اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس،جے آئی ٹی تشکیل،2وکلا ءرہا

Spread the love

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ

اسلام آ باد (جے ٹی این آن لائن نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیس کی تحقیقات

کےلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی)تشکیل دےدی گئی۔ چیف کمشنر اسلام

آباد نے جے آئی ٹی تشکیل دی جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ جس

کے مطابق جے آئی ٹی میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایس ایس پی سی ٹی ڈی،

ایس پی صدر، ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او مارگلہ، آئی ایس آئی اور آئی بی کے

نمائندے بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہیں۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ

حملہ کیس میں ہائیکورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار سے مدد لے گی جب کہ تھانہ مارگلہ

اور رمنا میں اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ کیسزکی تفتیش کرے گی۔دوسری جانب

انسداددہشتگردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس حسن کی عدالت نے ہائیکورٹ

حملہ کیس میں گرفتار مزید ایک وکیل کو جوڈیشل کرتے ہوئے پہلے سے

گرفتار2وکلائ کی ڈسچارج رپورٹ پر رہائی کے احکامات جاری کردیے جبکہ

3وکلاءکی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پر دلائل طلب کرلیے۔گذشتہ روز

سماعت کے دوران پولیس نے گرفتار وکیل ینگ لائیرزفورم کے صدر شعیب گجر

کو عدالت پیش کیا جسے عدالت نے7روزہ جوڈیشل پر جیل بھیجنے کا حکم دےدیا،

اس موقع پرپولیس کی طرف سے پہلے سے گرفتار 2 وکلائ شعیب شیخ اور ظفر

وڑائچ کی ڈسچارج رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایاگیا کہ دونوں

وکلاءکے ہائیکورٹ حملہ میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے جس پر عدالت نے

دونون وکلائ کا نام کیس سے نکالتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری

کردیے، دوران سماعت پہلے سے گرفتار تین وکلاءسیکرٹری ڈسٹرکٹ بار لیاقت

منظور کمبوہ، خالد محمود اور محمد عمر کی جانب سے درخواست ضمانت بعد

ازگرفتاری دائر کی گئی، عدالت کو بتایاگیا کہ گرفتار خالدمحمود سرکاری ملازم

ہے پیمرا میں ملازمت کرتاہےوقوعہ کےوقت موقع پر موجود نہیں تھا،عدالت نے

دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک کیلئے ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ حملہ

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply