آپریشن ساہیوال مستند شواہد پر کیا گیا، خلیل کے اہل خانہ کے جانی نقصان سے حیثیت چیلنج ہوگئی، راجہ بشارت

Spread the love

وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے موقف کے مطابق ساہیوال میں گزشتہ روز آپریشن 100 فیصد انٹیلی جنس، ٹھوس شواہد اور مکمل معلومات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا۔ ساہیوال مقابلے سے متعلق میڈیا بریفنگ میں وزیر قانون پنجاب نے کہا گاڑی کو چلانے والے ذیشان کا تعلق داعش سے تھا ۔ جاں بحق ہونے والے خلیل کے اہلِ خانہ کی درخواست پر واقعے کا مقدمہ ساہیوال تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے سپروائزر کو معطل اور مقابلے میں حصہ لینے والے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خلیل کے لواحقین کےلئے 2 کروڑ روپے کی مالی امداد اور بچوں کےلئے مفت تعلیم کا اعلان کیا ہے، پنجاب حکومت بچوں کے علاج کے مکمل اخراجات بھی اٹھائے گی ،مالی امداد انسانی زندگی کا مداوا تو نہیں کرسکتی لیکن حکومت اپنی ذمہ داری نبھائےگی۔تحقیقات کےلئے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دےدی گئی ہے جو 2 دن میں پنجاب حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ ذیشان کے کچھ عرصے سے داعش کے ایک خطرناک نیٹ ورک سے تعلقات تھے، یہ نیٹ ورک ملتان میں آئی ایس آئی کے افسران کے قتل، علی حیدر گیلانی کے اغوا اور فیصل آباد میں 2 پولیس افسران کے قتل میں ملوث ہے۔ دہشت گردوں نے ملتان میں آئی ایس آئی افسران کے قتل میں سلور رنگ کی ہونڈا سٹی کار استعمال کی جس کی تلاش پولیس اور ایجنسیوں کو تھی، 13 جنوری کو ہونڈا سٹی کار دہشت گردوں کو لے کر ساہیوال گئی،اس حوالے سے سیف سٹی کیمروں کا معائنہ کیا گیا تو یہ معلوم ہوا ذیشان کی سفید رنگ کی آلٹو بھی دہشت گردوں کی گاڑی کےساتھ تھی۔ ذیشان کی گاڑی بھی دہشت گردوں کے استعمال میں تھی، ایجنسی اہلکار 18 جنوری کو کیمروں کی مدد سے ٹریس کرکے ذیشان کے گھر پہنچے تھے۔ 13 سے 18 جنوری تک کیمروں کا معائنہ کیا گیا تھا جس دوران یہ تصدیق ہوئی کہ ذیشان دہشت گردوں کےساتھ کام کررہا تھا۔ ذیشان کے گھر میں دہشت گرد بڑی مقدار میں گولہ بارود کےساتھ موجود تھا، گھر گنجان آباد علاقے میں ہونے کی وجہ سے آپریشن کرنا مناسب نہیں تھا کیونکہ اس سے بے گناہ جانوں کو خدشہ لاحق تھا، اس لیے گاڑی کے علاقے سے نکلنے کا انتظار کیا گیا۔ 19 جنوری کو سیف سٹی کیمرے کی مدد سے سفید آلٹو کو مانگا کے مقام پر دیکھا گیا جس کی اطلاع ایجنسی کو دی گئی،گاڑی لاہور کی حدود سے باہر نکل چکی تھی اسلئے سی ٹی ڈی ٹیم کو گاڑی روکنے کا کہا گیا تھا، اس موقع پر فائرنگ ہوئی،گاڑی کے شیشے کالے تھے، پچھلی سیٹوں پر بیٹھے لوگ دکھائی نہیں دے رہے تھے اور گاڑی ذیشان خود چلارہا تھا۔ فائرنگ کیوں اور کیسے ہوئی اس کی تحقیقات جے آئی ٹی کر رہی ہے ۔سی ٹی ڈی کے موقف کے مطابق پہلا فائر ذیشان نے کیا تھا جبکہ لواحقین کے مطابق فائرنگ سی ٹی ڈی نے کی جس کا تعین ہونا ضروری ہے۔ جے آئی ٹی کے تحت یہ تحقیقات بھی کی جائیں گی خلیل کا ذیشان کےساتھ کیا تعلق تھا اور ان کا خاندان ذیشان کی گاڑی میں کیوں سوار تھا۔ آپریشن کی خبر میڈیا پر نشر ہونے کے بعد ذیشان کے گھر میں موجود 2 دہشت گردوں نے سوشل میڈیا پر خبر دیکھی اورگوجرانوالہ کا رخ کیا۔ جب ایجنسی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے ان دہشت گردوں کا پیچھا کرکے انہیں گھیرے میں لے لیا تو انہوں نے اپنے آپ کو خودکش جیکٹوں کے ذریعے اڑالیا۔ اگر ان دہشت گردوں کا پیچھا نہیں کیا جاتا تو وہ پنجاب میں بہت بڑی تباہی پھیلادیتے، یہ آپریشن انٹیلی جنس بنیاد پر آئی ایس آئی اور سی ٹی ڈی کی جانب سے مشترکہ طور پر کیاگیا لیکن اس میں خلیل کے خاندان کے جانی نقصان کی وجہ سے آپریشن کی حیثیت چیلنج ہوگئی۔

Leave a Reply