جوبائیڈن تارکین وطن فیصلہ

امریکا نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فروخت روکدی

Spread the love

اسلحے کی فروخت روکدی

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن نیوز) امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ

نے سابق صدر کی پالیسی کا جائزہ لینے کی غرض سے سعودی عرب اور متحدہ

عرب امارات کو اسلحے کی فروخت عارضی بنیادوں پر روک دی۔عرب میڈیا

رپورٹ کے مطابق سیکریٹر آف اسٹیٹ اینٹونی بلینکن نے اپنی پہلی بریفنگ میں

بتایا کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو

اسلحے کی فروخت کی پالیسی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ اس جائزے کا

مقصد ہماری حکمت کے اہداف کو جدت بخشنے اور خارجہ پالیسی کو مؤثر بنانے

کے عمل کو یقینی بنایا ہے اور اس وقت ہم ایسا ہی کر رہے ہیں۔قبل ازیں امریکی

میڈیا میں رپورٹس آئی تھیں کہ بائیڈن انتظامیہ نے اربوں ڈالر مالیت کے اسلحے

کی فروخت عارضی طور پر بند کر دی ہے جس میں سعودی عرب کو فراہم کیا

جانے والا جدید اسلحہ اور متحدہ عرب امارات جو ایفـ35 کی فروخت بھی شامل

ہے۔امریکی صدر جوبائیڈن نے منصب سنبھالنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ امریکا

اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا اور اب وہ ٹرمپ کے

متعدد فیصلوں کا جائزہ لے رہے ہیں اور کئی پالیسیوں کو تبدیل بھی کر رہے ہیں۔

میڈیارپورٹ کے مطابق امریکا میں تعینات متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف

العطیبہ نے اپنے بیان میں کہا کہ متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میں امن و

استحکام کے لیے جوبائیڈن انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ

ایفـ35 امریکا جیسے اتحادیوں کو ملیٹری ہارڈ ویئرفروخت کرنے سے کہیں بڑا

پیکیج ہے، اس سے متحدہ عرب امارات کو کسی قسم کی جارحیت روکنے کیے

لیے مضبوط طاقت ملتی ہے۔متحدہ عرب امارات کے سفیر نے کہا کہ نئے مذاکرات

اور سیکیورٹی تعاون سے خطے کے اتحادیوں کو یقین دہانی میں مدد ملے گی۔یاد

رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تعلقات کو

مضبوط کیا تھا اور خطے میں ایران کو کو محدود کرنے کے لیے اسرائیل سے

تعلقات بہتر بنانے میں تعاون کیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ نے مئی 2019 میں ایران کے

ساتھ کشیدگی پر قومی ایمرجنسی نافذ کی تھی اور کانگریس سے سعودی عرب،

متحدہ عرب امارات اور اردن کو 8 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی اجازت

حاصل کی تھی۔سابق صدر نے سعودی عرب کا محدود پیمانے کے 29 کروڑ ڈالر

کا اسلحہ فروخت کرنیکا بھی معاہدہ کیا تھا جو گزشتہ برس دسمبر میں ختم ہوگیا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے نومبر میں کانگریس کو بتایا تھا کہ انہوں نے متحدہ عرب

امارات کو ایفـ35 اور مسلح ڈرونز سمیت 23 ارب ڈالر اسلحے کی فراہمی کی

منظوری دی ہے۔امریکی حکومت کا یہ فیصلہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان کے فوری بعد سامنے آیا تھا اس وقت کے

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ یہ ہمارے گہر تعلقات کا

مظہر ہے اور متحدہ عرب امارات کو جدید دفاعی نظام کی ضرورت ہے تاکہ وہ

ایران سے درپیش خطرات کا دفاع کر پائے۔ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے پر

امریکا میں انسانی حقوق کے اداروں کے علاوہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹک اراکین

نے بھی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے خطے میں اسلحے کی خطرناک دوڑ

شروع ہوگی۔

اسلحے کی فروخت روکدی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply