132

آسٹریلوی خواتین کرکٹرزکیلئے انقلابی پالیسی، پہلی سعودی خاتون فٹبال ریفری کا ہدف

Spread the love

برسبین،ریاض،تہران (جے ٹی این آن لائن سپورٹس نیوز) آسٹریلوی خواتین کرکٹرز

آسٹریلیا ویمن کرکٹرز کو بچے کی ولادت پر پورے ایک سال کی چھٹی دی

جائیگی۔ گزشتہ روز آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے اپنی ویمن کرکٹرز کیلئے انقلابی

پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا اس پالیسی کے تحت بچے کی ولادت پر کھلاڑی

کو ایک سال کی چھٹی دی جائیگی اور اس دوران باقاعدہ تنخواہ و دیگر سہولیات

بھی ملتی رہیں گی۔ (آسٹریلوی خواتین کرکٹرز)

یہ بھی پڑھیں: روانڈا ویمن کرکٹ ٹیم کا ٹی 20 میں عالمی ریکارڈ

سعودی عرب کی پہلی خاتون فٹبال ریفری شام الغامدی نے ورلڈ کپ میچ پراپنی

نگاہیں مرکوز کررکھی ہیں۔ 22 سالہ شا م الغامدی یونیورسٹی میں انگریزی ادب

کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ فٹبال میں ان کی دلچسپی اس وقت شروع ہوئی جب

وہ صرف 9 سال کی تھیں۔

Sham Al Ghamdi First Saudi Woman Football Referee at a Stadium in Riadh.

شام الغامدی کا کہنا ہے تجربہ کار ریفریوں کے مشورے سننے اور پڑھنے میں

گھنٹوں گزارتی ہوں۔ ورلڈ کپ میچ میں ریفری بننے سے میرا خواب سچ ہوگا۔

شام الغامدی کا جنون اہلخانہ کیلئے باعث حیرت

فٹبال کیلئے شام الغامدی کا جنون ان کے اہلخانہ کیلئے حیرت کا باعث بنا۔ تجربہ

کا ر ریفریوں کو دیکھ کر میچ کو سپروائز کرنا سیکھا۔ شام الغامدی نے بتایا

میرے والد کو فٹبال میں دلچسپی نہیں، جب انہوں نے میرے اس مشغلے کے

بارے میں سنا تو صرف یہی مشورہ دیا جہاں تک ممکن ہو سکے چوٹ سے

بچنے کی کوشش کروں۔ الغامدی کا مزید کہنا تھا میں نے خود میچوں میں حصہ

لیکر اور تجربہ کار ریفریوں کو دیکھ کر میچ کو سپروائز کرنا سیکھا ہے۔

40 سال بعد ایرانی خواتین کی آزادی سٹیڈیم آمد
فٹبال میچ دیکھا

ایرانی خواتین نے کئی دہائیوں کے بعد تہران کے سٹیڈیم میں مردوں کا ایک فٹبال

میچ دیکھا۔ حکومت کی جانب سے انھیں یہ میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

ساڑھے تین ہزار سے زیادہ خواتین نے ایران اور کمبوڈیا کے درمیان ورلڈ کپ

کوالیفائر میچ دیکھا۔

Iranian Women Watching Football Match in Azadi Football Stadium Tehran

خواتین شائقین کی اس وقت خوشی کی انتہا نہ رہی جب ایران نے یہ میچ صفر

کے مقابلے میں 14 گول سے جیت لیا۔ تہران کے آزادی سٹیڈیم میں ان خواتین

کیلئے مخصوص انکلوژر بنائے گئے تھے-

میچ دیکھنے کی اجازت ملنے کے باعث خواتین کے ٹکٹ منٹوں میں فروخت ہو

گئے، سٹیڈیم میں خواتین شائقین نے ایرانی پرچم لہراتے اور اپنی ٹیم کو جوش

دلانے اور حوصلہ افزائی کیلئے نعرے لگاتی رہیں-

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد خواتین پر سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے میچ

دیکھنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، ادھر فیفا کا کہنا ہے وہ مضبوطی سے

اپنے موقف پر قائم ہے کہ ایران میں خواتین کو فٹبال میچوں تک مکمل رسائی

حاصل ہو۔

Leave a Reply