اسرائیل فلسطین کشیدگی میں کمی کی نئی کوششیں، جلد جنگ بندی کا امکان

اسرائیل فلسطین کشیدگی میں کمی کی نئی کوششیں، جلد جنگ بندی کا امکان

Spread the love

غزہ،بیت المقدس،واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) اسرائیل فلسطین کشیدگی

ایک ایسے وقت میں جب اسرائیلی آرمی چیف آویو کوچاوی نے کہا ہے صہیونی

فوج غزہ کی پٹی میں جاری فوجی کارروائی کو اگلے مراحلے میں منتقل کر رہی

ہے، عرب میڈیا کی جانب سے ذرائع سے خبر ملی ہے کہ غزہ میں جاری کشیدگی

کم کرانے کی نئی کوششیں شروع ہوئی ہیں جس کے بعد غزہ میں عنقریب فائر

بندی کا امکان ہے۔ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کی نگرانی مصر اور امریکا کریں

گے۔ اس حوالے سے امریکا اسرائیل کیساتھ جبکہ مصر فلسطینی تنظیموں سے بات

چیت کر رہا ہے، مذاکرات میں طویل جنگ بندی کی بات بھی شامل ہے۔ مصر اور

امریکا سمیت کئی دوسرے ممالک حماس اور اسرائیل میں طویل جنگ بندی کا

تحریری معاہدہ کرانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے جلد ہی مصر کا ایک وفد جنگ

بندی کا پروگرام لے کر تل ابیب جائے گا۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

جنگ بندی منصوبے میں غزہ میں تعمیر نو اور تعمیراتی موادی لے جانے کی

اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہو گی۔ جنگ بندی کی تجاویز کے باوجود

فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مصر کی ثالثی کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئی

ہیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے غزہ میں

جاری کشیدگی روکنے کیلئے فائر بندی رواں ہفتے کے آغاز میں ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت مصر کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز کو

پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔ مصری حکومت کا ایک وفد جمعرات کو تل ابیب سے

واپس قاہرہ چلا گیا ہے۔ مصری وفد نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی بری

کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مصر نے اسرائیل کی طرف سے تعاون

سے انکار کے بعد صہیونی ریاست کیساتھ تمام معاملات منجمد کرنے کی دھمکی

دی تھی۔

=–= حماس کیساتھ جاری جنگ خاتمے کے قریب نہیں، نیتن یاھو

اسرائیلی وزیراعظم بینامین نیتن یاھو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں حماس

کے زیر زمین اہداف پر بمباری کر رہا ہے جس کے نتیجے میں حماس کے اسلحہ

کے زیر زمین ذخائر کو تباہ کیا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی میں حماس کیساتھ محاذ آرائی

ختم ہونے کے قریب نہیں ہے۔ ہم حماس پر کاری ضربیں لگائیں گے اور ہم یہ کر

رہے ہیں۔ نیتن یاھو نے مزید کہا حماس کے رہنما بھاری قیمت ادا کریں گے۔ ہم

اپنے شہروں اور شہریوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ دوسری

طرف اسرائیلی چیف آف سٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کی زیادہ تر میزائل

صلاحیتیں ختم ہو گی ہیں۔

=–= تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

فوج کے ترجمان افیخائی ادرعی نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ گذشتہ شب 6

فضائی اڈوں سے لگ بھگ 160 طیاروں نے غزہ کی پٹی میں تقریبا 150 اہداف پر

بمباری جس میں 450 میزائلوں اور بموں کا استعمال کیا گیا۔انہوں نے نشاندہی کی

کہ ان بمباری کا مقصد زیر زمین مفادات کو متاثر کرنا ہے۔ بمباری میں غزہ شہر

کے آس پاس کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں زیرز مین اور میٹرو سروس کو

نشانہ بنایا گیا۔ یہ سرنگیں حماس کیلئے ایک تزویراتی خزانہ ہیں۔ ان پر بمباری کے

نتائج دن کے اوقات میں واضح ہوں گے۔ شمالی غزہ کی پٹی میں کئی کلو میٹر

سرنگوں کو زبردست دھچکا لگا ہے۔

=–= جو بائیڈن کا موقف کمزور، ہمیں اسرائیل کا ساتھ دینا ہو گا، پومپیو

سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے امریکی خارجہ پالیسی کمزور

ہے اور اسے اسرائیل کیساتھ کھڑا ہونا چاہیئے، ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کردہ ایک

بیان پومپیو نے کہا امریکا کی خارجہ پالیسی دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی

کرتی ہے اور دنیا کیلئے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی

قیادت کو واضح کرنا چاہیئے کہ ہم غیر متزلزل انداز میں اپنے اتحادی اور دوست

اسرائیل کیساتھ کھڑے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ وہ غزہ میں

کشیدگی کم کرنے کیلئے سعودی عرب اور مصر سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا وہ خطے کے رہ نماؤں سے مزید بات چیت کی

توقع کرتے ہیں۔ ہمارا مقصد فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی

روکنے کیلئے اقدامات کرنا اور خطے کے ممالک کے تعاون سے امن کوششوں کو

آگے بڑھانا ہے۔ اسرائیلی رہائشی علاقوں پر حماس کے راکٹ حملے کی مذمت

کرتے ہوئے اسرائیل کو اس کے دفاع کا حق دیتے ہیں۔ مقبوضہ بیت المقدس اور

غزہ میں ہونیوالے تشدد کے خاتمے میں عرب ممالک اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

=–= فلسطین پر قبضے کیلئے امریکی پیسہ اسرائیل کو نہ دیا جائے، رکن کانگریس

امریکا میں ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی کانگریس وویمن کوری بش

نے کہا ہے اسرائیل کے فلسطینی اراضی پر قبضے کی مدد کیلئے امریکی پیسہ

استعمال کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ ہم امریکی پیسے کو فلسطین پر اسرائیل کے

ناجائز تسلط کیلئے استعمال کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ امریکی ڈیموکریٹس کی

ایک بڑی تعداد نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت

المقدس اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کیساتھ اسرائیل کے ذریعہ کیے جانے

والے تشدد کو روکنے کیلئے اقدامات کرے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر برنی

سینڈرز نے اپنے ملک کی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں فلسطینی

خاندانوں کیخلاف اسرائیلی حکومت کے قریبی انتہا پسند گروپوں کی کارروائیوں

کو روکیں اور فلسطینی خاندانوں کو بے گھر کرنے سے باز رکھیں۔ اس تناظر میں

نوجوان ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ الیکذنڈریہ اوکاسیو کورٹیز نے امریکی حکومت

سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی فوج کے پرتشدد طریقوں سے فلسطینی عوام کے

حقوق کے تحفظ کے لیے زیادہ سے زیادہ قائدانہ کردار ادا کرے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ڈیموکریٹک رکن کانگریس مریم نیومین نے لکھا ہے کہ فلسطینی خاندانوں کو الشیخ

جراح میں رہنے کا حق ہے۔ ہم ان کے اس حق کی حمایت کرتے ہیں۔ فلسطینی نژاد

امریکی رکن کانگریس رشیدا طلیب نے امریکی وزیر خارجہ انٹنی بلنکن سے

سوال کیا کہ امریکا، فلسطینیوں کیخلاف ہونیوالے نسل پرستانہ تشدد کی کب مذمت

کرے گا؟ کیا آپ کی پالیسی بھی فلسطینیوں کے حقوق چوری کرنیوالوں کی حمایت

پر مبنی ہے؟ امریکا کب تک نیتن یاہو کی نسل پرست حکومت اور نسل پرست

ریاست کی حمایت کرتا رہے گا۔ متعدد ڈیموکریٹک سیاستدانوں نے یروشلم اور

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیل کی من مانی پالیسیوں کی بھی

مذمت کی۔ ان میں مینی سوٹا سے رکن کانگریس الہان عمر، میسوری کی کوری

بش، انڈیانا پولس کے آنڈرے کارسن، مشی گن کی ڈیبی ڈنگل و ریاست وسکونسن

کے مارک بوچن شامل ہیں۔

اسرائیل فلسطین کشیدگی ، اسرائیل فلسطین کشیدگی ، اسرائیل فلسطین کشیدگی

Leave a Reply