شوکت ترین نیب اپیلیں

آئی ایم ایف کی شرائط نہیں مان سکتے ، شوکت ترین

Spread the love

آئی ایم ایف شرائط

اسلام آ باد (جے ٹی این آن لائن نیوز) وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ جس طرح سے آئی ایم

ایف کہہ رہا ہے ویسے نہیں کرسکتے ، ہمیں اپنے طریقے سے ریونیو بڑھانا ہوگا، اس مرتبہ آئی ایم

ایف نے ہم پر نہایت سخت شرائط لگائی ہیں جن کی سیاسی قیمت بھی ہے، اس وقت معیشت کو بڑا

خطرہ کورونا سے ہے،ٹیکس نیٹ میں آنے والوں کو ہراساں کیا جا تا ہے ،مہنگائی کنٹرول کرنے

کیلئے ہر حد تک جائیں گے، مڈل مین کی کمر توڑ دیں گے، ہم قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبہ

بندی کررہے ہیں، ہمیں زراعت کے شعبے کو بڑھانا ہے، زراعت کی بہتری کے لئے مالیاتی پیکج کی

ضرورت ہے، ہمیں زراعت پر پیسے خرچ کرنے ہونگے، پانی سمیت دیگر ضروریات کا خیال رکھنا

ہوگا،ہم آئی ایم ایف پروگرام سے نہیں نکلیں گے، پروگرام چل رہا ہے، آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ 92

فیصد ریونیو اکھٹا کررہے تھے، کورونا کی وجہ سے57 فیصد تک آگئے ہیں، کورونا کی تیسری لہر

ہے ، ہمیں سہولت دینا ہوگی، آئی ٹی کے شعبے میں ترقی سے بھی بہترین تبدیلی آسکتی ہے۔ آئی ٹی

کا شعبہ کی گروتھ 65 فیصد ہے اس کو 100 فیصد پر لانا ہوگا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے

ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم آئی ایم ایف پروگرام سے نکلیں گے نہیں تاہم اس کے طریقہ کار

کو تبدیل کریں گے، ہمیں انہیں ثابت کرنا ہے کہ ہم جو اقدامات کریں گے اس سے ریونیو بڑھالیں گے

۔ انہوں نے کہا کہ ‘ٹیکسز کے حوالے سے بھی ایسے ہی اقدامات کریں گے اور اسے بڑھائیں گے تاہم

ہم اچانک سے بڑا اضافہ نہیں کرسکتے، تھوڑا تھوڑا اضافہ کرکے ہم آگے جاسکتے ہیں اور آئی ایم

ایف کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ریونیو ہم نے

بڑھانا ہے تاہم جس طرح سے آئی ایم ایف کہہ رہا ہے ویسے نہیں کرسکتے، ہمیں اپنے طریقے سے

ریونیو بڑھانا ہوگا ۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ان کا اور وزیر اعظم کا فلسفہ ہے کہ ملک

کو اب مستحکم نمو کی طرف لے کر جانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے سخت شرائط کے باوجود

آئی ایم ایف پروگرام کیپیروی کی اور ملک کو استحکام کی طرف لے کر گئے ۔ انہوں نے کہا کہ

‘2008 میں جب میں آئی ایم ایف کے پاس گیا تھا اس وقت ماحول مناسب تھا تاہم اب ماحول کچھ اور

ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف نے ہم پر سخت شرائط لگائیں جس کی سیاسی قیمت بھی ہے ۔ ان کا

کہنا تھا کہ حکومت نے سخت شرائط پر عمل کیا اور ملک کو استحکام کی جانب لے کر گئے اور جب

نمو کی جانب جانا تھا تو ملک میں کورونا آگیا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس بحران کے

دوران حکومت نے 1200 کھرب روپے کا پیکج دیا جس سے معیشت میں کچھ بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مارچ میں ریونیو گزشتہ سال سے 46 فیصد بڑھا اور 20 اپریل تک 92 فیصد نمو

تھی تاہم اپریل کے آخر میں کورونا لاک ڈان کی وجہ سے یہ کم ہوکر 57 فیصد پر آگیا تھا۔ ان کا کہنا

تھا کہ ہمیں کورونا سے خطرہ ہے ورنہ ہماری معاشی بحالی کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ شوکت ترین

کا کہنا تھا کہ ‘اس معیشت کو نمو کی جانب لے کر جانا ہے، اس کے لیے ہمیں صنعتوں کو مراعات

دینی ہوں گی تاکہ صنعتیں ترقی کریں اور عوام کے لیے روزگار پیدا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ‘کوشش

ہے کہ کورونا کا سایہ کم ہو اور ہم ترقی کی پٹری پر واپس چڑھیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم قیمتوں میں

استحکام، سماجی تحفظ، معاشی استحکام، اخراجات کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘بجٹ میں ایسے پروگرام لائیں گے کہ عام آدمی کو ٹیکس نیٹ میں آنے میں

کوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ایف بی آر میں عوام کو ہراساں کیا جاتا ہے تاہم

ایسی پالیسیز لائیں گے کہ جس سے اس کا خاتمہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں کسی پر تنقید نہیں کرتا

مگر صلاحیت کی ادائیگی ساڑھے 5 فیصد سے بڑھتی رہتی تو ہمیں اسے ادا کرنے کی ضرورت نہ

ہوتی تاہم ہم نے اسے بہت زیادہ بڑھا دیا ہے جس سے اب ہمیں نمٹنا ہوگا ۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ

62 فیصد آبادی ہماری دیہاتوں میں رہتی ہے اور ان کا پیشہ زراعت ہے تاہم اس شعبے میں گزشتہ 10

سالوں میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے اور ہمیں اس پر پیسے خرچ کرنے پڑیں گے اور یہ ہماری ترجیح

میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری صنعتیں معیار کے مطابق نہیں، برآمدات کی زیادہ تر صنعتیں

خاندانی کاروبار ہیں جس کا دو نسلوں بعد بٹوارا ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کی صنعت

میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا نام و نشان نہیں، دنیا میں برآمدات کو

بڑھانے کے لیے ایف ڈی آئی کو متعارف کروایا گیا تھا، ‘ہم اس حوالے سے چین سے بات کر رہے

ہیں کہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت یہاں لگائے اور یہاں سے بر آمد کرے ۔ شوکت ترین کا کہنا تھا

کہ ‘آئی ٹی سالانہ بنیاد پر 65 فیصد کے حساب سے نمو کی جانب جارہی ہے اور یہ 100 فیصد تک

جاسکتی ہے اور یہ شعبہ ہمارے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاسنگ کے شعبے

میں بھی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور جب اس نے اپنی رفتار پکڑی تو یہ بہت آگے تک جائے گی اور

یہ بینکس کے لیے بہت اچھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بینکنگ سیکٹر میں 100 روپے ڈپازٹ ملتا ہے تو

48 روپے قرض لیے جاتے ہیں، یہ بہت بڑا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کا فوٹ پرنٹ

جی ڈی پی کا 33 فیصد ہے جو دنیا میں سب سے کم ترین میں سے ایک ہے اور اسی وجہ سے ہماری

سیونگ کی شرح میں اضافہ نہیں ہورہا۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کے ساتھ اسمال

اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ای) قرضے کی اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘تعجب ہے کہ

اب تک پورے سسٹم میں صرف ایک لاکھ ایس ایم ای قرضے ہیں، ہمارا مقصد ہے کہ آئندہ سالوں میں

یہ ایک لاکھ 20 سے 30 لاکھ تک پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس میں مراعات دے رہی ہے

اور اس کے 50 فیصد نقصانات کو انشورنس کمپنی کے ذریعے حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے

کہا کہ کامیاب نوجوان پروگرام میں صرف ساڑھے 8 ہزار قرضے ہیں جو بہت کم ہیں، اسے ہم تبدیل

کریں گے اور اس کے ساتھ کامیاب کسان پروگرام کا بھی آغاز کریں گے اور اس طریقے سے ہم ملک

میں نچلی سطح پر استحکام لاسکتے ہیں ۔

آئی ایم ایف شرائط

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply