Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) آغا سراج درانی کیس

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے آغا سراج درانی سے کہا کہ آپ کے لیڈر نے اتنے

سال جیل کاٹی تو آپ کیوں نہیں کاٹ سکتے ؟، جیل ہر ایک کیلئے برابر ہو نی

چاہیے،عدالت گھر کو جیل قرار دینے والے معاملے کو بھی دیکھے گی۔سپریم

کورٹ میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت پر سماعت

ہوئی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا آپ کے گن مین کے نام پر بھی ایک

پلاٹ ہے اور گن مین سے اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے کیونکہ وہ پستول واپس آپ پر

بھی تان سکتا ہے۔ حیران ہوں گھڑیوں کیساتھ گھر سے بندوقیں برآمد نہیں ہوئیں۔

جیل ہر ایک کیلئے برابر ہونی چاہیے۔ آپ کے لیڈر نے اتنے سال جیل کاٹی تو آپ

کیوں نہیں کاٹ سکتے ؟ آغا سراج درانی کے پاس ان کے لیڈر کی اعلی مثال

موجود ہے۔ اسلئے کل پیش ہو کر تمام حقائق پر دلائل دیں۔ جسٹس منصور علی شاہ

نے استفسار کیا کہ جو بینامی دار ظاہر کیے گئے کیا وہ آغا سراج درانی کیلئے کام

کرتے ہیں؟ نیب کے مطابق منور آغا سراج درانی کا گن مین ہے اور منور کے

پاس کئی ملین موجود ہیں۔ آغا سراج درانی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نیب

کہتا ہے منور سیاسی کارکن ہے۔ تفتیش یہ ظاہر نہیں کرتی کہ جو شخص 6 ماہ

ساتھ رہا وہ کسی اور کیساتھ نہیں رہا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے استفسار کیا کہ

مبینہ گن مین کے ڈیفنس پلاٹ کی فوٹو کاپی آپ کے پاس کیا کر رہی تھی؟ وکیل

آغا سراج درانی نے کہا کیا یہ ممکن نہیں جو آغا سراج درانی کیساتھ کام کر رہا

ہے وہ اپنی الگ سرگرمیاں کر رہا ہو۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بنیادی چیز

یہ ہے ملزم نے شہری جائیدادیں کیسے بنائیں؟ گاڑیوں کے دستاویزات بھی آغا

سراج درانی سے برآ مد ہوئیں۔ نیب پراسیکیورٹر سلمان اکرم راجہ نے موقف

اختیار کیا آغا سراج درانی کچھ گاڑیوں کی مالیت سے انکار نہیں کرتے اور آغا

سراج درانی کو ضمانت درکار نہیں کیونکہ وہ جیل میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں

ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے قانون سب کیلئے برابر ہے اور عدالت گھر کو جیل

قرار دینے والے معاملے کو بھی دیکھے گی۔

آغا سراج درانی کیس

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply

%d bloggers like this: