jtn jaiza2

اسرائیل فلسطین تنازع، عالمی برادری اپاہج ہوچکی یا بڑی جنگ کی خواہاں؟

Spread the love

ڈیرہ اسماعیل خان ( جرنل ٹیلی نیٹ ورک جائزہ رپورٹ ) اسرائیل فلسطین تنازع

اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین سب سے پرانے ایشوز ہیں جنہیں

آج تک حل نہیں کیا جا سکا- اسرائیل کی فلسطینیوں پر جارحیت عروج پر ہے

جبکہ فلسطینی بھی اپنے دفاع میں حصہ بقدر جُسا صہیونی حملوں کا جواب دے

رہے ہیں، امن پسند عالمی رہنما اور ممالک جنگ بندی کی اپیلیں کر رہے ہیں مگر

سیز فائر کا کوئی فوری امکان نظر آ رہا ہے نہ ہی فریقین کے مابین ثالث کا کردار

ادا کرنے کو کوئی تیار ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نہتے

شہریوں پر دہشت گردی کے باوجود امریکہ کا کھل کر اسرائیل کا ساتھ دینا ثابت

کرتا ہے واشنگٹن دہشتگردی کی پشت پناہی کررہا ہے جبکہ ایسی سنگین صورت

حال کے باوجود اقوام متحدہ ایک غلام ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے

تو او آئی سی کی حیثیت بھی ایک مردہ گھوڑے جیسی دکھائی دے رہی ہے جس

کی کوئی اہمیت یا وقعت نہیں ہوتی۔

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگ ( =–= پڑھیں =–= )

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انٹونیو گوٹیرش نے یوں تو فوری جنگ بندی کا

مطالبہ کر رکھا ہے جسے کوئی سننے کو تیار ہے نہ حیثیت و اہمیت دیتا نظرآہا

ہے، تاہم اقوام متحدہ کے سربراہ کے مطابق وہ اور ان کا ادارہ فوری جنگ بندی

کیلئے فریقین کیساتھ مسلسل رابطوں میں ہیں اور انہوں نے صہیونی حکومت اور

حماس تنظیم سے ثالثی کی کوششوں کو تیز اور کامیاب بنانے کی اجازت دینے کا

مطالبہ کیا ہے، لیکن اقوام متحدہ کو سلامتی کونسل میں امریکی رکاوٹوں کی وجہ

سے اسرائیل فلسطین تنازعے کے سفارتی حل میں اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے میں

مشکلات کا سامنا ہے۔ اسوقت سلامتی کونسل کی سربراہی چین کے ہاتھ میں ہے،

جس نے الزام عائد کیا ہے امریکا کسی بھی قرار داد میں بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکا

ماضی میں ہر اس قرارداد کو ویٹو کرتا آیا ہے، جو اسرائیل کیخلاف تھی۔ اسرائیل

امریکا جہاں مشرق وسطیٰ میں قریبی اتحادی ہیں وہیں اسرائیل کو فوجی ساز و

سامان فراہم کرنے میں بھی امریکا کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے جب بھی اسرائیل

اور فلسطینیوں کے مابین کوئی تنازعہ پیدا ہوا، امریکا اسرائیل کو مذاکرات کی میز

پر لانے میں کامیاب رہا۔

اسرائیل اور امریکا کے مابین دوستانہ تعلقات کا عروج سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے

دور میں دیکھنے میں آیا، جب تمام دنیا کے بڑے ممالک کی مخالفت کے باوجود

ٹرمپ نے امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم ( مقبوضہ بیت المقدس )

منتقل کر دیا۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا، جسے اسرائیل میں بھرپور پذیرائی حاصل

ہوئی۔ ٹرمپ نے ایک امن منصوبہ پیش کیا، جو بری طرح ناکام ہوا۔ یہ منصوبہ

زیادہ تر اسرائیل کے فائدے میں تھا اور اس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو

اسرائیل کا لازمی حصہ تسلیم کیا گیا تھا۔ حالیہ تنازعے میں جو بائیڈن انتظامیہ فی

الحال خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اوباما یا پھر ٹرمپ انتظامیہ کے

برعکس لگتا یوں ہے بائیڈن انتظامیہ کیلئے یہ مسئلہ سرفہرست یا انکی ترجیحات

میں شامل نہیں۔ امریکا کا اسوقت اسرائیل میں کوئی سفیر ہی موجود نہیں ہے۔

دوسری طرف عرب لیگ نے امریکا سے مشرق وسطیٰ امن عمل میں مزید موثر

کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بائیڈن انتظامیہ

کسی نئے امن منصوبے کیساتھ کب تک سامنے آتی ہے۔ فارن پالیسی کے لحاظ

سے بائیڈن انتظامیہ کی توجہ ایران، افغانستان پر مرکوز ہے۔ انہوں نے اسرائیلی

اور فلسطینی دلدل میں براہ راست ملوث نہ ہونے کا انتخاب کیا ہے۔ یورپی یونین

کے خارجہ امور کے نگران اور اعلیٰ ترین عہدیدار یوزیپ بوریل نے اسرائیل اور

فلسطینی علاقوں میں تشدد کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ بوریل کا کہنا ہے

وہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کیساتھ ساتھ اقوام متحدہ، امریکا، یورپی یونین اور

روس کیساتھ رابطوں میں ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

یورپی یونین کا یوں تو مشرق وسطیٰ امن عمل میں کبھی بھی قائدانہ کردار نہیں رہا

بلکہ یورپی یونین نے ہمیشہ انسانی امداد کی فراہمی پر توجہ مرکوز کیے رکھی

ہے۔ یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی کو امداد فراہم کرنیوالی سب سے بڑی ڈونر ہے۔

اس کی طرف سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ پٹی، مغربی کنارے میں 2000ء

کے بعد سے 700 ملین یورو کی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ اسرائیل کیساتھ

مغربی سرحد رکھنے والے مسلم ملک مصر کی خفیہ ایجنسیوں کے حماس کیساتھ

اچھے روابط ہیں۔ ویک اینڈ پر دو گھنٹے کی فائر بندی کیلئے ہونیوالی ثالثی کی

کوششوں میں مصر نے اقوام متحدہ اور قطر کیساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کیا۔ اس

مختصر فائربندی کا مقصد غزہ کے واحد بجلی گھر کیلئے فیول فراہم کرنا تھا،مگر

یہ کوشش ناکام ہو گئی کیونکہ اسی دوران اسرائیل نے حماس کے چیف یحییٰ

السنوار کے گھر کو نشانہ بنایا۔

=-.-= موجودہ صورتحال پر آنکھ بند کرنا تباہی کو دعوت دینا ہے

عالمی طاقتوں، بین الاقوامی برادری اور مسلم دنیا کی تازہ ترین صورت حال کو مدِ

نظر رکھتے ہوئے نظر یہ آ رہا ہے کہ پوری دنیا اپنے اپنے مفادات کو مقدم سمجھ

کر اسرائیل فلسطین کشیدگی کو روکنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کے بجائے

ایک بڑی جنگ کو دعوت دے رہی ہے، جس کا نتیجہ سوائے تباہی و بربادی کے

کچھ نہیں ہو گا، اگر عالمی طاقتوں نے دانشمندی کا ثبوت نہ دیا تو جن مفادات کی

وجہ سے وہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اس کی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے،

لہذا عالمی برادری ہوش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل

کے پلیٹ فارمز سے منظور کردہ اپنی قراردادوں پر فوری عملدرآمد، دو ریاستی

حل یقینی بنائے جبکہ بیت المقدس کو اسرائیل اور فلسطین کا مشترکہ دارالحکومت

قرار دیا جائے، جہاں تک مذہبی مقامات کا تعلق ہے تو انہیں تمام مذاہب کیلئے فری

زون بنا کر اس کی نگرانی عالمی برادری کو تفویض کی جائے- بصورت دیگر یہ

کہنا کسی طور بے جا نہ ہوگا کہ پوری دنیا اپنی آنکھوں پر مفادات کی پٹی باندھ کر

کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے یہی سمجھ رہی ہے کہ بلی اسے نہیں دیکھ رہی

جو کے خام خیالی کے مترادف ہے-

اسرائیل فلسطین تنازع ، اسرائیل فلسطین تنازع ، اسرائیل فلسطین تنازع

Leave a Reply