khabar i Hai jtnonline 97

استعمال شدہ کوکنگ آئل، ضائع ہونیوالی خوراک کو بے کار مت سمجھیں

Spread the love

اسلام آباد(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) استعمال شدہ کوکنگ آئل

استعمال شدہ کوکنگ آئل اور ضائع ہونیوالی خوراک کی مدد سے بائیو ڈیزل کی تیارکرکے پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ پاکستان میں بائیو ڈیزل کی تیاری کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ مزید پڑھیں

بائیو ڈیزل سے فضائی آلودگی میں کمی کا سبب

معروف تجزیہ کاراختر علی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بائیو ڈیزل کے استعمال سے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوکنگ آئل کی مارکیٹ کا تخمینہ 4 ملین ٹن سالانہ ہے۔ کوکنگ آئل کی مجموعی کھپت میں سے اگر صرف 10 فیصد استعمال شدہ خوردنی تیل کو اکٹھا کرنے کا نظام وضع کرلیا جائے تو بائیو ڈیزل کی تیاری کے لئے سالانہ 4 لاکھ ٹن استعمال شدہ خوردنی تیل استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں

ڈیزل کی درآمدات میں فوری 5 فیصد کی یقینی کمی

اختر علی کی رپورٹ کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں ضائع ہونیوالے اگر یومیہ 5 لاکھ لیٹرز ویجی ٹیبل آئل کو اکٹھا کیا جاسکے تو اس سے سالانہ ایک لاکھ 82 ہزار ٹن تیل دستیاب ہوگا۔ پاکستان میں ڈیزل کی سالانہ کھپت 7 ملین ٹن ہے اس طرح استعمال شدہ خوردنی تیل اور ضائع ہونیوالی خوراک کی مدد سے ڈیزل کی مجموعی کھپت کے 5 فیصد کے مساوی بائیو ڈیزل پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اختر علی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ استعمال شدہ کو کنگ آئل اور ضائع ہونیوالی خوراک سے بائیو ڈیزل کی تیاری سے صرف ڈیزل کی فوری درآمدات میں 5 فیصد کمی لائی جاسکتی ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ حکومت کو چاہیے وہ اس طرف فوری طور پر توجہ دے اور جلد عملی اقدامات اٹھائے-

Leave a Reply