آڈیومعاملہ ،مریم نوازکا کیس مضبوط ہے توعدالت جائیں،فواد چوہدری

Spread the love

آڈیومعاملہ مریم نواز

اسلام آباد،لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے رانا

شمیم(ن)لیگ کے عہدیدار تھے اور انہیں گلگت کا چیف جج لگاکر مرضی کے حلف نامے لیے گئے،

عدلیہ کو اس معاملے کا بھر پور نوٹس لینا چاہیے ،جعلی آڈیو، ویڈیو بنانا (ن)لیگ کا وطیرہ بن چکا

ہے، اگرمریم نوازسمجھتی ہیں وہ آڈیوز ان کا کیس مضبوط کرسکتی ہیں توعدالت جائیں، اس ہفتے

کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں کمی آئی ، تیل کی قیمتیں مزید نیچے آنے سے مہنگائی کم

ہونا شروع ہوگی ، پاکستان کے معاشی حالات میں بھی بہتر ی آئیگی ،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں

میں کمی کا اثر ملک میں دو ماہ بعد پہنچتا ہے، موجودہ حکومت نے مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھ دی

ہے، انشاء اﷲ پاکستان کا مستقبل تابناک اور روشن ہے،ہفتہ کو اسلام آباد اور لاہور میں میڈیاسے

گفتگو ، ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں رہنما تحریک پاکستان ، بابائے

صحافت، قادرالکلام شاعر اورآل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن مولانا ظفر علی خان کی65ویں برسی

کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست کے دوران خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا

نوازشریف نے جائیدادیں بنائیں جو انٹرنیشنل سکیم میں سامنے آئیں ،لیکن رسیدیں مانگیں تو آئیں

بائیں شائیں کرتے ہیں، جب بھی نوازشریف اور مریم نواز پر مقدمات آخری مراحل پر پہنچتے ہیں تو

اسے سبو تا ژ کرنیکی کوشش کی جاتی ہے۔ مولانا ظفر علی خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا

بہترین طریقہ یہ ہے ذمہ دارانہ صحافت کی روش اپنائی جائے، آزادی صحافت کی آڑ میں جھوٹی خبر

یں پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،جدید ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں جھوٹی خبریں پھیلانا

بہت آسان ہو گیا ہے ،پاکستان میں آزادی صحافت اور جمہوری روایات کا فروغ دیگرکئی ممالک کے

مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔فواد چوہدری نے نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتے

ہوئے کہا اس ادارہ سے ہمیشہ تحریک پاکستان اور کارکنان تحریک پاکستان کی بات کی جاتی ہے، یہ

ایک ایسا فورم ہے جو ان بزرگوں کی یاد مناتا ہے جنہوں نے پاکستان کیلئے اپنا تن من دھن قربان کر

دیا تھا۔ مجھے فخر ہے میرا تعلق بھی ایک ایسے خاندان سے ہے جس نے تحریک پاکستان میں بڑا

سرگرم کردار ادا کیا۔ میرے دادا چوہدری اویس قیام پاکستان سے قبل قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے

جبکہ میرے چچا چوہدری الطاف مغربی پاکستان کی اسمبلی کے رکن رہے جبکہ انہوں نے متعدد اہم

عہدوں پر اپنے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے کہا مولانا ظفر علی خان کے والد نے 1903ء میں

زمیندار اخبار کا اجراء کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لاہور اردو پریس کا مرکز بن گیا۔ انہوں نے تجویز

دی کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ حکومت کیساتھ ملکر لاہور میں ایک ایسا میوزیم قائم کرے جہاں

ہندوستان میں میڈیا کے ارتقاء اور تحریک پاکستان میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کیا جاسکے۔ لاہور

میں موجود اردو بازار ایک تاریخی بازار ہے جو کتاب اور پرنٹنگ سے شغف رکھنے والو ں کا مرکز

رہا ہے اور یہاں سے اردو زبان کی ترویج و اشاعت کیلئے بڑا کام ہوا۔ انہوں نے کہا تحریک پاکستان

کو زیادہ جذبہ تحریک خلافت سے ملا، اس تحریک میں بی اماں اور ان کے دو بیٹوں مولانا محمد علی

جوہر اور مولانا شوکت علی جوہر کا کردار نہایت اہم ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران عالم اسلام

پاکستان کے قیام کو مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے طور پر دیکھ رہا تھا کہ ایک جدید اسلامی فلاحی

مملکت قائم ہو گی۔ برطانیہ اور امریکہ میں پاکستان کو ایک نئی مسلم سپر پاور کے طور پر دیکھا جا

رہا تھا۔ پاکستان قائم ہو گیا تو شومئی قسمت ایک سال بعد ہی قائداعظمؒ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

پاکستان بیرونی سازشوں کا شکار بنا اور لیاقت علی خان کے قتل کے بعد قیادت کا ایک خلاء پیدا

ہو گیا جس سے تحریک پاکستان کے مقاصد کے حصول کو بھی دھچکا لگا اور یہ مشن آگے نہ بڑھ

سکا۔ 1971ء میں سانحہ مشرقی پاکستان نے بھی اس فلسفہ کو دھچکا پہنچایا۔ ان تمام باتوں کے باوجود

پاکستان آج بھی عالم اسلام کاا نتہا ئی اہم ملک ہے اور یہاں آزادی صحافت اور جمہوری اقدار دیگر

اسلامی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔پاکستان کے ادارے بڑے مضبوط اور ہم ان کا موازنہ

تھرڈ کے بجا ئے فرسٹ ورلڈ سے کرتے ہیں۔ مسائل ضرور ہیں اور ان کو حل بھی کیا جا رہا ہے۔

ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ مذہبی احکامات کی اپنی مرضی کی تشریح کرنا بھی ہے۔ یاد رکھیں نبی

کریم رحمت المسلمین نہیں بلکہ رحمت اللعالمین ہیں۔ مذہب کی تشریح کسی فرد کا نہیں بلکہ پارلیمنٹ

کا اختیار ہے۔ لیکن اس حوالے سے آج پارلیمنٹ کمزور اور باہر کے گروپ مضبو ط ہیں۔ ہمیں یہ

اختیار واپس پارلیمنٹ کو دلانا ہے جو اجتہاد یا مذہبی احکامات کی تشریح کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ

پہلے خبر ہوتی تھی لیکن پھیلانے کے ذرائع نہیں تھے جبکہ آج جدید ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں

جھوٹی خبریں پھیلانا بھی بہت آسان ہو گیا ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں جنم لے چکا

ہے، اور ساری دنیا اس کیلئے جدوجہد کر رہی ہے کہ فیک نیوز کو کیسے کنٹرول کرنا ہے ،گزشتہ

دنوں جعلی آڈیو ویڈیوٹیپس سامنے آئیں اور غلط اطلاعات پھیلائی گئیں میں ایسا کام کرنیوالی سیاسی

جماعت سے کہنا چاہوں گا وہ سیاست چھوڑ کر فلمیں بنانا شروع کر دیں اس سے ان کی آمدنی میں

بھی اضافہ ہو گا۔ پاکستان نے 1947ء سے لیکر 2008ء تک چھے ہزار ارب روپے قرض لیا جبکہ

2008سے 2018 ء کے دوران 23ہزار ارب روپے قرض لیا گیا جب آپ اتنا قرض لے لیں گے تو آپ

کو آئی ایم ایف کے پاس جانا ہی پڑے گا، عمران خان نے آ کر مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھ دی ہے ۔

روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے اپنے خطاب میں کہا مولانا ظفر علی خان

کسی بڑے جاگیردار یا زمیندار کے بیٹے نہیں تھے بلکہ انہوں نے ایک عام گھرانہ میں آنکھ کھولی

اور اپنی محنت کے بل پر منفرد مقام بنایا، انہوں نے زمیندار اخبار بھی نکالا جو ایک ایسا اخبار ہے

جس کے تذکرہ کے بغیر تحریک پاکستان اور ہماری صحافت ادھوری ہے مولانا ظفر علی خان

تحریک پاکستان کے سرخیل تھے انہوں نے عمر بھر جہد مسلسل کو اپنا شعار بنائے رکھا قیدوبند کی

صعوبتیں برداشت کیں لیکن اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا مولانا ظفر علی خان عالم اسلام کا

اثاثہ تھے ان کے اخبار زمیندار کے دفتر کو قابض لوگوں سے آزاد کراویا جائے اور یہاں پر ایک

میوزیم بنایا جائے جس کا تذکرہ فواد چوہدری نے اپنے خطاب میں کیا ہے ۔ آج جھوٹی خبریں بھی

لوگوں میں پھیلائی جا رہی ہیں ایک اخبار نویس کو کسی کی خوشنودی یا ناراضی کی پرواہ کے

بجائے سچ کیساتھ جڑنا چاہئے لیکن آج جھوٹ پر بھی یقین کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل جہد

مسلسل کو اپنا شعاربنائے اور مولانا ظفر علی خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سچ کا ساتھ دیں مولانا

ظفر علی خان لگی لپٹی کے بغیر حق بات کہا کرتے تھے اسی طرح سے موجودہ وزیر اطلاعات و

نشریات فواد چودھری بھی کسی لگی لپٹی کے بغیر جو بات صحیح سمجھتے ہیں وہ کرنے کے قائل

ہیں، چاہے پھر وہ حکومت کو بری لگے یا پھر اپوزیشن کو بری لگے، ان کے بڑوں کی پاکستان

کیلئے بہت قربانیاں ہیں اور جدوجہد ہے ،ان کے بزرگ پاکستان کے قیام سے قبل ہی آل انڈیا مسلم

لیگ میں تحریک پاکستان کی جدوجہد کر تے رہے اور پھر ان کے چچا قیام پاکستان کے بعد پنجاب

کے گورنر بھی بنے۔مجیب الرحمن شامی نے منیر احمد خاں کوچیئرمین نیشنل پریس ٹرسٹ پاکستان

مقرر ہونے پر مبارکباددیتے ہوئے کہا کہ ایک مردہ گھوڑے کو ان کے حوالے کیا گیا ہے اب یہ

دیکھتے ہیں کہ یہ کس قدر اس مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے میں کامیاب ہوتے ہیں مگر میں ان کو

اچھی طرح سے جا نتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہ اس کام کو بخوبی انجام دیں گے۔وائس چیئرمین

نظریہ پاکستان ٹرسٹ میاں فاروق الطاف نے کہا آزادی اﷲ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس

نعمت پر ہم اﷲ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے ، تحریک پاکستان میں قائداعظمؒ کو جن رہنماؤں کی

رفاقت نصیب ہوئی وہ ہر طرح کی آلائشوں سے پاک تھے اور انہی عظیم شخصیات میں ایک

شخصیت مولانا ظفر علی خان کی بھی ہے جنہوں نے اپنی بے داغ صحافت اور تقریر و تحریر کے

ذریعے مسلمانان برصغیر میں آزادی کی تڑپ پیدا کی ،مولانا ظفر علی خان نے قیدوبند کی صعوبتیں

برداشت کیں لیکن کلمہ حق کہنا نہیں چھوڑا مولانا ظفر علی خان کی سیاست وصحافت آج بھی ہمارے

لئے مشعل راہ ہے۔ پاکستان میں آزادی صحافت کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے

ہمیں جھوٹ، منافقت اور کرپشن سے دور رہنا چاہئے۔تقریب سے خطاب میں چیئرمین نیشنل پریس

ٹرسٹ منیر احمد خان نے کہا فیک نیوز نے معاشرہ کو تباہ کر دیا ہے، ہمیں مولانا ظفر علی خان کے

نقش قدم پر چلتے ہوئے حق بات کہنا اور لکھنا چاہئے۔چیئرمین مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ خالد

محمود نے کہا ہمیں اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔سینئر صحافی سلمان غنی نے کہا

قائداعظمؒ نے ایک بار کہا اگر مجھے ظفر علی خان جیسے چند افراد ہی مل جائیں تو دنیا کی کوئی

طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی ، سوال یہ ہے کہ آج کی صحافت مولانا ظفر علی خان کی صحافت

سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے؟ پاکستان کی صحافت کو قومی مفاد ات کی محافظ، اداروں کی

عزت واحترام، انسانی حقوق کی علمبردار اور قومی مسائل کے حل کی نشاندہی کے ساتھ مشروط کرنا

ہو گا۔ ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر شفیق جالندھری نے کہا مولانا ظفر علی خان نے اردو صحافت کو

منفرد مقام دلوایا وہ سچے مسلمان اور نڈر و بیباک انسان تھے۔ صدر نظریہ پاکستان فورم سرگودہا

پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے کہا مولانا ظفر علی خان نے تحریک پاکستان میں کلیدی کردار

ادا کیا ، ہمیشہ قلم کے تقدس کا خیال رکھا ، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے افکارونظریات

کو حرز جاں بنایا جائے۔شاہد رشید نے کہا مولانا ظفر علی خان ہمہ جہت شخصیت تھے، پوری

زندگی اسلامیان ہند کی فلاح وبہبود کیلئے وقف کئے رکھی،اس موقع پرممتاز سیاسی و سماجی رہنما

بیگم مہناز رفیع، ڈائریکٹر مجلس ترقی ادب لاہور منصور آفاق، دفاعی تجزیہ کار کرنل(ر) زیڈ آئی

فرخ، عامر کمال صوفی، ڈاکٹر ثمینہ بشریٰ، لیاقت علی قریشی، اساتذہ کرام اور طلبہ سمیت مختلف

شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔

آڈیومعاملہ مریم نواز
آڈیومعاملہ مریم نواز
آڈیومعاملہ مریم نواز
آڈیومعاملہ مریم نواز
آڈیومعاملہ مریم نواز
آڈیومعاملہ مریم نواز

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: