ابراہیم رئیسی ایران کے صدر منتخب، عمران خان کا ساتھ چلنے کا عزم

ابراہیم رئیسی ایران کے صدر منتخب، عمران خان کا ساتھ چلنے کا عزم

Spread the love

اسلام آباد، تہران (جے ٹی این آن لائن نیوز) ابراہیم رئیسی عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے نومنتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو مبارکباد پیش

کرتے ہوئے برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پُرعزم ہونے کا اعادہ

کیا اور کہا علاقائی، امن و ترقی اور خوشحالی کیلئے مل کر کام کرنے کیلئے پُر

امید ہیں۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ایران کے صدراتی انتخابات میں ابراہیم

رئیسی کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے 13

ویں صدارتی انتخابات میں تاریخی فتح سمیٹنے پر میں عزت مآب برادر سید ابراہیم

رئیسی کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دونوں ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات میں

مزید پختگی، علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کے حصول کیلئے میں ان کے ساتھ

مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں۔

=-= پاکستان سے متعلق مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

قبل ازیں ایران کے صدارتی انتخاب کے سرکاری نتائج کا اعلان ہونے میں قدرے

تاخیر ہے لیکن غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدارتی امیدوار سید ابراہیم رئیسی

نے دیگر تین امیدواروں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ غیر ملکی

خبررساں ادارے کے مطابق صدارتی انتخاب کے دیگر تینوں امیدواروں نے سید

ابراہیم رئیسی کو ایران کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد بھی دی ہے۔ سبکدوش

ہونے والے اعتدال پسند صدر حسن روحانی نے سید ابراہیم رئیسی کا نام لیے بغیر

کہا کہ میں لوگوں کو ان کی پسند پر مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری

سرکاری مبارکباد پر مبنی پیغام بعد میں جاری کیا جائے گا لیکن ہم جانتے ہیں کہ

اس انتخاب میں کس کو کافی ووٹ ملے اور آج عوام نے کس کو منتخب کیا۔ رات

کو ہی ووٹوں کی گنتی کی گئی اور حکام کی جانب سے باضابطہ نتیجہ یا ٹرن آؤٹ

کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

=-= ایسی ہی مزید معلومات پر مبنی خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

یاد رہے کہ ایران کی گارجین کونسل نے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو

صدارتی انتخاب کی دوڑ سے الگ کر دیا تھا۔ بعدازاں انہوں نے ویڈیو پیغام میں کہا

تھا کہ وہ ووٹ نہیں دیں گے، میں اس گناہ میں حصہ نہیں لینا چاہتا۔ صدارتی

انتخاب میں ٹرن آوٹ سے متعلق حتمی اعداد و شمار آنے باقی ہیں تاہم ایرانی میڈیا

کے مطابق مجموعی طور پر 6 کروڑ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے

کے اہل تھے۔ ایران میں 12 رکنی گارجین کونسل نے سیکڑوں امیدواروں سمیت

اصلاح پسندوں اور حسن روحانی کے ساتھ اتحاد کرنے والوں پر پابندی عائد کر

دی گئی ہے۔ اس سے قبل ریاست سے منسلک رائے شماری اور تجزیہ کاروں کے

مطابق 60 سالہ قدامت پسند ابراہیم رئیسی کو غیر متنازع امیدوار دیکھ رہے تھے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ڈپلو ہاؤس تھنک ٹینک کے چیف ایگزیکٹو افسر ( سی ای او ) حامد رضا نے امید

ظاہر کی تھی کہ سید ابراہیم رئیسی کے انتخابات میں کامیابی ہو گی۔ خیال رہے کہ

60 سالہ سید ابراہیم رئیسی انقلاب ایران کے بعد اہم عہدوں پر فائر رہے جبکہ

محض 20 سال کی عمر میں ہمدان صوبے میں بطور پراسیکیوٹر مقرر ہوئے تھے

جس کے بعد انہیں جلد ہی نائب پراسیکیوٹر پر ترقی دے دی گئی۔ ان پر مخالفین

الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے 1988ء میں نسل کشی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا

جبکہ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں سید ابراہیم رئیسی مختلف

مراحلے میں کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور 2019ء میں عدلیہ کے

سربراہ کی حیثیت سے منصب پر فائز ہوئے۔

ابراہیم رئیسی عمران خان

Leave a Reply