آزادی کتنی بڑی نعمت ”میں نے پاکستان بنتے دیکھا“ نوجوان لازمی پڑھیں

آزادی کتنی بڑی نعمت ”میں نے پاکستان بنتے دیکھا“ نوجوان لازمی پڑھیں

Spread the love

کراچی (جے ٹی این آن لائن ادبی نیوز) آزادی کتنی بڑی نعمت

آزادی کتنی بڑی نعمت، اسکا اندازہ صرف انہیں ہوتا ہے جو غلامی کا کرب سہہ

چکے ہوں ایسے ہی محترم پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ تقسیم ہند کے وقت اپنے

چھوٹے بھائی سمیت والدین سے بچھڑ کر کئی ماہ تک جن مشکلات سے گزرے

اس کی داستان انہوں نے اپنی کتاب بعنوان ” میں نے پاکستان بنتے دیکھا ” میں

تحریر کی ہے جس سے پڑھ کر ہر صاحب دل انسان اشکبار ہوتا ہے، وہ پاکستان

سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے انسان تھے۔ قیام پاکستان کے وقت جو پاکستان کی

طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ بیتی اور جو کچھ ان کے ساتھ ہندوﺅں اور

سکھوں نے کیا ان چشم دید واقعات کو تحریر کرکے انہوں نے ہماری نوجوان نسل

پر بہت بڑااحسان کیا ہے۔ انہوں نے اپنی مختصر مگر جامع کتاب میں جو تحریر

لکھی وہ پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اپنے گھر سے پوراخاندان لے کر

نکلنے والے مسلمان پاکستانی زمین پر خون کا دریا عبور کر کے اکیلے پہنچتے

ہیں تو ان پر کیا بیتتی ہے یہ وہ ہی جانتے ہیں، مسلمانان برصغیر خون کا دریا

عبور کر کے پاکستان پہنچے ہیں۔

=–= ادب و شوبز کی دنیا کی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

ان خیالات کا اظہار جمعرات کو مقررین نے شعبہ ابلاغ جامعہ کراچی میں

پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ ( مرحوم ) کی کتاب بعنوان ” میں نے پاکستان بنتے

دیکھا “ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں جامعہ کراچی

کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ، طلبہ اور پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ کے اہل

خانہ نے بھی شرکت کی۔ مقررین میں رئیسہ کلیہ فنون و سماجی علوم پروفیسر

ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ، نامورصحافی محمود شام، چیئرپرسن شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ

کراچی پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ ناز، سابق چیئرمین شعبہ ابلاغ عامہ پروفیسر ڈاکٹر

طاہر مسعود، سابق رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر شمس الدین،

پروفیسر ڈاکٹر نثارزبیری، حفیظ فاطمہ، ڈائریکٹر شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ

سید اقبال حسین شامل تھے۔

=-،-= سچی کہانیوں کے عنوان کے تحت مزید سٹوریز ( =،= پڑھیں =،=)

اس موقع پر رئیسہ کلیہ فنون و سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے کہا

پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ کی کتاب میں نے پاکستان بنتے دیکھا کی موجودگی

کو تمام سیمینار لائبریریز میں یقینی بنایا جائے تاکہ ہماری نوجوان نسل اس کا

مطالعہ کر سکیں اور انہیں اس بات کا اندازہ ہو کہ آزادی کی کتنی بڑی قیمت ادا

کرنی پڑتی ہے، ہم سب کو اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کرنا

چاہیئے۔ چیئر پرسن شعبہ ابلاغ ڈاکٹر فوزیہ ناز نے کہا اگرچہ آج پروفیسر متین

الرحمن مرتضیٰ موجود نہیں، لیکن ان کی تحریریں موجود ہیں جس سے ہم ہمہ

وقت استفادہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب میں پاکستان بنتے دیکھا میں اپنی

تحریر کے ذریعے ہجرت کی جس طرح سے منظر کشی کی ہے اس کی مثال نہیں

ملتی۔ ان کی تحریر میں اتنا تسلسل اور تجسس ہے کہ گویا ہر جملہ دوسرے جملے

کے بغیر ادھوراہے۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

سابق چیئرمین شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود نے کہا

کہ پروفیسر متین الرحمن کی بہت سی حیثیتیں ہیں ایک حیثیت یہ تھی کہ وہ ایک

استاد تھے، دوسری حیثیت یہ تھی کہ وہ صحافی جبکہ ان کی تیسری یہ کہ وہ ایک

سوچنے، سمجھنے والے ایسے دانشور تھے جو مشکل اور پیچیدہ مسائل میں بھی

حل کا راستہ تلاش کر لیتے تھے۔ وہ ایک عظیم انسان تھے جنہیں شہرت اور

منصب کی کوئی تمنا نہیں تھی بلکہ وہ گوشہ عافیت میں بیٹھ کر صرف کام اور کام

ہی کرنا چاہتے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر نثارزبیری نے کہا کہ پروفیسر متین الرحمن

نے اپنی مختصر کتاب میں بہت کچھ لکھا جو انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور شاید

انہیں اندازہ تھا کہ آج کل لوگ کتاب نہیں پڑھتے۔ انہوں نے کہا کہ میری تمام

نوجوانوں سے گذارش ہے کہ وہ پروفیسر متین الرحمن کی کتاب کا مطالعہ کریں۔

ان کی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے رونا آتا ہے۔

آزادی کتنی بڑی نعمت ، آزادی کتنی بڑی نعمت ، آزادی کتنی بڑی نعمت ، آزادی کتنی بڑی نعمت

Leave a Reply