Trump

افغانستان میں سب تھک چکے اسلئے امن چاہتے ہیں، ٹرمپ کا اعتراف

Spread the love

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے وہ سوچ رہے ہیں ایران پر نظر رکھنے کےلئے عراق میں اڈا برقرار رکھا جائے، ۔ ونیز ویلا میں ضرورت پڑ نے پر وہاں فوجی مداخلت کی جاسکتی ہے، امریکہ سمیت مغربی ممالک سوشلسٹ صدر نکولس مادورو پر دباﺅ ڈال رہے ہیں وہ صدارت کے د عو یدار اپوزیشن لیڈر کے حق میں دستبردار ہوجائیں۔

افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انکا کہنا تھا افغانستان میں طالبان سمیت سب ہی تھک چکے ہیں اسی لئے امن چاہتے ہیں، ٹرمپ نے کہا وقت آگیاہے کہ دیکھیں طالبان کےساتھ کیا ہوتا ہے ؟ البتہ افغانستان میں انٹیلی جنس روابط قائم رکھیں گے ، مسائل نے سر اٹھایا تو پھر دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مشرق وسطی کی صورتحال پر انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا وہ آج غلط جائزہ پیش کررہے ہیں ایران معا ہد ے پر عملدرآمد کر رہا ہے، اسی انٹیلی جنس نے صدام حسین کے بارے میں غلط الزام لگایا تھا جنگ سے قبل اس کے پاس تباہ کن ہتھیار موجود تھے ۔ صدر ٹرمپ نے کہا مارچ میں چین کےساتھ تجارتی محصولات میں اضافے کی ڈیڈ لائن کے خاتمے سے پہلے نیا تجارتی معاہدہ کرنے کے سلسلے میں تسلی بخش طریقے سے کام ہورہا ہے۔

ملکی داخلی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انکا کہنا تھا دوبارہ جزوی شٹ ڈاﺅن خارج ازامکان نہیں ، شام سے امریکی فوجی ایک ٹائم فریم کے تحت واپس آئیں گے۔واضح رہے افغانستان میں تھکنے کابیان دور حاضر کی سپر پاور امریکہ کے صدر کی جانب سے پہلی بار نہیں دیا گیا بلکہ اس سے قبل بھی اپنے وقت کی سپر پاور برطانیہ جس کے اقتدار میں سورج بھی غروب نہ تھا اپنی بھر پور کوششوں کے باوجود افغا نستان پر قبضہ نہ کرسکی ، 1980ءکی دہائی میں عالمی سپر پاور سوویت یونین بھی افغانستان کوفتح کرنے کے جذبہ سے حملہ آور ہوئی اور گرم پانیو ں تک پہنچنے کا خواب لئے بکھر کررہی گئی۔

امریکی صدر نے سی بی ایس ٹیلی ویژن کے پر و گرام فیس ڈی نیشن میں ایک انٹرویو میں اپنی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوﺅں پر گفتگو کی جو اتوار کے روز نشر ہوا،یاد رہے گزشتہ برس ونیزویلا میں د و بارہ انتخابات ہوئے جس میں جوان گوا ئڈ ونے اپنے آپ کو صدر ڈیکلیئر کردیا تھالیکن امریکہ، کینیڈا اور متعدد لاطینی ممالک انہیں جائز صدر تسلیم نہ کیا، صدر ٹرمپ نے بتایا متنازعہ صد ر ماڈورو نے گزشتہ ماہ ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن وہ سمجھتے ہیں اسکا وقت گزر گیا۔

امریکہ نے گزشتہ ہفتے ونیز ویلا کی سرکاری پٹرولیم کمپنی PDVSAپر اقتصادی پابندیاں لگادی تھیں جبکہ روس تیل برآمد کرنےوالے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن اور اپنے اتحا دی کی حمایت میں آکھڑا ہوا ہے جس نے دھمکی دی ہے ونیزویلا میں فوجی بھیجنے کا اقدام تباہ کن ہوسکتا ہے ۔

Leave a Reply