریوں سے اپنے سامنے لقمہ اجل بنتے کیسے دیکھتیں، اسی طرح چند

روز قبل اے ایف پی نے ایک ویڈیو میں رپورٹ کیا کہ ایک افغان شہری نے

اپنے گھر میں موجود بچوں اور خواتین سمیت دس زندگیوں کو بھوک کے ہاتھوں

مرنے سے بچانے کیلئے اپنی سات اور آٹھ سال کی دو بچیاں فروخت کیں، حالات

کی ستم ظریفی کے باعث بکنے والی یہ حوازادیاں جانے کہاں اور کس حال میں

ہوں گی کسی کو کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی کسی کو اس کی پرواہ ہے-

=-،-= موسم سرما کی آمد، افغان عوام اور خوراک و ادویات کی صورتحال

بحرانوں سے گھر افغانستان میں اس وقت بیشتر علاقوں میں شدید سردی برفباری

کی وجہ سے راستے بھی بند ہونا شروع ہو گئے ہیں، ان علاقوں میں جہاں پہلے

ہی مخدوش حالات تھے وہاں خوراک کی قلت مزید بڑھ جائے گی، انسان کی بے

قدری و بے بسی کی خبریں عالمی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیاں، سوشل میڈیا پر

ٹرینڈ بنیں گی، لیکن ایسی اندوہناک خبروں سے بچنے کیلئے جنگ سے تباہ حال

بیگناہ لوگوں کی زندگیاں بچانے کیلئے خوراک کی ترسیل کو رپورٹس، تجزیوں

اور باتوں سے نکل کر عملی جامہ پہنانا کیا ان عالمی طاقتوں کی ذمہ داری نہیں

جو افغانستان کی تباہ بربادی کی ذمہ دار ہیں، ہمارا عالمی برادری سے سوال ہے

کیا ان کا ضمیر اس صورتحال پر کوئی انگرائی لے گا؟، یا اس تمام تر صورتحال

کی ذمہ دار طاقتیں افغان عوام کی بے بسی اور سسک سسک کر مرنے کا تماشہ

دیکھتی رہیں گی-

=-،-= عالمی طاقتیں، افغانستان سے متعلق پیشگوئیاں اور عہد حاضر

اپنے آپ کو مہذب ترین، دنیا کو پُرامن، مستحکم اور انصاف کی فراہمی کیلئے

کوشاں رہنے کی دعویدار اقوام اور ممالک کے حکمران جان لیں تاریخ گواہ اور

پیش گوئیاں موجود ہیں کہ افغانستان کی سرزمین ازل سے ایک خاص مقصد کے

لئے ہے، جسے کوئی نظرانداز کر سکتا ہے، نہ ہی جھٹلا سکتا ہے، اور یہ تو

ویسے بھی طے ہے جو ظلم کرے گا وہ یہاں بھی بھگتے گا اور وہاں بھی، جو

امن و رواداری اختیار کرئےگا وہ دنیا میں بھی صلہ پائے گا اور آخرت میں بھی-

فیصلہ عالمی برادری پر چھوڑتے ہیں کہ وہ کس راہ کا انتخاب کرتی ہے، تاہم

بحیثیت انسان ہمارا مشورہ یہی ہے کہ عالمی طاقتیں خود کو کسی بھی ملک و

قوم پر مسلط کرنے کی روش، منافقانہ پالیساں ترک کریں اور دنیا کو حقیقی

معنوں میں امن و آتشی کا گہوارہ بنانے کی راہ پر چلیں، ورنہ اسی عالمی اداراے

کا سربراہ جس کے بل بوتے پر وہ دنیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا چکی ہیں جی

20 کے سربراہی اجلاس میں وراننگ دے چکا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک

عفریت کی طرح ان کی جانب بڑھ رہی ہے اور عالمی طاقتیں خود اپنی تباہی و

بربادی کا ساماں کرنے میں جُتی ہیں-

افغانستان کا مستقبل ، افغانستان کا مستقبل ، افغانستان کا مستقبل ، افغانستان کا

مستقبل

افغانستان کا مستقبل ، افغانستان کا مستقبل ، افغانستان کا مستقبل ، افغانستان کا مستقبل

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply