Asim Tipu

افغانستان سے فوجی انخلاء، جوبائیڈن انتظامیہ کو درپیش مسائل اور طالبان

Spread the love

افغانستان سے فوجی انخلاء

امریکی صدر جوبائیڈن نے اقتدار تو سنبھال لیا ہے مگر ان کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ

نے اپنے دورِ اقتدار میں جو افراتفری مچائی اور عالمی امن کی راہ میں کانٹے

بوئے انہیں دُور کرنے کیلئے جوبائیڈن انتظامیہ کو ایک عرصہ لگے گا۔ اگرچہ

اقتدار سنبھالتے ہی امریکی صدر جوبائیڈن نے ہنگامی اقدامات شروع کئے مگر

مشرقِ وسطیٰ میں جاری یمن کی جنگ، افغانستان کا تنازع، فلسطین کی ریاست کا

قیام اور ایران کے جوہری تنازع جیسے مسائل حل کرنے میں انہیں وقت درکار ہو

گا۔ افغانستان نے مسئلے پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرح جوبائیڈن انتظامیہ بھی اس

مسئلے کو فوری حل کرنا چاہتی ہے، طالبان اور امریکہ کے درمیان طے پانیوالے

معاہدے کے مطابق مئی تک افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا چاہتی ہے جس

کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کو ٹاسک دیدیا گیا ہے۔ زلمے

خلیل زاد نے قطری نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد عبدالرحمان الثانی

کے ہمراہ دوحہ میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے نائب لیڈر عبد الغنی برادر سے

ملاقات کی، پھر کابل واپس آکر افغان صدر اشرف غنی اور قومی مفاہمتی کونسل

کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔

Joe Biden

جوبائیڈن انتظامیہ نے افغان امن عمل میں آنیوالے ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کیلئے

ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ایک مشترکہ عبوری’’ امن

حکومت ‘‘ کے قیام کیساتھ ساتھ خطے کے ممالک پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ

افغان امن عمل کی حمایت کے حوالے سے ایک مشترکہ اور جامع پالیسی اپنائیں۔

امریکی حکومت جنگ سے تباہ حال افغانستان سے فوجی انخلا پر نظرثانی کر رہی

ہے، اس ضمن میں اس کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے یہ منصوبہ پیش کیا گیا

ہے۔ مجوزہ منصوبے میں ملک میں جاری کشیدگی میں مرحلہ وار کمی اور پھر

مکمل جنگ بندی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے افغان پالیسی

پر نظرثانی ابھی مکمل نہیں ہوئی، لیکن یہ بات واضح ہے امریکہ کو اب افغانستان

سے نکلنے کی جلدی ہے، تاہم حالات کی پیچیدگی کو دیکھتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ

کیلئے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں ہو گا۔ بین الافغان مذاکرات

میں آنیوالا تعطل اور ملک میں بڑھتی کشیدگی پر امریکہ میں بے چینی بڑھتی جا

رہی ہے۔ اس بے چینی کا اظہار امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن کی

جانب سے افغان صدر اشرف غنی کو لکھے جانیوالے حالیہ خط میں بھی ہوا۔ اس

خط میں بلنکن نے سخت الفاظ میں اشرف غنی پر زور ڈالا کہ وہ امن مذاکرات کی

کامیابی کیلئے دیگر افغان رہنماؤں کیساتھ مل کر کام کریں۔ انہوں نے اشرف غنی

کو دوحہ مذاکرات کے بے نتیجہ ہونے کے خطرے اور حالات کی سنگینی سے

آگاہ کیا۔

Ashraf Ghani

ایک خدشہ یہ بھی ہے افغان صدر ہنگامی حالات میں ملک کو قیادت فراہم کرنے

میں ناکام ہوگئے ہیں اور طالبان کے حملے بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ خط میں اختیار

کی گئی سختی اس بات کا مظہر ہے امریکہ مذاکرات میں آنیوالے تعطل کو جلد ختم

کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ حکومت کے برعکس جوبائیڈن انتظامیہ میں یہ احساس بھی

پایا جاتا ہے کہ بین الافغان مذکرات میں ایک بڑی رکاوٹ خود اشرف غنی کی ’’

کرختگی‘‘ ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے امریکہ کے نزدیک اشرف غنی کا

سخت مزاج ایک مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ امن عمل کو تیز کرنے

کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے، لیکن اشرف غنی کسی صورت بھی مشترکہ عبوری

حکومت کی تجویز ماننے کو تیار نہیں اور یہی نکتہ تنازع کی وجہ بنا ہوا ہے۔

vladimir-putin

اس خط کے بعد امریکہ کی جانب سے 8 صفحات پر مبنی ایک دستاویز بھی جاری

ہوئی جسے طالبان کو بھی فراہم کیا گیا تھا۔ اس امن منصوبے میں ایک قومی

حکومت کے قیام کی بات کی گئی ہے جس کے متوازی کوئی دوسری حکومت یا

سکیورٹی فورس نہیں ہوگی۔ اس منصوبے میں اسلامی اقدار کے تحفظ کا وعدہ کیا

گیا ہے۔ ایک آزاد عدلیہ کو حتمی اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ اسلامی فقہ کی

کونسل مشاورتی کردار ادا کرے گی۔ مجوزہ منصوبے میں خواتین اور مذہبی و

لسانی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

اس منصوبے کو حتمی شکل دینے کیلئے امریکہ نے ترکی سے درخواست کی ہے

کہ وہ اقوامِ متحدہ کے زیر انتظام افغان حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور طالبان

رہنماؤں کے درمیان ہونیوالی ملاقات کی میزبانی کرے۔ اب تک افغان حکومت یا

افغان طالبان کی جانب سے امریکہ کے امن منصوبے پر کوئی باضابطہ ردِعمل

نہیں آیا۔ طالبان کا کہنا ہے ان کی اعلیٰ کونسل اس منصوبے پر غور کر رہی ہے۔

American Army1
American Army

دوسری جانب ان مذاکرات میں اقوامِ متحدہ کی مداخلت اس عمل کو تیز کرنے میں

ضرور مدد کرے گی، تاہم ان مذاکرات میں کوئی کامیابی حاصل کرنا مشکل ثابت

ہو گا۔ عبوری حکومت کے معاملے پر افغان حکومت اور طالبان دونوں کی جانب

سے ہی مزاحمت کی جارہی ہے۔ اشرف غنی تو پہلے ہی عبوری حکومت کی

مخالفت کر چکے ہیں اور امکان یہ ہے کہ طالبان بھی آئینی فریم ورک پر کسی

معاہدے کے بغیر عبوری حکومت پر رضامند نہیں ہوں گے۔ امن منصوبے میں

مذاکرات کے دوران مکمل جنگ بندی کی بات کی گئی ہے، لیکن اس بات کا کوئی

امکان نہیں ہے کہ شورش پسند عناصراس پر رضامند ہوں گے۔

ex-kabul-convoy

افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کی ڈیڈ لائن یکم مئی ہے اور اس تاریخ

تک امن منصوبے کا نفاذ چوزف جوبائیڈن انتظامیہ کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں

ہے۔ طالبان کیساتھ ہونیوالے تاریخی امن معاہدے کو ایک سال سے زائد عرصہ ہو

گیا ہے جس نے 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کی

امید پیدا کی تھی۔ اسی کے پیش نظرگزشتہ ایک سال میں افغانستان میں امریکی

افواج کی تعداد کم ہوتے ہوتے 2500 تک آگئی ہے۔ مکمل فوجی انخلاء کا دار و

مدار بین الافغان مذاکرات اور مستقبل کے سیاسی نظام پر ہے۔

Amrican Army 2

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان گزشتہ سال ستمبر میں دوحہ میں مذاکرات کا

آغاز ہوا تھا لیکن گزشتہ 6 ماہ میں یہ دونوں فریق ان مذاکرات کے فریم ورک پر

بھی متفق نہیں ہو سکے ہیں۔ فریقین اپنے اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں

جس کی وجہ سے معاملات آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ اسی دوران طالبان کی جانب

سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں اضافے کی کوشش بھی کی گئی ہے جس سے

ملک میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے

کہ ملک میں سول سوسائٹی کے افراد، صحافیوں اور دانشوروں کی ٹارگٹ کلنگ

میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ اس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ غیر ملکی افواج کے

انخلاء کے بعد کہیں ملک ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار نہ ہوجائے۔

=-= یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی اب امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے؟

امریکہ نے اس مسئلے کے حل کیلئے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ اقوامِ متحدہ

روس، چین، پاکستان، ایران، بھارت اور امریکی وزرائے خارجہ اور سفراء کا

اجلاس طلب کرے۔ ان تمام ممالک کے مفادات بھی افغان امن عمل سے وابستہ ہیں

اور اس حوالے سے ان ممالک کی ایک مشترکہ پالیسی مستقبل کے کسی سیاسی

تصفیے کیلئے بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں روس نے ماسکو میں گزشتہ

جمعرات کو ایک اجلاس افغان مذاکرات کے حوالے سے طلب کیا تھا جس سے

متعلق امریکہ نے یہ بھی کہا تھا کہ ماسکو مذاکرات دوحہ مذاکرات کا متبادل نہیں

ہو سکتے، مگر ساتھ ہی ان مذاکرت میں شرکت کیلئے اپنا ایک نمائندہ بھی بھیجا۔

=-= سٹریٹجک محل وقوع افغانستان کیلئے شدید مشکلات کا باعث
——————————————————————————

افغانستان کے سٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے یہ ملک ہمیشہ سے ہی بیرونی

طاقتوں اور پراکسی جنگوں کا ہدف رہا ہے۔ اس جنگ کے اندرونی پہلو کی طرح

بیرونی پہلو بھی اہم ہے۔ پڑوسی ممالک کی جانب سے کی جانیوالی مداخلت مکمل

امن میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ یہ ملک ایک عرصے سے خطے میں موجود آپسی

دشمنیوں کا بھی مرکز رہا ہے۔ پراکسی جنگوں نے ملک کے استحکام اور پرامن

ریاست کے قیام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ملک خطے اور بین الاقوامی طاقتوں

کیلئے جنگ کا میدان بنا رہا۔ سب سے زیادہ نتیجہ خیز ٹکراؤ پاکستان اور بھارت

میں ہے اور افغانستان اس کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ یہ تینوں ممالک عدمِ اعتماد اور

مسابقت کے مہلک مثلث میں پھنس گئے ہیں۔ علاقائی طاقتوں کے مابین ایک ایسا

معاہدہ جو افغانستان کے اندرونی معاملات میں عدمِ مداخلت کی ضمانت دیتا ہو،

جنگ زدہ ملک کیلئے انتہائی ضروری ہے، تاہم امن کے حصول کا راستہ بے حد

کٹھن ہے۔

=-= افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی مذاکرات میں پیچیدگی کا سبب

افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء سے 7 ہفتے قبل یہ بتایا گیا ہے کہ اس

ملک میں ان فوجیوں کی کل تعداد پینٹاگون کے اعلان کردہ 2500 فوجیوں سے

زیادہ ہے۔ نیو یارک ٹائمز کی اطلاع ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں

کی کل تعداد 3500 ہے جو پہلے کی اطلاع سے ایک ہزار زیادہ ہے۔ دوسری

طرف ساڑھے تین ہزار امریکی فوجیوں کے علاوہ افغانستان میں نیٹو کے تقریباً

7000 فوجی بھی موجود ہیں، جس سے بھی مذاکرات کا عمل اور پیچیدہ ہوسکتا

ہے۔

=-= دوحہ معاہدہ پر عمل ورنہ سنگین نتائج ہونگے، طالبان کا انتباہ
——————————————————————————–

امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ افغانستان سے یکم مئی تک امریکی فوجوں

کا مکمل انخلا بہت مشکل ہے، انخلا کے وقت سے متعلق فیصلے پر کام کر رہے

ہیں، بائیڈن کے اس فیصلے پر انتباہی انداز میں ردعمل میں ترجمان طالبان ذبیح اللہ

مجاہد نے کہا ہے کہ یکم مئی تک فوج نکالیں، ورنہ نتائج بھگتنے کیلئے تیار ہو

جائیں۔ امریکہ دوحہ معاہدے کے مطابق یکم مئی تک افغانستان پر قبضہ ختم کرے،

فوج نہیں نکالی تو تمام نتائج کا ذمہ دار امریکہ خود ہو گا۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

افغانستان سے فوجی انخلاء، افغانستان سے فوجی انخلاء، افغانستان سے فوجی انخلاء

Leave a Reply