افغانستان میں حالات کی خرابی پورے خطہ کیلئے نقصان دہ ہو گی،شاہ محمود قریشی

Spread the love

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن،مجموعی طور پر خطے میں امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے،افغان امن عمل کیلئے کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات، افغانستان میں قیام امن سمیت مختلف علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ دریں اثناء پاکستان روس کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے ۔ روسی نمائندہ نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ضمیر کابلوف نے کہا کہ افغان امن عمل کے حوالے سے پاکستان کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر ضمیر کابلوف سے ملاقات ہوئی ہم نے افغان امن کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا دوحہ میں ہونے والی نشست اور پاکستان کی سوچ سے انہیں آگاہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں خطے میں جتنے اہم ممالک ہیں ان کے ساتھ روابط کو فروغ دیں کیونکہ افغان امن عمل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جبکہ افغانستان میں قیام امن کا فائدہ سب کو یکساں ہو گا لیکن خدانخواستہ اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ بھی پورے خطے کیلئے نقصان دہ ہو گامجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری اور روس کی سوچ قریب تر ہے اور ہم نے باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کچھ دن پہلے میری دعوت پر پاکستان تشریف لائے اور ان کی وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے ساتھ بہت اچھی نشست ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ سوموار کو سینیٹر لنڈسے گراہم کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہوا ،ہم نے افغانستان کے حوالے سے نئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہمیں توقع ہے کہ اگلے چند دن دنوں میں مزید اچھی پیش رفت ہوگی ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ خطے کے تمام ممالک اور ملک کے جتنے معتبر ادارے ہیں وہ ایک پیج پر ہوں اور خواہ کشمیر کا مسئلہ ہو، افغانستان کا ہو یا سی پیک کے مسائل ہوں پوری قوم ایک پیج پر دکھائی دے۔

Leave a Reply