افغانستان ٹی ٹی پی

طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ٹی ٹی پی سے بات ہو رہی ہے: وزیراعظم

Spread the love

افغانستان ٹی ٹی پی

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان مے کہا ہے کہ ہماری حکومت کالعدم

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت ہورہی ہے ۔ اگر وہ

ہتھیارڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک

طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ترک ٹی

وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کچھ گروپس

حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں، ہم بھی ٹی ٹی پی کے کچھ گروپس کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کالعدم ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور انہیں عام پاکستانی شہری

بنانے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کالعدم ٹی ٹی

پی سے مذاکرات میں افغان طالبان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، طالبان کی ثالثی اس حد تک ہے کہ

مذاکرات افغانستان میں ہو رہے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہتھیار ڈال

دے تو معاف کر دیں گے، کالعدم ٹی ٹی پی والے عام شہری کی طرح رہ سکتے ہیں۔افغانستان کی

صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا ہمیشہ یہی کہا کہ افغانستان کے

مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمد قریشی کی جانب سے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو مشروط معافی دیے جانے کے بیان دیا تھا۔ ترک میڈیا سے گفتگو

کرتے ہوئے وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے

افغانستان میں ہو رہی ہے تاہم بات چیت کی کامیابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔

میرے خیال میں کچھ طالبان گروپ حکومت سے مفاہمت اور امن کی خاطر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ہم

ایسے کچھ گروپوں سے رابطے میں ہیں۔انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ بات چیت ہتھیار ڈالنے پر ہو

رہی ہے جس پر جواب دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ مفاہمتی عمل کے بارے میں ہے۔

ہتھیار ڈالنے کی صورت میں انہیں معافی دی جا سکتی ہے اور وہ عام شہری بن جائیں گے۔ انہوں نے

کہا کہ میں معاملات کے عسکری حل کے حق میں نہیں ہوں اور کسی قسم کے معاہدے کے لیے

پرامید ہوں تاہم ممکن ہے کہ طالبان سے بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو لیکن ہم بات کر رہے ہیں۔

انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کیا افغان طالبان پاکستان کی مدد کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ اس

لحاظ سے مدد ہو رہی ہے کہ یہ بات چیت افغان سرزمین پر ہو رہی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر

ایک جانب ان کی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے بات چیت کر رہی ہے تو

تنظیم حملے کیوں کر رہی ہے تو عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ حملوں کی ایک لہر تھی۔اس سے قبل

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا

کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لوگ دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہ

ہونے کا وعدہ کریں اور ا?ئین پاکستان کو تسلیم کریں تو حکومت اراکین کو معاف کرنے کیلئے

تیار ہو سکتی ہے۔وفاقی وزیر خارجہ نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو

تشویش تھی کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں کو افغان طالبان کے قبضے کے بعد جیلوں

سے رہا کیا جارہا ہے۔ اگر افغان حکومت اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتی ہے اور ٹی ٹی پی سے

بات کرے اور اگر ٹی ٹی پی قانون اپنے ہاتھ میں نہ لے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نہ

ہو، حکومت اور آئین پاکستان کی رٹ کے سامنے ہتھیار ڈالے تو ہم یہاں تک ان کو معافی کے لیے

تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک وہ نہیں آتے اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیاں ختم نہیں

ہوتیں اس وقت تک ہمیں تشویش ہے۔ اگر وہ رہائی کے بعد یہاں ہمارے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں تو

معصوم لوگوں کی جانوں پر اثر پڑے گا اور ہم ایسا نہیں چاہتے ہیں۔ پاکستان کو افغان طالبان کی جانب

سے زبانی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ وہ افغانستان سے پاکستان کے اندر کسی گروپ کو دہشت

گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے اور پاکستان اس حوالے سے نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے

کہا کہ نئی طالبان قیادت کا رویہ 1990ء کی دہائی کے مقابلے میں مختلف ہے کیونکہ کابل میں بڑے

پیمانے پر احتجاج کو برداشت کیا گیا۔ اشرف غنی کو ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان نے مسلسل

نشاندہی کی لیکن انہوں نے کوئی اقدام نہیں کیا اب دیکھنا ہے کہ افغان طالبان اپنی یقین دہانیوں پر

کام کرتے ہیں یا نہیں۔ پاکستان کی سرزمین میں افغانستان سے آنے والے افراد کے لیے کوئی مہاجر

کیمپ یا دوبارہ آباد کرنے کی کوئی سہولت نہیں دی جا رہی ہے۔ پاکستان ان افراد کے انخلا میں

سہولت فراہم کرے گا جن کے پاس مصدقہ دستاویزات ہیں۔ افغانستان سے ملحق پاکستانی سرحد پر

کوئی دباؤ نہیں ہے کیونکہ افغانستان سے کسی کو بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے اور اب ملک میں

امن و استحکام آگیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری اپنی مجبوریاں ہیں کیونکہ ہم کئی دہائیوں سے

30 لاکھ سے زائد مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں جو تقریباً 40 لاکھ بن جاتے ہیں اور ہم بغیر کسی

بین الاقوامی امداد کے ان سے تعاون کر رہے ہیں اور اب مزید مہاجرین کی میزبانی برداشت کرنا

ہمارے بس میں نہیں ہے۔

افغانستان ٹی ٹی پی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply