اسرائیلی حکومت کی عرب ممالک کے خلاف ایک اور نئی چال سامنے آگئی

Spread the love

اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نےانکشاف کیا ہے کہ حکومت عرب ممالک سے یہودیوں کی متروک املاک اور جائیدادوں کا معاوضہ طلب کرنے کی تیاری شروع کی ہے۔اسرائیل کا دعوی ہے کہ صہیونی ریاست کے قیام کے بعد عرب ملکوں سے یہودی اپنی جائیدادیں چھوڑ کر اسرائیل میں آباد ہوئے اور ان کی املاک پر وہاں کی حکومتوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت جلد ہی عرب ممالک سے یہودیوں کی متروکہ جائیدادوں کامعاوضہ مانگے گی۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ یہودی عرب ممالک میں 50 ارب ڈالر کی جائیدادیں چھوڑ کر آئے تھے اور اب ان کی مالیت اڑھائی کھرب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ امریکا کی طرف سے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن منصوبے”صدی کی ڈیل” میں اسرائیل کو عرب ممالک سے یہودیوں کی املاک کا معاوضہ دلوانا بھی شامل ہے۔صہیونی حکومت نے کہا ہے کہ لیبیا اور تیونس میں یہودی 50 ارب ڈالر کی جائیدادیں چھوڑ کرآئے جب کہ دیگر عرب ممالک سے آنے والے یہودیوں کی رہ جانے والی جائیدادوں کی مالیت 2 کھرب 50 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران مراکش، عراق، شام، مصر، یمن ایران سمیت دوسرے ملکوں میں موجود یہودیوں کی جائیدادوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کی مالیت معلوم کی گئی۔ سنہ 2010 میں اسرائیلی کنیسٹ نے ایک بل منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ عرب ممالک کے ساتھ امن مذاکرات میں یہودیوں کی متروکہ جائیدادوں کی قیمت ادا کرنے پر بھی بات چیت کی جائے۔خیال رہے کہ یمن سے قریبا 50 ہزار یہودی 425 پروازوں کے ذریعے صہیونی ریاست منتقل کیے گئے۔ عراق سے ایک لاکھ 13 ہزار یہودیوں کومنتقل کیاگیا۔

Leave a Reply