آج یوم مولود کعبہ،ملکی مسائل کے حل کیلئے سیاست علوی کا مطالعہ ضروری

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ ) امیر المومنین حضرت علی ابن

ابو طالب علیہ السلام مولود کعبہ کی بیت اللہ میں آمد کا دن 13 رجب المرجب آج

21مارچ جمعرات کو نہایت عقیدت و احترام کیساتھ منایا جارہاہے ، جشن ظہور

کے سلسلے میں ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کی مساجد میں منعقدہ

محافل اوردیگر تقریبات کے دوران علماء و خطیب حضرات مولائے کائنات

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل بیان کرتے ہوئے دین ا سلام کی آبیاری

کیلئے ان کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے جبکہ امام بارگاہوں کو

برقی قمقموں سے سجایا گیاجہاں شام کو جشن کی تقریبات منعقد ہو نگی جبکہ

نذرونیاز بھی تقسیم کی جائیگی۔علاوہ ازیں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر خصوصی

ایڈیشنز اور پروگراموں کی صورت میں سیر ت و فضائل مولود کعبہ کواجاگرکیا

جائے گا ۔

امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے اجتماعی و سیاسی مسائل

میں سیاست علوی ایک ایسا باب ہے جس کے گہرے مطالعے کی ضرورت ہے

بحرانی حالات میں انہوں نے جس طرح کامیاب حکمرانی کی اور منفرد و جامع

طرز جہاں بانی عطا کیا اس سے آج بھی مختلف ممالک میں استفادہ کیا جارہا ہے،

بالخصوص حضرت مالک اشتررحمتہ اللہ علیہ کے نام آپ علیہ السلام کا وصیت

نامہ ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ ہے جس سے پاکستانی ریاست کو بھی استفادہ

کرنا چاہیے۔

خدا تعالی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھنے والوں کیلئے

13 رجب المرجب کا دن بہت بڑی خوشی کا دن ہے کیونکہ اس دن نفس رسول،

امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کعبے میں متولد ہوئے۔ قرآن کریم کی

کثیر آیات ایسی ہیں جن کا اولین شان نزول اور ان کا کامل مصداق امیر المومنین

علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہی کی کی ذات ہے۔ مفسرین نے اپنی تفاسیر میں اس

شان اور مصداق کو کھول کر بیان کیا ہے ،دوسری طرف پیغمبر اکرم صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم نے امت کے سامنے مولا علی علیہ السلام کے جو فضائل بیان کئے

وہ بہت بڑا علمی، فکری اور عقید تی ذخیرہ ہے،

کتب احادیث پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی آپ کے فضائل سے مزین

ہیں۔ رسول اکرم علیہ وآلہ وسلم نے خاص عنایات اور توجہ کیساتھ خالص انداز میں

آپ کی تربیت فرما ئی اور انہیں اسلام کی حفاظت اور ترویج کیلئے خود تیار فرمایا

یہی وجہ ہے زندگی کے مختلف شعبوں اور تمام انسانی مسائل میں مولا علی علیہ

السلام کی ذات مرکز اور مرجع تسلیم کی گئی اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ

علیہ نے تمام مسائل میں آپ علیہ السلام کی طرف رجوع کیا۔

قرآن کی تفسیر،احادیث پیغمبر ﷺ، مختلف رائج ادبی و دیگر علوم، ولایت و

روحانیت اور دیگر تمام میدانوں میں آپ کی ذات سرچشمہ فیض قرار پائی جبکہ

شجاعت و بہادری ان کی ایسی ایک صفت اور صلاحیت ہے جس میں وہ اپنی مثال

آپ ہیں، حضرت علی علیہ السلام کی حیات طیبہ تمام انسانوں کیلئے قابل تقلید اور

مسلمانان عالم کیلئے نمونہ عمل ہے ہم سب کو چاہیے کہ اس کو اپنائیں، صبر و

تحمل اور عمل و استقامت کا دامن تھام کر آپ کی تعلیمات کی روشنی میں آپ کے

دیئے ہو ئے نظام کی تشکیل کیلئے کوشاں رہیں تاکہ انسانیت کو فلاح و نجات سے

ہمکنار کیا جاسکے۔ مسلمانا ن عالم بالخصوص مسلمانان پاکستان جشن ظہور امام

علی علیہ السلام نہایت تزک و احتشام سے منائیں اور مولود کعبہ کے افکار و اقوال

کی روشنی میں اتحاد و وحدت کا مظاہرہ کریں اور پاکستان کو عالم اسلام کی

خواہش کے مطابق ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست میں ڈھالنے کیلئے اپنا کردار

ادا کریں تاکہ وطن عزیزکے دشمن اورملک میں موجود ان کے آلہ کاروں کی تمام

تر سازشیں ناکام ہوجائیں۔

حقّ الیقیں ہے، اپنے عقائد کے باب میں
گذری ہے عمر، بندگی ٔ بو ترابؓ میں
فاتح، مرے صحیفۂ دِل کو پڑھے کوئی
شرک و غلو کا باب نہیں،اس کتاب میں

قارئیں کرام ….. مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے چند اقوال جو

آج ہی نہیں رہتی دینا تک قابل عمل رہیں گے ، ان پر عمل کر کے زندگیاں سہل

بنائی جا سکتی ہیں.

Leave a Reply