اسلام ، آئین سرعام پھانسی کے خلاف ،فروغ نسیم ،مخالفین ظالم لوگ ہیں، علی محمد خان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سرعام سزائے موت

کی مخالفت کر دی۔نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر قانون کا کہنا

تھا سر عام پھانسی اسلا می تعلیمات اور آئین کے منافی ہے، 1994ء میں سپریم

کورٹ سرعام پھانسی کی سزا کو غیر آئینی قرار دے چکی ، سپریم کورٹ کہہ

چکی ہے سرعام پھانسی آئین کیساتھ شریعت کی بھی خلا ف ورزی ہے، وزارت

قانون آئین اور شریعت کیخلاف کوئی قانون نہیں بنائے گی۔ دوسری طرف وزیر

مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے قبائلی نظام کو بُر ا کہنے پر اپنی ہی

پارٹی رکن اور وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو سخت جواب

دیدیا۔فواد چوہدری کی مذکورہ ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے علی محمد خان نے کہا

اللہ الحق اور اس کا حکم الحق ، اسلامی سزاؤں کو ظلم و بربریت کہنے والے خود

ظالم ہیں۔دوسرا قبائلی معاشرہ دنیا کا سب سے مہذب معاشرہ ہے جہاں عورت کی

عز ت، بڑوں کا ادب اور پختون ولی ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا قبائلی معاشرہ وہ

ہے جہاں سر قربان کیا جاتا ہے لیکن عزت نہیں، مجھے فخر ہے اپنے قبائلی

معاشرے پر۔ قبل ازیں ہفتے کے روز وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدر

ی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر بچو ں سے زیادتی کرنیوالوں کو

سر عام پھانسی دینے کی قرار داد کے حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں کہاکہ سرعام

پھانسی دینے کی کوئی بات ہی نہیں ، اگر پھانسیوں سے معاملات درست ہوتے تو

دنیا میں جرم ہی نہیں ہوتے ۔ بحث یہ ہے ہی نہیں کہ بچوں سے زیادتی کرنیوالوں

کیخلاف قوانین موجود نہیں ، قوانین موجود ہیں اور زینب قتل کیس سمیت درجنوں

کو پھانسی ہو چکی اور ہونی بھی چاہئے ،سوال یہ ہے یہ واقعات کیوں نہیں ر ک

رہے ،اسلئے سرعام پھانسی پر کوئی بات نہیں اور اگر صرف پھانسیوں سے

معاملات درست ہوتے تو دنیا میں جرم ہی نہ ہوتے ۔خیال رہے گزشتہ روز قومی

اسمبلی نے بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کی

قرارداد کثرت رائے سے منظور کی تھی۔ پیپلز پارٹی، حکومتی وزیر فواد

چودھری اور شیریں مزاری نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔وزیر مملکت پارلیمانی

امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات روکنے

کیلئے قرار داد پیش کی جس کے متن میں کہا گیا کہ بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنا

کر قتل کرنے والوں کو سرِعام پھانسی دی جائے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply