پنڈورا پیپرزسکینڈل تحقیقات، قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائیں

افغانستان میں ہزیمت، امریکہ کی پاکستان کو دھمکیاں اور ڈومور کا مطالبہ؟

Spread the love

افغانستان امریکہ پاکستان ڈومور

افغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد امریکہ کو اب اس ہزیمت کے ازالے کا

کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ کبھی وہ اشرف غنی حکومت پر تنقید کر رہا ہے تو

کبھی پاکستان کو دھمکیوں کیساتھ ساتھ ڈومور کا مطالبہ کر رہا ہے۔ سفارتی

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی شکست کے بعد پاکستان اور امریکہ

کے تعلقات اب ایک نئے موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جہاں سے یہ کوئی بھی رخ

اختیار کر سکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اب نہ صرف

پاکستان کیساتھ امریکی تعلقات کے از سر نو جائزے کی دھمکی دی ہے، بلکہ

یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اس وقت تک طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے

جب تک طالبان امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے مطالبات تسلیم نہیں کرتے۔

=–= ایسی ہی مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

امریکی کانگرس کے سامنے پالیسی بیان دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے

کہا کہ افغانستان کے مستقبل پر اب ہم پاکستان کیساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ

لیں گے۔ پاکستان کو افغانستان میں کیا کردار ادا کرنا ہو گا اس بات کا بھی جائزہ

لے رہے ہیں، انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ طالبان پر عالمی تقاضے

پورے کرنے کے لئے دباﺅ ڈالے، گو کہ پاکستان نے مختلف مواقع پر دہشتگردی

کیخلاف امریکہ کی مدد اور تعاون کیا، تاہم بعض مواقع پر امریکہ اور پاکستان

کے مفادات کا ٹکراﺅ بھی رہا، پاکستان نے ہمارے ساتھ تعاون بھی کیا اور

دوسری طرف ہمارے مفادات کیخلاف بھی کام کیا۔

=-،-= انخلا کی ڈیڈ لائن وراثت میں ملی تھی، بلنکن

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سفارتی مشن پر کام شروع کر

دیا گیا ہے۔ کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔

انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ افغانستان سے انخلاء میں تاخیر کی صورت

میں مزید جانی نقصان کا خدشہ تھا کیونکہ انخلا کی ڈیڈ لائن وراثت میں ملی تھی

تاہم اس کے لئے کوئی منصوبہ نہیں ملا تھا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری

2020ء میں طالبان کیساتھ معاہدہ اور امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد طالبان

مضبوط ترین فوجی پوزیشن میں تھے، جبکہ ہمارے پاس افغانستان میں سب سے

کم امریکی فوجی موجود تھے۔ ان حالات میں صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی صدر

جوبائیڈن کو اس بات کا انتخاب کرنا تھا کہ وہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ کریں

یا اسے مزید طوالت دیں اور صدر جوبائیڈن نے اس بے مقصدیت کو ختم کرنے

کا فیصلہ کیا۔

=-،-= ضرورت پر پاکستان سے محبت امریکہ کا وتیرہ

پاکستان اور امریکہ کے موجودہ تعلقات کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ

بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ اس وقت امریکہ فوجی سطح پر تو پاکستان

سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے، مگر بائیڈن انتظامیہ پاکستان کی حکومت

کے ساتھ بات کرنے سے کترا رہی ہے۔ ویسے بھی امریکہ کی یہ تاریخ ہے کہ

اسے جب بھی ضرورت پڑی تو اسے پاکستان کی محبت یاد آ گئی اور جب اس کا

مسئلہ حل ہو گیا تو اس نے اس محبت کو بھلانے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں

کیا۔ 80ء کی دہائی میں امریکہ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ اور

جنیوا معاہدے کے بعد افغانستان کو تنہا چھورنے کا خمیازہ بھگت چکا ہے، مگر

اب بھی بظاہر اس کے چال چلن ایسے ہی نظر آ رہے ہیں۔

=-،-= خطے میں نئی صف بندی کا آغاز

افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد خطے میں اب نئی صف بندی ہو رہی ہے

جس میں امریکہ کیساتھ ساتھ چین اور روس بھی اہم کھلاڑی ہیں جبکہ پاکستان

ایران، ترکی اور وسط ایشیائی ریاستوں کا بھی اہم کردار ہو گا۔ قطر اور خلیجی

ریاستیں بھی اس میں بھرپور حصہ لینے کی خواہشمند ہیں۔ چین نے گزشتہ 10

سال کے دوران نہ صرف طالبان کیساتھ اچھے مراسم قائم کئے ہیں، بلکہ اشرف

غنی کے فرار سے پہلے بھی اس نے طالبان اور کابل حکومت کے ساتھ متوازن

تعلقات کی پالیسی اپنائے رکھی تھی۔ اگرچہ 18 جولائی کو ملا عبدالغنی بردار کی

چینی وزیرخارجہ کیساتھ ملاقات بھی ہوئی تھی، اس کے باوجود چین کو اشرف

غنی کی حکومت کیساتھ تعلقات میں کوئی دشواری نہیں تھی۔ کابل پر طالبان کے

قبضے کے بعد چین نے نہ صرف اس کا خیر مقدم کیا بلکہ افغانستان میں تعمیر

نو کیلئے بھرپور مدد کا بھی عندیہ دیا۔ ملا عبدالغنی کیساتھ ملاقات میں چین کے

وزیرخارجہ نے طالبان کو افغانستان کی سیاسی و عسکری قوت قرار دیا۔

=-،-= چین کی مستقل مزاجی خطے کیلئے اہم

چین یہ سمجھتا ہے کہ طالبان اب افغانستان میں مختصر عرصے کے لئے نہیں

آئے اور ان کا رویہ بھی 20 سال پہلے کے مقابلے میں بہت تبدیل ہو چکا ہے ان

نتائج پر ہی وہ افغانستان کے بارے میں اپنی نئی پالیسی تشکیل دے رہا ہے۔ چین

اب افغانستان میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ جنگ کے ذریعے کسی

ملک میں اپنا سیاسی ماڈل مسلط کرنے سے تبدیلی نہیں آتی، بلکہ اس تبدیلی کا

واحد راستہ معاشی تعاون ہے، اور چین اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے

دنیا کی بہتری اور قیادت کے لئے تیار ہے، گویا چین افغانستان میں امریکہ کے

جانے سے پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لئے تیار ہے اور افغانستان کی

معدنی دولت اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے اس ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال

سکتا ہے۔ دوسری طرف اس کھیل میں دوسرا بڑا کھلاڑی روس ہے۔ روس چین

کے بعد وہ دوسرا بڑا ملک اور سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے جس نے

افغانستان سے امریکی انخلاء اور طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بھی وہاں

اپنا سفارتخانہ کھلا رکھا ہوا ہے۔

=-،-= روس کا افغان طالبان کیلئے رویہ خطے کیلئے خوش آئند

روس نے افغانستان اور چین پر دہشتگرد گروہوں کے جڑ پکڑنے اور وسط ایشیا

میں ان کے پھیلنے کے خدشات کو ذہن رکھا ہے اور طالبان کے ساتھ بہترین

ورکنگ ریلیشن شپ کو ترجیح دیتا ہے۔ ماسکو اگرچہ افغانستان میں وسیع البنیاد

حکومت پر زور دیتا ہے مگر اس میں وہ شدت نہیں جو مغربی ممالک کے

مطالبات میں ہے، اور وہ سمجھتا ہے کہ طالبان کیساتھ زیادہ آسانی سے معاملات

طے کر سکتا ہے۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں روس کا اقتصادی اثر و رسوخ اب

پہلے جیسا نہیں رہا، البتہ سکیورٹی کے حوالے سے وہ مضبوط اور تجربہ کار

شراکت دار ہے۔ روس کی جغرافیائی حیثیت بھی اہم ہے، اسلئے وہ ترکی، ایران

اور چین کیساتھ مل کر اچھا اتحاد بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

=-،-= ترکی کا بھی طالبان کیلئے نرم گوشہ نیک شگون

ترکی کو دیکھا جائے تو وہ اشرف غنی حکومت کے خاتمے سے پہلے ہی طالبان

کی حکومت کو تسلیم کرتا نظر آ رہا تھا اور اس نے کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول

سنبھالنے کیلئے ایک معاہدہ بھی کر لیا تھا، مگر فوج رکھنے کی اجازت نہ ملنے

پر یہ معاہدہ ختم ہو گیا اس کے باوجود تکنیکی مدد کیلئے ترکی کابل ایئرپورٹ

پر موجود ہے۔ افغانستان میں ترکی کی دلچسپی کاروباری اور سیاسی مقاصد کے

لئے ہے، صدر اردوان افغانستان کی تعمیر نو میں ترک کمپنیوں کو حصہ دلانا

چاہتے ہیں، اسلئے وہ طالبان کی حکومت تسلیم کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔

=-،-= چین کا خطے میں بڑھتا اثرو رسوخ امریکہ کیلئے تکلیف دہ

امریکی فوج اگرچہ افغانستان سے جا چکی ہیں مگر اس خطے سے چلے جانا

امریکہ کیلئے ناممکن ہے کیونکہ وہ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے

باعث خطے سے لاتعلق نہیں رہیگا۔ چین کا افغانستان میں اثر و رسوخ بڑھنے

سے خطے میں نئے محاذ کھل سکتے ہیں، جو امریکہ کو واپس آنے پر مجبور

کریں گے۔

=-،-= امریکہ کے مفادات پاکستان سے جڑے ہیں

افغانستان سے انخلاء کے بعد اگرچہ امریکہ پاکستان کو دھمکیاں دینے پر اتر آیا

ہے اور پاکستان بھی امریکہ کی بار بار کی بیوفائی سے نالاں ہے، تاہم الزام

تراشیوں اور شکووﺅں کا دور ختم ہو گیا۔ لہٰذا تعلقات از سر نو استوار کئے جائیں

گے اس بار پاکستان امریکہ سے معاشی یا فوجی مدد کی خواہش نہیں رکھے گا

اور واشنگٹن بھی کسی فوجی تعاون کی درخواست نہیں کرے گا مگر اس کے

باوجود امریکی مفادات پاکستان کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ دہشتگرد گروپوں کیخلاف

پاکستان کا تعاون امریکہ کی ضرورت ہے۔

افغانستان امریکہ پاکستان ڈومور ، افغانستان امریکہ پاکستان ڈومور

افغانستان امریکہ پاکستان ڈومور ، افغانستان امریکہ پاکستان ڈومور

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply