افضل گورو کی چھٹی برسی، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشتگردی کےخلاف احتجاج ، مظاہرے

Spread the love

مقبوضہ کشمیر میں کشمیری رہنماء محمد افضل گورو کی شہادت کی چھٹی برسی پر ہفتہ کو مکمل ہڑتال رہی ۔ سرینگر سمیت وادی بھرمیں دکانیں اور کاروباری مراکز بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل رہی، بھار ت نے محمدافضل گورو کو 2013 میں ہفتہ کے روز 9 فروری کو نئی دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی تھی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے دی تھی۔ ہڑتال کا مقصد محمد افضل گورو اور ممتاز کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کی میتوں کو اسلامی اقدار کے مطابق تدفین کیلئے نئی دلی کی تہاڑ جیل سے مقبوضہ کشمیر منتقل کرنے کے کشمیریوں کے مطالبے پر زور دینا تھا

۔مشترکہ حریت قیادت نے محمد مقبول بٹ کی شہادت کی برسی پر کل بروزپیر کو بھی مقبوضہ علاقے میں ہڑتال او ر لال چوک سرینگر کی طرف سے مارچ کی کال دی ہے ۔

بھارت نے محمد مقبول بٹ کوبھی 11فروری1984کو جد وجہدآزادی میں ان کے کردار کی پاداش میں نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں پھانسی دیکر انکی میتوں کو جیل کے احاطے میںہی دفن کر دیا تھا۔

قابض انتظامیہ نے حریت رہنمائوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، محمد اشرف صحرائی ، محمد یاسین ملکء ہلال احمد وار، جاوید احمد میر، مختار احمد وازہ ، محمد اشرف لایہ اور امتیاز حیدر کو شہید رہنمائوں کی برسیوں پر بھارت مخالف مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے گھروں اور تھانوں میں نظر بند کر دیا ۔

انتظامیہ نے مظاہرے روکنے کیلئے سرینگر اور محمد افضل گورو کے آبائی قصبے سوپور کے مختلف علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ کر دیں۔

جاگیر گھاٹ سوپور میں واقع محمد افضل گورو کے گھر کی طرف جانے والے تمام راستے سیل کر دیے گئے ۔ جسکا مقصد لوگوں کو شہید کے اہلخانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے انکے گھر جانے سے روکنا تھا۔

انتظامیہ نے مقبوضہ وادی میں ریل سروس بھی معطل کر دی ۔ حریت رہنمائوں سید علی گیلانی، میر وعظ عمرفاروق، محمد اشرف صحرائی، محمد یاسین ملک اور دیگر نے محمد افضل گورو اور محمد مقبول بٹ کو شہادت کی برسیوں پر شاندا ر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور انکے مشن کو ہرقیمت پر پایہ ء تکمیل تک پہنچائیں گے۔

Leave a Reply