Imran Khan Prim minister Pakistan

لوٹی دولت واپس کریں استعفا دیدونگا، عمران خان

Spread the love

استعفا دیدونگا عمران خان

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو اپنے

استعفے کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن لوٹا ہوا پیسہ

واپس کرے تو استعفی دے دوں گا،نواز شریف، آصف زرداری اور فضل الرحمان

میں اخلاقی جرات اور ہمت ہے تو قوم کا پیسہ واپس لوٹائیں، تفصیل کے مطابق

منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،

اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں اپوزیشن کی تحریک اور

سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے نہ لانگ مارچ کیا نہ

لوگوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے،31دسمبر بھی گزر گیا پھر31جنوری

بھی گزر گئی اور اب اسمبلیوں سے استعفے دینے کے بجائے یہ سینیٹ الیکشن لڑ

رہے ہیں جبکہ استعفے دینے کے بجائے اپوزیشن اب سینیٹ کے فضائل بیان کر

رہی ہے، پوری زندگی جھوٹے وعدے کئے اور اس بار بھی استعفوں پر جھوٹ

بولا ہے، استعفے دینے کیلئے اخلاقی جرات اور کردار کی ضرورت ہوتی

ہے،وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن میں ہمت ہوتی تو این آر او کر کے ملک سے نہ

بھاگتے، وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں ارکان کے سامنے اپوزیشن کو اپنے

استعفے کی مشروط پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن رہنماء ملک و قوم کالوٹا

ہوا پیسہ قوم کو واپس لوٹادیں تو میں وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کو

تیار ہوں، میاں نواز شریف، آصف زرداری اور فضل الرحمان ملک کا لوٹا پیسہ

واپس کریں، وزیراعظم نے کہا کہ جن کا پیسہ بیرون ملک پڑا ہو ان میں ہمت نہیں

ہوتی جبکہ یہ لوگ ماضی میں جدہ اور سوئٹزرلینڈ بھاگتے رہے ہیں،اجلاس میں

وزیراعظم عمران خان نے جی الیون سگنل پر حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے

سے متعلق فوری رپورٹ طلب کر لی،عمران خان نے وزرا کی سیکیورٹی اور

پروٹوکول کا بھی نوٹس لیتے ہوئے کہا وزرا سیکیورٹی کے نام پر سرکاری وسائل

کا غیرضروری استعمال نہیں کر سکتے ، وزراکے پاس کتنی سیکیورٹی ہے؟

رپورٹ دی جائے،مجھے بتایا جائے کس کس کے پاس کتنی سیکیورٹی ہے ۔اے ایچ

ایس انٹرنیشنل ائیر لائن کے لائسنس کی تجدید نو کا فیصلہ موخر کردیا گیا جبکہ

تاریخی یادگاروں کو محفوظ بنانے کیلئے انڈیا سے مخصوص پتھر منگوانے کی

معاملہ بھی موخر کردیا گیا ۔کابینہ نے ای سی سی کے 28 جنوری کے فیصلوں کی

توثیق کردی۔ سی پیک سے متعلق کمیٹی کے26 جنوری کے فیصلوں،کابینہ کمیٹی

برائے قانونی مقدمات کے 21 جنوری کے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی ۔متبادل

تنازعاتی حل ایکٹ کے تحت غیرجانبدرانہ پینل کی تعیناتی کی منظوری دی گئی

ہے۔اسلام آباد میں لاپتہ افراد سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل پر کابینہ کو بریفنگ دی

گئی ۔ وزیر اعظم ایجوکیشن ریفارمز پروگرام کے تحت بسوں کی آپریشنل پالیسی

کی منظوری بھی دیدی گئی ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا

کہ ملک بھر میں تدریسی عمل کل سے بحال ہو چکا ہے۔ وزیر اعظم کا اس موقع

پر کہناتھاکہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا احتیاط کی ضرورت ہے۔ویکسین کے لیے

ترجیحات متعین کردی ہیں۔ویکسین کسی بھی تفریق کے بغیر لگائی جائے گیاجلاس

کے بعد بریفنگ دیتے ہو ئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر شبلی فراز نے

کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد حادثہ کا نوٹس لیا،گھر بنانے کے لئے

بینک 378ارب کا قرضہ عوام کو فراہم کریں گے،عوام کی خدمت کیلئے

برسراقتدار آئے ہیں، وزراء کی اضافی سیکورٹی اور گاڑیاں سب سے واپس لی

جائیں گی،کسی کو اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرنے دیں گے۔۔شبلی فراز نے

کہا کہ سرکاری زمین اور اثاثوں کی حفاظت ہمارا آئینی، اخلاقی اور جمہوری

فرض بنتا ہے اور سرکاری یا سیاسی سرپرستی میں غیرقانونی قبضے کے خلاف

سخت کارروائی کی جائے گی۔سرکاری زمینوں خصوصاً ریلوے کی زمین پر لوگ

بہت آسانی سے قابض ہو جاتے ہیں اور وہاں مختلف سرگرمیاں شروع کر دیتے

ہیں۔وزیر ریلوے اعظم سواتی کو تلقین کی گئی ہے کہ اس معاملے کو بہت سختی

سے لینا ہے اور حکومت کی زمین اور اثاثوں کی حفاظت ہمارا آئینی، اخلاقی اور

جمہوری فرض بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ زمینوں پر قبضے کرتے ہیں تو

قانون کی حکمرانی کو دھچکا لگتا ہے اور لوگوں خصوصاً بیرون ملک رہنے

والوں میں عدم تحفظ کا احساس جنم لیتا ہے لہٰذا ہم نے ایسے اقدامات کرنے ہیں

جس سے لوگ اپنی زمینوں کے بارے میں فکرمند نہ ہوں۔شبلی فراز نے کہا کہ

کوئی بھی غیرقانونی قبضہ جو سرکاری یا سیاسی لوگوں کی سرپرستی میں ہو گا

تو اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک نیا پاکستان

ہاؤسنگ کا تعلق ہے تو یہ نہیں ہے کہ حکومت یہ گھر بنائے گی، حکومت کا کام

ہے کہ وہ لوگوں کے لیے سہولت کار بنے جو گھر خرید نہیں سکتے یا ان میں ان

معاشی سکت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو

عملی جامع پہنایا، وزیر اعظم گزشتہ 18 مہینے سے ہفتہ وار میٹنگ کرتے ہیں اور

حکومت نے ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس میں مکان کے لیے این او سی،

نقشے پاس کرنے کا عمل مختصر وقت میں کردیا جائے گا اور 30 دن سے تین

مہینے میں جاری کردیے جائیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بینک کم کے گھروں

کے کسی کو قرض نہیں دیتے تھے لیکن حکومت نے اسٹیٹ بینک کی وساطت

سے دیگر بینکوں کو راضی کیا ہے کہ بینک جتنے بھی قرضے دیتے ہیں اس میں

سے پانچ فیصد یعنی 378 ارب روپے اس کم لاگت کے گھروں کے منصوبوں کے

لیے مختص کریں گے.

وفاقی کابینہ

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply