prime-minister imran khan

اسلام میں قانون سے بالاتر کوئی نہیں،عمران خان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام میں قانون

سے بالاتر کوئی نہیں ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں صدر اور وزیراعظم رہنے

والے خود کو عدالت میں بے قصور ثابت نہیں کرتے،نئے پاکستان سے متعلق میرا

ایک وژن ہے،پاکستان میں قانون کی بالادستی ہی مسائل کا حل ہے،ریاست مدینہ

کی بات انتخابات سے پہلے نہیں کی تھی۔وزیراعظم عمران خان نے ایوان صدر

اسلام آباد میں اقلیتوں کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ ،

الیکشن سے پہلے اپنا وژن عوام کے سامنے نہیں لایا، کئی لوگوں نے اسلام کے

نام پر دکانیں کھول رکھی ہیں، اسلام کی ریاست ماڈل حضرت محمدؐ نے بنائی تھی

پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، مدینہ کی ریاست کو بنانے کیلئے

اس کا مقصد سمجھنا چاہیے، ریاست مدینہ اپنے وقت کی جدید ترین ریاست تھی،

چاہتا ہوں کہ مدینہ کی ریاست پر تحقیقی مطالعہ کیا جائے، ریاست مدینہ نئے

پاکستان کیلئے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے، ملک میں ریاست مدینہ پر

یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کرانا چاہتا ہوں، حضرت محمدؐ کا اقلیتوں سے سلوک

ہمارے لئے مشعل راہ ہے، دنیا کی ترقی یافتہ ممالک نے ریاست مدینہ سے

رہنمائی حاصل کی، حضوراکرمؐ کی زندگی ہمارے لئے قیامت تک مثال رہے گی،

قرآن مجید میں حکم ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں، ایمان لانے پر اللہ کی

خاص رحمت ہوتی ہے، اسلام میں کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کی اجازت

نہیں، حضورؐ کے دور میں اقلیتوں کو مکمل آزادی حاصل تھی، مدینہ کی ریاست

جدید قوانین پر مشتمل تھی،ایمان لانا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے، آج کے دور میں

جدید معاشرے ریاست مدینہ کے مطابق چل رہے ہیں، قانون کی بالادستی نہ ہوتو

امیر اور غریب کیلئے الگ قانون ہوتا ہے، قانون کی حکمرانی سے زیادہ مسئلے

ختم ہو جائیں گے، گزشتہ دس سال میں 24ہزار ارب روپے کے قرض کا حساب

نہیں دیا جا رہا۔وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ بڑے چوروں کو جیل میں ٹی وی، فریج

اور اے سی دے رکھا ہے،ہمارامقصد نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا ہے، ہم قانون کی

بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں، میں نے 9 ماہ میں 60 دستاویزات دیں، بیرون

ملک سے پیسہ لے کر آرہا تھا، 10ہزار ارب قرضہ چڑھانے والے جواب نہیں دے

رہے، ہم ریاست مدینہ کے نظریات سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، ہمارا مقصد ریاست

مدینہ کی طرف جانا ہے، ملک میں 50فیصد لوگ ان پڑھ ہیں، اسلام سے متعلق

زبردستی کرنے والے اسلامی تعلیمات نہیں جانتے۔انہوں نے کہا کہ عوام میں

ریاست مدینہ کی سوچ پیدا کرنا ہو گی، اقلیتوں سمیت تمام لوگوں کے متحد ہونے

سے ملک مضبوط ہو گا، سکھ برادری کی سہولت کیلئے کرتارپور راہداری کی

بنیاد رکھی، کرتار پور راہداری سے سکھوں کو اپنی عبادات کی ادائیگی میں آسانی

میسر آئے گی، قرآن پاک کے حکم کے مطابق تمام اقلیتوں کو ہر طرح کا تحفظ

فراہم کریں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply