افغانستان میں خوراک کی صورتحال، اندرونی کہانی اہل قلم کی زبانی

افغانستان میں خوراک کی صورتحال، اندرونی کہانی اہل قلم کی زبانی

Spread the love

افغانستان میں خوراک کی خصوصی ایڈیشن: عمران رشید خان

Journalist Imran Rasheed

افغان طالبان کے ملک پرکنٹرول حاصل کرنے کے بعد افغانستان میں حالات اب بھی بدستور خراب

ہیں امارات اسلامیہ کی حکومت کو مستحکم ہونے میں کئی سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے

ان میں عوام کی بھوک سرفہرست مسئلہ ہے، حالیہ ایک رپورٹ کےمطابق پانچ سال سے کم عمر

کے آدھے سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو مناسب

خوراک نہیں ملتی ہے جس کی وجہ سے آئے روز بچوں کی اموات کی خبریں ملتی ہیں جبکہ

طالبان حکومت ان مسائل کے حل میں فی الحال ناکام نظر آرہی ہے، ایسی صورتحال میں افغانستان

افغانستان دنیا کے بدترین بھوک ہاٹ سپاٹ میں سے ایک

میں اپنے مفادات کو دیکھنے والے ممالک جن میں چین، روس، پاکستان، قطر، ایران اور ترکی قابل

ذکر ہیں کو چاہیے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پرخوردنی اجناس کی امداد میں نہ صرف

اضافہ کریں، بلکہ اس کی تقسیم اور مستحق لوگوں تک رسائی میں وہاں کی انتظامیہ کے ساتھ

تعاون کریں، ورنہ عوام کی یہ بھوک بغاوت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔رواں سال کے دوران جاری

ہونیوالی آکسفیم رپورٹ کے مطابق افغانستان دنیا کے بدترین بھوک ہاٹ سپاٹ میں سے ایک ہے-

اس ضمن میں جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن (جتن آن لائن ) نے افغانستان کی

اندرونی صورتحال کی کہانی پیش کرنے کے سلسلے کا اہتمام کیا ہے جس کی

تفصیلات درج ذیل ہیں۔

طالبان حکومت عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کیلئے کوشاں

امارت اسلامیہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی

نے ازبک وزیر خارجہ عبدالعزیز کاملوف سے ملاقات کے دوران اپنے ازبک ہم منصب کو خوش

آمدید کہا اور یقین دلایا تبدیلی کے بعد افغانستان کے حالات معمول پر آرہے ہیں،انہوں نے کہا اس

میں کوئی شک نہیں کہ افغان عوام کو اس وقت گزر بسر کرنے میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا

کرنا پڑرہا ہے لیکن طالبان حکومت عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کرنے اور

بہتر گزر بسر کے انتظامات کے لئے بھرپور کوششوں میں مگن ہے۔

شہداء و غازیاں افغان جنگ کے خاندانوں میں امدادی سامان کی تقسیم

افغان صوبے قندھار میں امارات اسلامیہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین،

معذور، یتیموں، بیواؤں اور بے آسرا 137 خاندانوں میں اشیائے خورونوش تقسیم کی گئیں

جس میں فی گھرانے کے لئے نو مختلف اقسام کا سامان تھا، راشن کی فراہمی سے جہاں ان میں

فاقوں اور خراب حالات سے نکلنے کی امید نے جنم لیا ہے، وہیں پر مستقبل میں پھر انہی حالات سے

نبردآزما ہونے کا خدشہ بھی نظر آرہا ہے، افغان حکومت نے جس علاقے میں انسانی زندگیوں کی

بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے وہاں کے زیادہ تر گھرانوں کے مرد افغان جنگ میں شہید ہو چکے

ہیں یا پھر یہاں کے گھرانوں کے افراد جسمانی اعضاء سے محروم ہو کر معذوری و محتاجی کی

زندگی جیسے سخت حالات سے دو چار ہیں، ان کی بیوائیں اور اکثر بچوں کے سروں سے باپ کے سائے

چھین جانے کے بعد ان معصوموں کی زندگیاں ان کے ناکردہ گناہ کی پاداش میں تباہ کردی گئی ہیں۔

افغان بچوں کے اداس چہرے عالمی حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ

دنیا کے ظلم و جبر کے رسم و رواج سے نہ آشنا ان ننھے فرشتوں کے چہروں پر مسکراہٹ کی بجائے

بھوک و افلاس، اداسی اور انجانا خوف، خود کو عالمی طاقتیں گرداننے والے بے ضمیر حکمرانوں

کے منہ پر طمانچہ ہے۔ قندھار کے علاقے میں راشن کی تقسیم کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے

ہوئے لوگوں کی زبانوں پر اپنی لاچاری اور حق تلفی کی شکایات تھیں، اس موقع پر ایک شخص

نے افغان میڈیا اور حکومتی نمائندے کو بتایا یہاں کے اکثر لوگ سالوں سے کسمپرسی کی زندگی

گزارنے پر مجبور ہیں، لوگوں کے پاس اشیائے خورونوش تک نہیں، انہوں نے حکومتی نمائندے سے

اپیل کی کہ خدارا ہمیں بروقت امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے، متاثرین نے والئی قندھار کا

بھی شکریہ ادا کیا اور توقع ظاہر کی کہ آئندہ بھی حکومت ان کے حالا ت کی بہتری میں مددگار رہے گی۔

عوام کی حق تلفیوں کا ازالہ، خوشحالی لانا مشن، افغان امارات اسلامیہ

امارت اسلامیہ افغان حکومت کی جانب سے ان بے آسرا گھرانوں کو معیاری اور بھرپور امدادی پیکج

کی فراہمی، ان انسانی زندگیوں کی مستقل بحالی کے لئے کافی نہیں، لیکن انسانی ہمدردی کے جذبے

سے سرشار بہترین اقدام ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ افغان طالبان حکومت نے اس بارے میں

اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ نہ صرف قندھار بلکہ پورے افغانستان عوام کی

ترقی، خوشحالی کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی اور افغان عوام کی حق تلفیوں کا ازالہ کیا جائیگا۔

عوام کی امداد کا سلسلہ جاری رہیگا، ترجمان افغان حکومت

اس سلسلے میں افغان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 6 اکتوبر بروز بدھ اپنے ٹویٹر

اکاؤنٹ سے امدادی سامان کی تقسیم کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ عوام کی امداد کا

سلسلہ جاری رکھا جائے، راقم السطور کے مطابق امارات اسلامیہ افغان حکومت کے انسانی بحالی کے

لئے اقدامات اپنی جگہ، لیکن اس وقت تمام دنیا خاص طور پر مسلم امہ کو یکجا ہو کر افغانستان

میں انسانیت کو بچانے کیلئے نئی بنیادیں استوار کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، یہی وقت ہے کہ

جب دنیا میں مسلمان اتحاد کی ایسی مثال قائم کر سکتے ہیں جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے۔

اشیائے ضروریہ کی کم یابی المیہ کا ممکنہ پیش خیمہ

افغانستان کے دارالخلافہ کابل سمیت دیگر علاقوں میں جنگی حالات کے دوران اور طالبان حکومت

کے قیام سے لیکر اب تک اپنی صحافتی ذمہ داری نبھانے والے پاکستانی سینئر صحافی آصف شہزاد اعوان

نے جرنل ٹیلی نیٹ ورک آن لائن کو افغان عوام کو خوراک کی فراہمی کے لئے بات چیت کرتے ہوئے

بتایا افغان طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد ترکی، قطر، یو اے ای و دیگر ممالک کی جانب سے

کی جانیوالی امداد سے خوراک کا ذخیرہ موجود ہے، تاہم دوسری جانب صرف افغان دارالخلافہ کابل

کے شہر نو کے پارک میں آٹھ ہزار سے زیادہ بے گھر خاندان خیموں میں مقیم ہیں جبکہ اسی طرح

ملک کے دیگر حصوں کی آبادیوں کی بھوک مٹانے کیلیے اس وقت افغانستان میں امداد کی

بڑی ضرورت ہے، اقوام متحدہ بھی خدشہ ظاہر کر چکا ہے، اگر خوراک کا بندوبست نہ ہوا تو بڑا المیہ مکمن ہے۔

سینئر صحافی آصف شہزاد اعوان کابل میں افغان کمانڈر سے بات چیت کر رہے ہیں
عوامی ضروریات سے نمٹنے میں طالبان حکومت مبالغہ آرائی کا شکار

البتہ امارات اسلامی اس بات کو جھٹلا رہی ہے لیکن اگر ایسے خدشات کو تقویت بھی مل رہی ہے

تو آپ دیکھتے ہیں کہ اگر خوراک کا بحران پیدا ہوا تو امارات اسلامی افغانستان اس سے کیسے نمٹے گی۔

:۔۔۔:۔نوٹ۔ :۔۔۔:

افغانستان میں انسانیت کی بقاء، امن و امان اور دیگر درپیش مسائل، حل کیلئے اٹھائے گئے اقدامات

کے بارے میں سینئر صحافیوں، تجزیہ کاروں، وکلاء اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے

افراد کے اظہار خیال اور قیمتی آراء سے بروقت آگاہی کیلئے ہمارے ساتھ جڑے ر ہیں۔

افغانستان میں خوراک کی,افغانستان میں خوراک کی,افغانستان میں خوراک کی

=قارئین=ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

Leave a Reply