Hafiz Jalandhari2 119

قومی ترانہ کے خالق نامورشاعرابوالاثرحفیظ جالندھری کا 120 یوم پیدائش

Spread the love

لاہور(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) ابوالاثر حفیظ جالندھری

نامور شاعر ابوالاثر حفیظ جالندھری کا 120 یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے- حفیظ جالندھری قومی ترانہ کے خالق تھے- ان کا یوم پیدائش ملک بھر میں منایا جارہا ہے- مزید پڑھیں

حالات زندگی

حفیظ جالندھری ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔ حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔

ادبی خدمات

نامور شاعر ابوالاثر حفیظ جالندھری گیت کیساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔ حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حفیظ جالندھری نے یہ خوبصورت قومی ترانہ احمد جی چھاگلہ کی دھن پر تخلیق کیا تھا- حکومت پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔

Hafiz Jalandhry

آپ کی شاعری کی خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے اس لیے انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کے پیکر پر پورے اترتے ہیں۔ غنائیت کا سبب ان کی گیت نگاری بھی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ابھی تو میں جوان ہوں کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوںکہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔

غزل گو کہلوانا پسند تھا

حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیا اور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔

تصانیف

حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں، سوزو ساز،
افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر، گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا، پھول مالی
بچوں کی نظمیں، اپنے موضوع پر ایک کتاب چیونٹی نامہ، شاہنامہِ اسلام 4 جلد
بزم نہیں رزم، چراغِ سحر، تصویرِکشمیر، بہار کے پھول نمایاں ہیں

نمونہ کلام

یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہسوار ہے
جو ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بلیقن حسینؑ ہے، نبیﷺ کا نوُرِعین ہے
جو ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا

شعر

دیکھا جوکھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی

شعر

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے

اس موقعہ پر مذہبی سماجی، فلاحی تنظیموں اور مسلم لیگ کے زیر اہتمام تقریبات کا انعقاد کیاجارہا ہے- نئی نسل کو عظیم شاعر سے روشناس کرانے کیلئے پرنٹ میڈیا نے خصوصی ایڈیشنز شائع کئے ہیں جبکہ الیکٹرانک میڈیا خصوصی رپورٹس اور پروگرام نشر کر رہا ہے-

ابوالاثر حفیظ جالندھری

Leave a Reply