مقبوضہ کشمیر میں آبروریزی بھارتی جنگی ہتھیار اور مودی کی اے پی سی

مقبوضہ کشمیر میں آبروریزی بھارتی جنگی ہتھیار اور مودی کی اے پی سی

Spread the love

سرینگر، اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) آبروریزی بھارتی جنگی ہتھیار

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں خواتین بھارتی فورسز کے

مظالم کا بدترین شکار ہیں اور بھارت کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے

ان کی آبروریزی کو ایک جنگی آلے کے طورپر استعمال کررہا ہے۔” متنازعہ

علاقوں میں جنسی تشدد کے خاتمے “ کے عالمی دن پر کشمیر میڈیا سروس کی

طر ف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی فورسز

اہلکاروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 11 ہزار

2 سو 44 خواتین کو جنسی بے حرمتی کا نشانہ بنایا ہے۔ جبکہ دفتر خارجہ

پاکستان کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنازعات کا شکار

علاقوں میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر عالمی برادری کے

ساتھ مل کر منانے میں پاکستان شامل ہے جو تنازعات کے شکار خطوں میں ہر

قسم کے تشدد، استحصال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے

ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار ہے، اس موقع پر بیان میں بھارت کی جانب سے

مقبوضہ کشمیر میں انڈیا فورسز کی جانب سے مظلوم کشمیری خواتین اور بچیوں

کیساتھ جنسی جرائم کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا گیا-

=-.-= آزاد اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے مزید خبریں ( =.= پڑھیں =.= )

کے ایم سی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کشمیریوں کو تذلیل کا نشانہ بنانے

اور انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے خواتین کو دانستہ طور پر ہدف بنا رہا ہے۔ کنن

پوشپورہ اجتماعی آبروریزی، شوپیاں میں آبروریزی اور قتل کا دوہرا واقعہ اور

کٹھوعہ میں ایک کم عمر لڑکی آصفہ کی آبروریزی اور قتل بھارتی فورسز

اہلکاروں کے وحشیانہ پن کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارتی فوجیوں نے 23 فروری

1991 کی رات ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوشپورہ میں محاصرے اور تلاشی

کی کارروائی کے دوران سو کے قریب کشمیری خواتین کو آبروریزی کا نشانہ بنایا

تھا۔ باوردی بھارتی اہلکاروں نے 29 مئی 2009 کو شوپیاں میں آسیہ اور نیلوفر

نامی دو خواتین کو اغوا کر کے آبروزیر ی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

بعد ازاں دوسرے روز ان دونوں کی لاشیں علاقے کے ایک نالے سے برآمد ہوئی

تھیں۔ جموں خطے کے علاقے کٹھوعہ میں بھارتی پولیس اہلکاروں اور فرقہ

پرست ہندوﺅں نے جنوری 2018 میں آٹھ سالہ مسلمان لڑکی آصفہ بانو کی اغوا

کرنے کے بعد اجتماعی آبرو ریزی کی تھی۔ کم عمر لڑکی کی لاش بعد آزاں جنگل

سے برآمد ہوئی تھی۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

کے ایم ایس رپورٹ میں افسوس ظاہر کیا گیا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ

جموں وکشمیر میں خواتین کی آبروریز ی کو باقاعدہ ایک سرکاری پالیسی کے

تحت منظوری دے رکھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقے میں اس طرح

کے گھناﺅنے جرائم کی آج تک کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں اور نہ ہی ان میں ملوث

کسی ایک بھی بھارتی فوجی یا پولیس اہلکار کو سزا دی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا

انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے بھی بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ

جموں و کشمیر میں خواتین کی آبرویزری کے کئی واقعات رپورٹ کیے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بدکار بھارتی فورسز انسانیت پر ایک بدنما دھبہ ہیں۔

کشمیری کنن پوشپورہ جیسے آبروریزی کے خوفناک واقعات کو ہرگز فراموش

نہیں کریں گے۔ رپورٹ میں کہا کہ خواتین کے حقوق کیلئے سرگرم عالمی

تنظیموں کو مظلوم کشمیری خواتین کی حمایت میں آواز بلند کرنی چاہیے۔

=-.-= مودی نے مقبوضہ کشمیر پر 24 جون کو اے پی سی طلب کر لی

ادھر بھارت کی مودی سرکار نے عالمی دباؤ کے باعث مقبوضہ کشمیر پر اے پی

سی طلب کر لی ہے جس میں مقبوضہ وادی کی ریاستی حیثیت کی بحالی پر گفتگو

ہو سکتی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر مودی سرکار نے آل

پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی ) طلب کرلی ہے، بھارتی جماعتوں کی آل پارٹیز

کانفرنس 24 جون کو منعقد ہو گی۔ بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے

مطابق اس ضمن میں بھارتی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے صدر امیت شا نے

مشیر قومی سلامتی اجیت دوال سمیت اہم حکام سے ملاقات کی۔ بھارتی میڈیا نے

دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم مودی نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ

محبوبہ مفتی اور فارق عبداللہ کو کانفرنس میں شرکت کے لئے دعوت نامے بھیج

دیئے ہیں جس پر دونوں رہنماﺅں نے اپنی اپنی جماعت کی میٹنگ طلب کرلی ہے

جس میں دعوت نامے کو قبول یا مسترد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ادھر یہ بھی

کہا جا رہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس آرٹیکل 370 کی بحالی کے لئے نہیں بلکہ

مقبوضہ کشمیر میں تعطل کی شکار سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے ہے

جس کے لئے مودی سرکار اپنے سابق حلیفوں سے مشاورت کرنا چاہتی ہے جبکہ

مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا-

=-.-= عالمی براداری کشمیر میں بھارتی جنسی جرائم کا نوٹس لے، پاکستان

دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ تنازعات کا شکار علاقوں میں

جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن عالمی برادری کیساتھ مل کر منانے میں

پاکستان شامل ہے جو تنازعات کے شکار خطوں میں ہر قسم کے تشدد، استحصال

اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے ہمارے مشترکہ عزم کا اظہار

ہے۔ یہ انسانی حقوق کے ان عالمگیر اصولوں کا اعادہ کا دن ہے جو تنازعات کا

شکار اورمقبوضہ خطوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ ایسے مخصوص

حالات میں کمزورافراد اور طبقات کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اس ضمن میں

عالمی برادری کو اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانون کے مطابق اپنی ذمہ

داریاں اور وعدے پورے کرنا ہونگے۔ عالمی دن کے موقع پر ہمیں غیرقانونی طور

پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے بہادر عوام کو نہیں بھولنا چاہئے جو

قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین ترین پامالیوں کا نشانہ بنے

ہوئے ہیں، خواتین، بچیوں اور بچوں کے لئے زندگی دو دھاری تلوار بن کر رہ گئی

ہے۔ وہ محض معطل بنیادی انسانی حقوق اور دباؤ کے تحت زیر قبضہ ماحول میں

زندہ رہنے پر ہی مجبور نہیں بلکہ اقوا م متحدہ کی سلامتی کونسل کی استصواب

رائے کے حق دیئے جانے کی منتظر ہیں، جس سے دستبردار کرانے کے لئے

انہیں بھارتی فورسز کے جنسی تشدد اور آبروریزی کے بہیمانہ ہتھکنڈوں کا بھی

سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بدقسمتی سے ان جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف

قانونی کارروائی کرنے کے یہ تمام مطالبات بھارت نے مسترد کردئیے جو مسلسل

ظلم و جبر کے اس ماحول کو مسلط رکھے ہوئے ہے۔ عالمی برادری مقبوضہ

کشمیر کے عوام کے خلاف جنسی جرائم کا نوٹس لے اور جنیوا کنونشن کے تحت

اپنی عالمی ذمہ داریاں پوری کرے۔ پاکستان انسانی حقوق کی ان سنگین پامالیوں

کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

آبروریزی بھارتی جنگی ہتھیار ، آبروریزی بھارتی جنگی ہتھیار ، آبروریزی بھارتی جنگی ہتھیار

Leave a Reply