0

آسیہ مسیح کی بریت کےخلاف نظر ثانی اپیل مسترد

Spread the love

سپریم کورٹ نے توہین مذہب کیس میں آسیہ مسیح کی بریت کےخلاف نظر ثانی اپیل مسترد کردی، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے گواہوں نے حلف پرغلط بیانی کی،بار ثبوت کا اصول 1987ءسے طے ہے، نظر ثانی میں ایک نقطے کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتے۔اگر جرح میں وکیل سوال نہ پوچھے تو کیا ملزم کو پھانسی لگادیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی خصوصی بنچ نے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کےخلاف نظر ثانی اپیل پر سماعت کی۔درخواست گزار قاری اسلام کے وکیل غلام مصطفی نے لارجر بنچ بنانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا معاملہ مسلم امہ کا ہے، عدالت مذہبی سکالر ز کو بھی معاونت کیلئے طلب کرے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کیا اسلام کہتا ہے کہ جرم ثابت نہ ہونے پر سزا دی جائے، عدالت نے فیصلہ صرف شہادتوں پر دیا ہے، کیا ایسی شہادتیں قابل اعتبار نہیں، اگر عدالت نے شہادتوں کا غلط جائزہ لیا تو درستگی کریں گے۔وکیل غلام مصطفی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کلمہ شہادت سے فیصلہ کروایا، جسٹس (ر)ثاقب نثار نے کلمہ شہادت کا غلط ترجمہ کیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سابق چیف جسٹس اس وقت بنچ کا حصہ نہیں، ثاقب نثار صاحب آپکی بات کا جواب نہیں دینگے، لارجر بنچ کاکیس بنتا ہوا تو ضرور بنے گا۔وکیل نے مزید دلائل میں کہا یہود و نصاری کے معاہدے کو نبی کریم سے منسوب کیا تھا، بنی کریم پر بہتان تراشی کی سزا موت ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو بنی کریم کی تعلیمات کے خلاف ہو۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا اقلیتی برداری کا بھی کام ہے قوانین کی پابندی کرے، اسلام اقلیتی برادریوں کومکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، فیصلے میں قرار دیا گیا بار ثبوت استغاثہ پر ہے۔چیف جسٹس آ صف کھوسہ نے ریمارکس میں کہا بار ثبوت کا اصول 1987ءسے طے ہے، نظر ثانی میں ایک نقطے کا دوبارہ جائزہ نہیں لے سکتے، اگر جرح میں وکیل سوال نہ پوچھے تو کیا ملزم کو پھانسی لگادیں۔سپریم کورٹ نے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظر ثانی اپیل مسترد کردی۔

Leave a Reply