0

افغانستان سے امریکی انخلا کا فریم ورک تیار،فیصلہ کابل حکومت سے ملکر کرینگے،زلمےخلیل زاد

Spread the love

امریکہ کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے دوحہ مذاکرات میں فریم و ر ک کا ایک ڈرافٹ تیار کیا گیا لیکن ہم اس ضمن میں کوئی بھی فیصلہ کابل حکومت سے مل کر کریں گے اور اسے اعتماد میں لیں گے۔منگل کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں زلمے خلیل زاد کے حوالے سے بتایا گیا ہے دوحہ مذاکرات میں طالبان رہنمائوں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ دہرایا تاہم ابھی بہت سے معاملات کی تفصیلات طے کرانا باقی ہیں ۔ دریں اثنا امریکی اخبارنیویارک ٹائمزنے بھی زلمے خلیل زاد کے حوالے سے بتایا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں فریم ورک کا ایک ڈرافٹ تیا ر ہوا ہے لیکن سیزفائر،طالبان، کابل حکومت میں براہ راست مذاکرات اور غیرملکی افواج کے انخلا کے ٹائم ٹیبل سمیت بہت سی تفصیلات طے کرنا باقی ہیں۔ افغان امن عمل کیلئے امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ امریکہ اور طالبان حکام افغانستان سے دہشت گردوں کو باہر نکالنے، تمام امریکی فوجیوں کے انخلا، جنگ بندی اور افغان ،طالبان مذاکرات جیسے تمام اہم معاملات پر راضی ہوگئے ہیں ۔ کابل میں امریکی اخبار کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا ہمارے پاس فریم ورک کا ایک مسودہ ہے جو معاہدے سے قبل وضع کیا جائے گا۔ ہمارے اطمینان کیلئے طالبان نے وعدہ کیا ہے افغانستان کو کبھی بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں یا افراد کیلئے پلیٹ فارم بننے سے روکنے کیلئے جو ضروری ہے وہ کیا جائے۔دوسری جانب افغان صدارتی دفتر نے زلمے خلیل زاد کی جانب سے طالبان کیساتھ مذاکر ا ت میں اہم پیش رفت کے دعوے کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی اورافغان حکام کے بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ زلمے خلیل زاد نے افغان صدر اشرف غنی اور ان کی کابینہ کو دوحہ مذاکرات پر بریفنگ دی لیکن ساتھ ہی بتایا انہیں دیے گئے ان کے انٹرویو کے کچھ نکات سے اختلاف کیا، امریکی نمائندہ خصوصی نے طالبان کیساتھ جنگ بندی پر بات چیت کی لیکن اس معاملے پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو ئی ۔ طالبان کی جانب سے افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا لیکن اس معاملے پر بھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔تاہم زلمے خلیل زاد نے انٹرویومیں کہا امریکہ اور طالبان کے نمائندوں نے یہ اعتماد محسوس کیا کہ مذاکرات صحیح سمت میں جارہے ہیں۔ہم نے کافی اعتماد محسوس کیا کہ ہمیں اسے سامنے لانے کی ضرورت ہے اور تفصیلات پر کام کرنا بھی ضروری ہے۔سینئر امریکی حکام نے بتایا طالبان کے وفد نے افغان حکومت کیساتھ بات چیت کے امریکی اصرار اور کسی حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر جنگ بندی پر رضا مند ہونے سے متعلق اپنی قیادت سے مشاورت کیلئے وقت مانگا۔ انہوں نے طالبان پر واضح کیا کہ تمام زیر بحث آنیوالے معاملات ایک پیکج ڈیل کے حصے کے طور پر منسلک ہیں۔

Leave a Reply