International Monetary Fund Logo & Pakistan Flag 68

منی بجٹ نہ کوئی ٹیکس، حکومت اور آئی ایم ایف کا مذاکرات میں اتفاق

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) آئی ایم ایف اتفاق

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان دس روزہ مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ کوئی منی بجٹ نہیں آئے گا- مزید پڑھیں

نان ٹیکس آمدن میں 400 ارب روپے تک کا اضافہ

جون تک ٹیکس میں اضافہ نہیں ہو گا، ٹیکس ہدف کم نہیں ہو گا بلکہ حصول میں مزید کوششیں کی جائیں گی، آمدن بڑھانے کیلئے نان ٹیکس آمدن بڑھائی جائیگی اداروں کی نجکاری کیلئے روڈ میپ پر بھی عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائیگا، نان ٹیکس آمدن میں 400 ارب روپے تک کا اضافہ کیا جائے گا، پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کرلئے ہیں، آئی ایم ایف مالیاتی اور کرنٹ خسارے سے مطمئن ہے۔

نجکاری کیلئے روڈ میپ پر بھی عملدرآمد یقینی

بدھ کو وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دس روزہ مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں، اختتامی اجلاس کی صدارت مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور آئی ایم ایف کے مشن برائے پاکستان کے چیف نے کی۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا، جون تک ٹیکس میں اضافہ نہیں ہو گا،ٹیکس ہدف کم نہیں ہو گا، ٹیکس اہداف کے حصول میں مزید کوششیں کی جائیں گی، آمدن بڑھانے کیلئے نان ٹیکس آمدن بڑھائی جائیگی،اداروں کی نجکاری کیلئے روڈ میپ پر بھی عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائےگا، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ نان ٹیکس آمدن میں 400 ارب روپے تک کا اضافہ کیا جائے گا-

آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کرلئے

پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کرلئے ہیں، آئی ایم ایف مالیاتی اور کرنٹ خسارے سے مطمئن ہے۔ ذرائع کے مطابق فریقین 10 روز ہ مذاکرات کا الگ الگ اعلامیہ جاری کریں گے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن نے سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد پر ہی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین 10 روزہ مذاکرات کا الگ الگ اعلامیہ بھی جاری کریں گے۔خیال رہے عالمی مالیاتی فنڈ کے دوسرے جائزہ مشن نے 3 فروری سے وزارت خزانہ، ایف بی آر اور دیگر محکموں سے مذاکرات کیے اور ساتھ ساتھ ارکان پارلیمنٹ کو بھی معاہدوں اور معاشی صورتحال پر بریفنگ دی-

ایم ایف وفد کی خزانہ کمیٹی کے حکام سے ملاقات

قبل ازیں آئی ایم ایف وفد کی خزانہ کمیٹی کے حکام سے ملاقات ہوئی جس میں معاشی صورتحال پر بات چیت کی گئی آئی ایم ایف وفد کیساتھ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں ایجوکیشن، ہیلتھ، واٹر اینڈ سینیٹیشن سمیت 5 ایس ڈی جیز پر بات ہوئی۔ آئی ایم ایف وفد نے
ملاقات میں پاکستان کی معیشت کو کھولنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں اضافے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے جبکہ نئے اور چھوٹے درجے کے ایکسپورٹر کو بڑھانا چاہیے۔ وفد نے کاروبار کیلئے ماحول بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اگلی قسط جلدی ملنے کی امید

چیئرمین خزانہ فیض اللہ کموکا نے اجلاس کے بعد بتایا کہ آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات مکمل ہونے پر اگلی قسط جلدی ملنے کی امید ہے تاہم ٹیکس اہداف حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین فیض اللہ کامو نے کہاہے کہ کوئی منی بجٹ نہیں لایا جا رہا ہے ،اصلاحات اگلے مالی سال کے بجٹ میں شامل کی جائیں گئی،ٹیکس اہداف حاصل کرنا مشکل نظر آ رہا ہے، مذکرات مکمل ہونے پر اگلی قسط جلدی ملنے کی امید ہے۔
اراکین کمیٹی نے شکوہ کیا کہ مہنگائی میں اضافہ اور بیروزگاری بڑھنے کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات پرآئی ایم ایف حکام کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ فیض اللہ کامو نے کہاکہ برآمدات میں اضافہ کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف وفد نے کہا کہ مزید ایف ٹی اے کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف نے کہا کہ نئے اور چھوٹے درجے کے ایکسپورٹر کو بڑھانا چاہیے۔

آئی ایم ایف اتفاق

Leave a Reply