اشرف غنی کی افغانستان میں دفتر کھولنے کی پیشکش، طالبان کا انکار

Spread the love

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو ملک میں دفتر کھولنے کی پیش کش کی ہے۔افغان صدر نے صوبہ ننگرہار کے ضلع غنی خیل کا دورہ کیا اور وہاں داعش کے خلاف کامیابی پر سیکیورٹی فورسز کو مبارک باد دی۔اس موقع پر افغان نیشنل آرمی سے خطاب کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے کہا کہ طالبان جہاں چاہیں دارالحکومت کابل، صوبہ قندھار یا ننگرہار میں اپنا سیاسی دفتر کھول سکتے ہیں جس کے لیے حکومت ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی اور تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا۔اشرف غنی نے کہا کہ وہ افغانستان میں باوقار اور دیرپا امن لانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ماسکو کانفرنس میں شرکت پر طالبان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امن مذاکرات کے لیے مکہ جانا بہتر ہے یا ماسکو، مکہ میں ہونے والی امن کانفرنس میں طالبان نے شرکت نہیں کی لیکن ماسکو میں منعقدہ امن مذاکرات میں شرکت کرلی۔ادھر افغان صدر کی پیش کش پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے طالبان قطر دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ طالبان کے سرکاری و سیاسی دفترکا مطالبہ واضح ہے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ طالبان دوحا سیاسی دفتر کے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی حمایت چاہتے ہیں، افغان صدر کی اصل بات سے ہٹ کر کی گئی پیشکش امن کے لیے جاری جدوجہد کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔افغانستان کے صوبے ننگر ہار میں افغان صدر اشرف غنی کے جلسے کے دوران مشتعل افراد نے احتجاج کیا اور نعرے بازی بھی کی۔مظاہرین نے افغانستان اور غیر ملکی افواج کے حملوں میں شہریوں کے قتل عام کے خلاف نعرے لگائے۔افغانستان کے صدر اشرف غنی مشتعل افراد کے مظاہرے کی وجہ سے تقریب ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔

Leave a Reply