احتساب سے کوئی بالاتر نہیں، آئینی معاملے کو سیاست کی نذر کرنا بدقسمتی ہے،فردوس عاشق

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (این این آئی،آئی این پی)معاون خصوصی وزیر اعظم برائے اطلاعات

ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ جس معاملے کا فیصلہ عدلیہ

نے خود کرنا ہے وہ عدلیہ پر حملہ کیسے تصور ہو سکتا ہے۔؟، نئے پاکستان میں

احتساب سے کوئی بالاتر نہیں اور آئینی معاملے کو سیاست کی نذر کرنا بدقسمتی

ہے، وزیر اعظم عمران خان نے عدلیہ کی آزادی کیلئے جدوجہدکی اور پابند

سلاسل رہے،وہ عدلیہ کی آزادی،آئین وقانون کی حکمرانی اور اداروں کے احترام

پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ایک بیان میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ

اپوزیشن اپنے لئے بولنے کا جمہوری حق تو چاہتی ہے لیکن حکومتی ارکان کو یہ

حق دینے کیلئے تیار نہیں کیونکہ جمہوریت کا رونا رونے والے صرف سنانا

چاہتے ہیں ،سْننے کا اِن میں حوصلہ نہیں۔انہوں نے کہاکہ اجلاس نہ ہو تو اپوزیشن

شور مچاتی ہے کہ اجلاس نہیں بلایا جارہا،جب اجلاس ہوتا ہے تو ان کے پاس

لڑائی کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں ہوتا۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ قومی

اداروں کے خلاف سنگین جرائم کے مرتکب ملزمان کی ترجمانی کی بجائے

اپوزیشن ایوان میں اپنا حقیقی پارلیمانی کردار اداکرے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

نے کہاکہ پارلیمان کْشتی کا اکھاڑہ نہیں معزز ایوان ہے لہٰذاعوام کے ٹیکس کے

پیسوں سے ہونیوالے پالیمانی اجلاس کو خاندانوں کی کرپشن کے دفاع کیلئے ڈھال

نہ بنایاجائے، اپوزیشن احتجاج کا پْرانا وطیرہ چھوڑ کر عوامی مسائل کے حل

کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک پیغام

میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مریم صفدر کا وزیر اعظم پاکستان کے

متعلق ناشائستہ لب و لہجہ ان کی بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کا اظہار ہے۔انہیں خوف

ہے کہ عمران خان کی کامیابی سے ملک منافع بخش اور سیاسی جماعت کی آڑ

میں ان کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی خسارے میں ہو گی۔ دوسری جانبپریس انفارمیشن

ڈیپارٹمنٹ میں میڈیا مالکان کو اشتہارات کی ادائیگی کے سلسلے میں چیک تقسیم

کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا

کہپنجاب حکومت کی جانب سے اشتہارات کی مد میں بقایا جات کی پہلی قسط

19کروڑ روپے کی جاری کر دی گئی ، وزیراعظم کی جانب سے یہ صحافیوں اور

میڈیا ورکرز کے لئے عیدالفطر کا تحفہ ہے، میڈیا مالکان سے ایک بیان حلفی لے

رہے ہیں کہ اس ادائیگی کو صرف اور صرف صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی

تنخواہوں کیلئے استعمال کیا جائے گا، مشاورت میں طے پانے والے بقایا جات کی

ادائیگی حکومت کی ذمہ داری ہے،پی آئی او طاہر خوشنود، سی پی این ای کے

عہدیداران اور صحافتی تنظیموں کے نمائندگان بھی اس موقع پر موجود تھے ڈاکٹر

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزارت اطلاعات و نشریات تمام سٹیک ہولڈرز

سے مشاورت کے ساتھ ایک جامع میڈیا پالیسی لا رہی ہے، جس میں صحافیوں کی

نوکریوں اور جان کے تحفظ، صحت سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی شامل ہو

گی،فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر پی آئی اے کے

ذریعے 320 پاکستانیوں کو ملائیشیا سے واپس لائے ہیں، پہلی مرتبہ پی آئی اے کا

جہاز خاندانوں کی خدمت کی بجائے دوسرے ملک میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں

کی خدمت کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعون نے کہا کہ تین جون

کو لاہور میں میڈیا مالکان کو اعتماد میں لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اے پی این ایس،

سی پی این ای، پی بی اے ایک بیان حلفی دیں کہ یہ ادائیگی صرف اور صرف

صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں میں استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ

وزیراعلی کے پی کے عمرہ پر ہیں، وہ بھی واپسی پر 3جون کو میڈیا اشتہارات

کے بقایا جات کی سمری پر دستخط کرکے میڈیا مالکان کو چیک دیں گے۔انہوں

نے کہا کہ میڈیا مالکان سے گزارش ہے کہ اشتہارات کی مارکیٹ میں 12 سے 15

فیصد شیئر حکومت کا ہے جبکہ 80 سے 85 فیصد پرائیویٹ مارکیٹ اور سیکٹر کا

ہے، حکومت کی ریلیز میڈیا صنعت کے معاشی بحران کو نمٹانے میں معاون ثابت

ہو گی لیکن میڈیا صنعت کو چاہئے کہ وہ پرائیویٹ شیئرز سے بھی میڈیا ورکرز

کو تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ،میڈیامالکان اور

ورکرز کیلئے ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے جہاں میڈیا ورکرز تکلیف میں ہو تو

اس ادارے کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے، دونوں مل کر چلیں گے تو معاملات

خوش اسلوبی سے حل ہوجائیں گے، اگر میڈیا میں کوئی پریشیانی یا تکلیف ہو تو

حکومت چاہئے کوئی بھی ہو وہ اثر ضرورت لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کڑی

دھوپ اور روزے کی حالت میں میڈیا مالکان کے خلاف احتجاج میں شرکت کے

دوران کرائی جانے والی یقین دہانی پر عمل کر رہے ہیں۔وزیراعظم کی معاون

خصوصی نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرو کی مشاورت سے جلد جامع میڈیا پالیسی کا

اعلان کیا جائے گا، میڈیا پالیسی میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو میڈیا کی

صنعت میں اونر شپ دی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک

دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے ایک دوسرے کے حق کو تسلیم کریں اور مل

کرٹیم ورک کے طور پر آگے بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نیا پاکستان ہے، اس میں

میڈیا آزاد، خودمختار نہیں ہوگا تو نئے پاکستان کی بنیادیں مضبوط نہیں ہوسکتی، ہم

نے میڈیاورکرز کو شناخت، معاونت اور سرپرستی دینی ہے اور میڈیا مالکان کی

جائز ضروریات اور مسائل کا تدارک بھی کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت

اطلاعات و نشریات، میڈیا کا اپنا گھر ہے اورگھر کے فرد اختلاف رائے بھی

رکھتے ہیں اس کو سننا اور اس کا حل تلاش کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔اس موقع

پر چیک وصول کرنے والے میڈیا مالکان نے یقین دہانی کرائی کہ اس ادائیگی سے

صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو تنخوائیں ادا کی جائیں گی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply