Nusrat Fateh Ali Khan

جدید فن موسیقی میں پاکستان کی پہچان نصرت فتح علی خان کو دنیا سے گئے 23 برس بیت گئے

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

( تحریر ….. ڈاکٹر بی اے خرم ) استاد نصرت فتح علی

مشہور قوال فتح علی خاں کے گھر 13 اکتوبر 1948ء کو فیصل آباد میں ایک

بچے نے جنم لیا، بچے کو اپنے والد محترم اور تایا مبارک علی خان کو دیکھتے

ہوئے قوالی سے شغف پیدا ہوا، اپنے شوق کے تسکین کے لئے جب قوالی گائی

تو ان کی پہچان نصرت فتح علی خان کے نام سے ہوئی، ان کے خاندان نے قیام

پاکستان کے وقت مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کرکے فیصل آباد

میں سکونت اختیار کی تھی-

آپکے دادا کا افغان دارالحکومت کابل کی پٹھان شاخ نورزئی سے تعلق تھا

بعد میں بھارت کے صوبے مشرقی پنجاب کی شہر جلندھر میں آباد ہوئے،

پاکستان میں نصرت فتح علی خان کا پہلا تعارف اپنے خاندان کی روایتی رنگ

میں گائی ہوئی، ان کی ابتدائی قوالیوں سے ہوا، استاد نصرت فتح علی خان نے

اپنی تمام عمر قوالی کے فن کو سیکھنے اور اسے مشرق و مغرب میں مقبول

عام بنانے میں صرف کر دی۔ انہوں نے صوفیائے کرام کے پیغام کو دنیا کے

کونے کونے تک پہنچایا اور ان کے فیض سے خود انہیں بے پناہ شہرت نصیب

ہوئی۔

”علی مولا علی“ انکی یادگار قوالی تھی جس نے انہیں شہرت کی بلندی عطا کی

وہ شہرت کی مزید بلندیوں پر اس وقت پہنچے جب پیٹر جبریل کی موسیقی میں

گائی گئی ان کی قوالی”دم مست قلندر مست مست“ریلیز ہوئی۔ اس مشہور زمانہ

قوالی سے پہلے خاں صاحب امریکہ میں بروکلن اکیڈمی آف میوزک کے نیکسٹ

ویوو فیسٹول میں اپنے فن کے جوہر دکھا چکے تھے، لیکن ”دم مست قلندر مست

مست“کی ریلیز کے بعد انہیں یونیورسٹی آف واشنگٹن میں موسیقی کی تدریس

کی دعوت دی گئی بین الاقومی سطح پر صحیح معنوں میں ان کا تخلیق کیا ہوا

پہلا شاہکار 1995ء میں ریلیز ہونے والی ف”’ڈیڈ مین واکنگ“کا ساؤنڈ ٹریک تھا

بعد میں انہوں نے ہالی وڈ کی فلم”دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ“اور بالی وڈ

میں پھولن دیوی کی زندگی پر بننے والی متنازع فلم ”بینڈٹ کوئین“‘کے لیے بھی

موسیقی ترتیب دی

آپ کے والد آپ کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے

نصرت فتح علی خان کے سامنے تو ایک اور ہی دنیا تسخیر کی منتظر تھی ساز و

آواز سے نصرت فتح علی کی روح اور دل کی ہم آہنگی ہی کے باعث سننے

والے ان کے کلام میں کھو جایا کرتے ہیں، استاد نصرت فتح علی خان نے بین

الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا. ٹائم میگزین نے 2006ء میں

ایشین ہیروز کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل کیا، بطور قوال اپنے کیریئر

کے آغاز میں اس فنکار کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا-

نصرت فتح علی خان کی قوالیوں کے پچیس البم ریلیز ہوئے

جن کی شہرت نے انہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی ان کے مقبول

گیتوں میں” اکھیاں اڈیک دیاں“،”یار نا وچھڑے“،”میرا پیا گھر آیا“ اور میری

زندگی سمیت متعدد شامل ہیں، نصرت فتح علی خان کی ایک حمد” وہ ہی خدا ہے“

کو بھی بہت پذیرائی ملی جبکہ ایک ملی نغمے ”میری پہچان پاکستان“ اور

مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لئے گایا گیا گیت

” جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم“ آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسے ہیں

نصرت فتح علی خان کو ہندوستان میں بھی بے انتہا مقبولیت اور پذیرائی ملی

جہاں انہوں نے جاوید اختر، لتا مینگیشکر، آشا بھوسلے اور اے آر رحمان

جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا- استاد نصرت فتح علی خان نے جس طرح اپنے

فن کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیا، اس طرح فن موسیقی میں پاکستان کو

پوری دنیا میں متعارف کرانے کا کریڈٹ صرف اور صرف استاد نصرت فتح علی

خان کو جاتا ہے، ان کی فنی خدمات کے صلہ میں انہیں حکومت پاکستان کی

جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا-

نصرت فتح علی خان بیک وقت موسیقار بھی تھے اور گلوکار بھی تھے

انہوں نے اپنے فن کو اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بنایا اور دنیا بھر میں بے شمار

غیر مسلموں کو مسلمان کیا۔ موسیقی میں نئی جہتوں کی وجہ سے ان کی

شہرت پاکستان سے نکل کرپوری دنیا میں پھیل گئی۔ استاد نصرت فتح علی خاں

نے فن موسیقی کی روحانی کیفیات کے ذریعے پوری دنیا کو مرید بنائے رکھا۔

عالمی سطح پر جتنی شہرت انھیں ملی وہ شاید کسی اور موسیقار یا گلوکار

نصیب نہیں ہوئی۔

انھیں گیت، غزل ، قوالی ،کلاسیکل، نیم کلاسیکل پر مکمل عبور حاصل تھا۔

وہ حقیقی معنوں میں پاکستان کے بہترین سفیر تھے کہ جہاں لفظ”پاکستان“ سے

لوگ ناواقف تھے وہاں پاکستان کو ایک عظیم ملک کے طور پر متعارف کرایا۔

1995ء میں انہیں یونیسکو میوزک ایوارڈ دیا گیا جبکہ 1997ء میں انہیں گرامی

ایوارڈز کیلئے نامزد کیا گیا-موسیقارایم ارشد نے کہا کہ وہ لاجواب آرٹسٹ

اورمیوزک کو سمجھنے والے آدمی تھے۔ ان جیسے فنکار صدیوں میں پیدا ہوتے

ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ موسیقی کے ماتھے کا جھومر تھے تو بے جا نہ

ہوگا۔

نصرت فتح علی خاں جگر اور گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے

1997ء میں شدید تکلیف کے باعث لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے

بعد بالآخر 16 اگست 1997ء کو محض 48 سال کی عمر میں دنیا سے کوچ کر

گئے، رب کائنات ان کے درجات بلند اور مغفرت فرمائے-

یہ بھی پڑھیں : علی دا ملنگ میں تے علی دا، کی 71 ویں سالگرہ
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

استاد نصرت فتح علی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply