Imran Khan Prim minister Pakistan 72

اداروں میں اصلاحات کر کے مزید بہتری لائیں گے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میرٹ کے نظام پر چل کر ہی ملک ترقی کی طرف جا سکتا ہے، اداروں

میں اصلاحات کر کے مزید بہتری لائیں گے۔ 2019ء میں معیشت میں استحکام لائے، 2020ء میں حکومت معیشت میں مزید بہتری

لائے گی، عوام کے لیے نوکریاں پیدا کرینگے۔پاکستان پوسٹ کے ذریعے ترسیلات زر بھجوانے کی سکیم کا افتتاح کی تقریب سے خطاب

کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اوور سیز پاکستانی بیرون ملک محنت کرتے ہیں، ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے، اوور سیز

پاکستانیوں کے مسائل اچھی طرح سمجھتا ہوں، بیرون ملک رہنے والے پاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ جب سے ہماری حکومت آئی تمام

سفیروں کوپاکستانیوں کا خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے،ان کا کہنا تھا کہ گورنمنٹ لوگوں کے لیے ہوتی ہے جس کا کام عوام کے مسائل حل

کرنا ہوتا ہے، جمہوریت اور بادشاہت میں بہت فرق ہوتا ہے، جمہوریت میں لوگوں کی خدمت کی جاتی ہے جبکہ بادشاہت میں صرف

بادشاہت کی خدمت کی جاتی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہماری حکومتوں نے اداروں کا مائنڈ سیٹ تبدیل نہیں کیا،

سرکاری دفاتر میں جب لوگ کام کروانے جاتے ہیں تو وہاں سرکاری افسر کسی کا احسان سمجھ کر انہیں ڈیل کرتے تھے۔ پاکستان پوسٹ کی

طرح عوام کیلئے ا?سانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرکاری سکولوں میں بھی سہولتیں لانا چاہتے ہیں جیسا پرائیویٹ

اداروں میں طلبہ کو تعلیم دی جاتی ہے۔ لوگوں کا مائنڈ سیٹ بدلنے میں وقت لگے گا، لیکن یہ ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے اجلاس

میں ہر وزیر سے پوچھتا ہوں کہ لوگوں کی آسانی کے لیے کوئی ایک کام کریں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا مزید کہنا تھا

کہ پولیس میں تھانے کلچر تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، پنجاب میں جو نئے آئی جی آئے ہیں ان سے کہا ہے کہ پولیس کلچر بدلیں،

کیسے ہوگا کہ عوام سمجھیں کہ تھانے عوام کی حفاظت کے لیے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میرٹ کے نظام پر چل کر ہی ملک ترقی کی

طرف جا سکتا ہے، جمہوریت میں میرٹ پر لوگ اوپر ا?تے ہیں، ہم لوگ جمہوریت کی بجائے بادشاہت کی طرف چلے گئے جبکہ یورپ

میں بادشاہت کی بجائے لوگ جمہوریت کی طرف آ گئے۔ چین کی ایک بہترین مثال ہے، جہاں کمیونسٹ پارٹی نے میرٹ کو ترجیح دی،

صدر شی جنگ پنگ اس کی بہترین مثال ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی آئی اے، پاور سیکٹر میں چوری روکی جس کے باعث 100 ارب

سے زائد حکومتی خزانے میں آئے، 2018ء سال مشکل ترین سال تھا۔ اس سال ہم نے معیشت کو بہتر کرنا تھا، امپورٹ اور ایکسپورٹ میں

بہت فرق تھا، ملک کے حالات بہت مشکل تھے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ 2019ء میں حکومت معیشت میں استحکام لائے، 2020ء میں

حکومت معیشت میں مزید بہتری لائے گی، عوام کے لیے نوکریاں پیدا کرینگے، غربت کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا ’’احساس

پروگرام‘‘ مزید بڑھائیں گے تاکہ غریب کو اٹھائیں۔

Leave a Reply