افغانستان میں نئی امریکی پالیسی بھی ناکام، کابل حکومت کی رٹ مزید کم ہو گئی

Spread the love

سال 18ء میں جہاں افغانستان میں طالبان کی پوزیشن مضبوط ہوئی وہیں افغان حکومت کے ملک پر کنٹرو ل میں مزید کمی آئی۔رپورٹ کے مطابق امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل افغانستان ریکنسٹرکشن (ایس آئی جی آر)کی کانگریس کیلئے تیار کردہ ر پو رٹ کے مطابق امریکی صدر کی گزشتہ برس پیش کردہ جنوبی ایشیا سے متعلق نئی پالیسی کے نفاذ سے جنگ زدہ خطے میں استحکام آنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔جمعہ کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے میں شائع رپورٹ میں کہا گیا گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں افغانستان میں موجود امریکی سول و فوجی حکام سے موصولہ ضلعی سطح کے اعداد و شمار میں سائوتھ ایشیا کی نئی حکمتِ عملی کا کوئی فائدہ دیکھنے میں نہیں آیا۔افغانستان میں موجود ایک مشن کی مئی 18ء میں بھیجی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ایس آئی جی آر نے اس بات سے اتفاق کیا کہ امریکہ تنہا افغانستان کے حالات کو بہتر بنا کر تعمیر نو اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک اسے ملک کے اندر سے حمایت حاصل نہ ہو۔ استحکام کیلئے بنائی گئی حکمتِ عملی اور پروگرام افغانستان کے حالات سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا اور افغان اضلاع کو مستحکم کرنے میں کامیابیاں شاذ و نادر ہی اتحادی فوجیوں ا و ر شہریوں کی موجودگی میں زیادہ وقت تک جاری رہیں۔امریکی کانگریس کے دیے گئے اختیار پر مرتب کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا افغان حکومت کا ملک پر کنٹرول اور اثر و نفوز بتدریج کم ہورہا ہے اور جولائی 18کے بعد سے عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں افغان حکومت کے زیر انتظام ضلعی آبادی پر کنٹرول میں مئی 17ء سے جولائی 18میں تبدیلی دیکھی گئی اور یہ 65فیصد سے کم ہو کر 63.5فیصد ہوگئی۔2018 کے آخری سہ ماہی میں اس میں 5 لاکھ افراد یعنی 1.7 کی فیصد کی مزید کمی دیکھنے میں آئی، ایک اندا ز ے کے مطابق 63.5 فیصد یعنی کل 3 کروڑ 33 لاکھ میں سے 2 کروڑ 12 لاکھ افغان شہری ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں افغان حکومت کا اثرو رسوخ ہے۔دوسری جانب عسکریت پسندوں کے زیر انتظام علاقوں میں 85 لاکھ لوگ رہائش پذیر ہیں جو آبادی کا تقریبا 25.6 فیصد حصہ ہے، اس میں 2017 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

Leave a Reply