آئین کا پاسدار مقدس،خلاف ورزی کرنیوالا غدار،نواز شریف

آئین کا پاسدار مقدس،خلاف ورزی کرنیوالا غدار،نواز شریف

Spread the love

لندن، لاہور (جے ٹی این آن لائن) آئین کا پاسدار مقدس

قائد مسلم لیگ (ن) اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے پاکستان کا آئین

دو ٹوک بات کرتا ہے کہ ملک میں مقدس صرف وہی جو آئین کی پاسداری کرے

اور خلاف ورزی کا مرتکب آئین و ریاست کا مجرم اور غدار ہے، اگر ہم نے اب

بھی اپنی اصلاح نہ کی تو ہمارا مستقبل انتہائی تاریک ہو گا، اور تاریخ بھی ہمیں

کبھی معاف نہیں کریگی۔

=-= پاکستان سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

گذشتہ روز لاہور میں دو روزہ عاصمہ جہانگیر ریفرنس کے آخری روز اپنے آن

لائن خطاب میں نوز شریف نے کہا عاصمہ جہانگیر تمام عمر عدل و انصاف اور

حق، سچ کی جنگ لڑتی رہیں، وہ بلاخوف سچ کہنے والی بہادر خاتون تھیں۔ جبر

اور گھٹن کے اس ماحول میں عاصمہ جہانگیر کی بہت کمی محسوس ہو رہی ہے۔

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ بدقسمتی سے تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ہے۔

قوم میں گہری ہوتی مایوسی اور بے بسی اس وقت سب سے خطرناک پہلو ہے،

تاریخ گواہ ہے جب قومیں مایوسی کے دلدل میں دھنستی ہیں تو پھر اس قوم کی

بقاء کے سوالات جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں۔ آج 74 سال بعد قوم پھر سوالات اٹھا

رہی ہے، انہیں ان کے جواب نہ ملے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اگر سوالات

کرنیوالوں کی زبان کھینچ لی جائے گی تو ملکی مسائل حل نہیں ہونگے، کیا

سوال کرنیوالوں کو اٹھا لینے یا غائب کرنے سے سوالات ختم ہو جائینگے؟۔

=-،-= صوبہ پنجاب سے مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،=)

قائد مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ موجودہ دور آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق

کے حوالے سے سیاہ ترین دور ہے، سیاسی مخالفین، کالم نگار یا سچ بولنے والی

کوئی بھی آواز ہو تو اس کو اپنے سوال کی پاداش میں غائب یا قید کردیا جاتا ہے،

گولیاں ماری جاتی ہیں، پروگرام یا کالم کی اشاعت بند ہو جاتی ہے یا پھر نوکری

سے نکلوا دیا جاتا ہے۔ ایسے سیاہ قوانین تیار کیے گئے، جن کا مقصد سچ بولنے

کی زبان بند کرنا ہے جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، یہاں آئین و قانون

ہی نہیں عدالتیں تک ٹوٹتی ہیں، من پسند ججوں سے مرضی کے فیصلے لیے

جاتے ہیں، آمروں کو قانونی حیثیت ملتی ہے، ریاست کے اوپر ریاست چلائی

جاتی ہے۔ سیاسی انجینئرنگ کی فیکٹریاں لگائی جاتی ہیں، ووٹ کو عزت نہیں

ملتی، آر ٹی ایس بند، ووٹ چوری ہوتا ہے، منتخب حکومتوں کیخلاف دھرنے

کیے اور کروائے جاتے ہیں، حکومتیں بنائی اور گرائی جاتی ہیں-

=-،-= خیبر پختونخوا سے مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

پارلیمنٹ کی خودمختاری کا تو حال یہ ہے کہ چند منٹوں میں درجنوں قوانین

بلڈوز کیے جاتے ہیں جیسے دو دن پہلے ہوا ہے۔ یہ اسباب ہمارے زوال کا باعث

ہیں اور پھر کہا جاتا ہے دنیا ہم پر پابندیاں کیوں لگاتی، کٹہرے میں کیوں کھڑا

کرتی ہے، دنیا میں ہمارے کردار پر سوال کیوں اٹھائے جاتے ہیں، سیاستدان یا

میڈیا نہیں، بلکہ آج جج بھی سچ بولے تو اسے نوکری سے ہاتھ دھونے پڑتے

ہیں، کیا یہ ہم سب کیلئے مقام فکر نہیں کہ جج آج بھی سچ کے متلاشی ہیں۔ ججز

پر دباؤ اور بلیک میلنگ سے اپنے سیاسی مخالفین کیخلاف فیصلے لیے جاتے

ہیں، اخباروں میں شہ سرخیاں شائع ہو رہی ہیں کہ کیسے اعلیٰ عدلیہ کے جج

ٹیلیفون کال کے ذریعے سزائیں دلوانے اور پھر ضمانت نہ دینے کے حکم صادر

کرتے ہیں، اگر انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے منصف ہی ناانصافی کریں

گے تو پھر معاشرہ اور ملک کیوں کر تباہ و برباد نہیں ہو گا۔

=-،-= بلوچستان سے مزید خبریں ( =،= پڑھیں =،= )

انہوں نے کہا کہ کیا انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والوں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے

کہ پاکستان کی عدلیہ بین الاقوامی انصاف کے انڈیکس میں کہاں کھڑی ہے، کیا

ہم نے مارشل لا کو قانونی حیثیت نہیں دی، کیا ہم نے فوجی آمروں پر پارلیمنٹ

کو توڑنے کے بعد اسے کبھی بحال کیا، کیا ہماری عدالتوں نے فوجی آمروں کو

آئین میں ترمیم کی اجازت نہیں دی، یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہوتا رہا ہے۔ نواز

شریف نے مزید کہا آئین ہماری حدود کا تعین کرتا ہے اور ہمارے مسائل کے حل

کی یہی چابی ہے، آئین نے لکیر کھینچ دی ہے کہ ذمے داری کیا ہے اور اسے

کسے نبھانا ہے، اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہو گی کہ اس ملک میں آمروں نے

سرعام یہاں تک کہہ دیا کہ آئین کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جسے ردی کی ٹوکری میں

پھینک دیا جائے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کر کے کہیں نہ کہیں سے شروعات کرنا ہو

گی، اب یہ پاکستان کی بقاء اور سلامتی کا معاملہ ہے۔

=-.-= صوبہ سندھ کی مزید خبریں ( == پڑھیں == )

سابق وزیراعظم نے کہا اس وقت ہم سب کو مل کر ایک قومی بیانیے پر متفق

ہونے کی ضرورت ہے، آئین کی پاسداری، اس کیساتھ وفاداری، اور اس کی

روشنی میں اپنی حدود میں رہ کر فرائض کی بجا آوری ہی ہمارے مسائل کا حل

ہے، اور اس کیلئے وکلا برادری، دانشور، جمہوریت پسند، میڈیا، سول سوسائٹی،

انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پاکستان کے 22

کروڑ عوام کا حق ہے کہ ان کو مہنگائی، بیروزگاری و معاشی تباہی سے نجات

ملے، انہیں صحت، انصاف اور تعلیم کے بنیادی حقوق کسی بھیک یا احسان کی

صورت میں نہیں بلکہ اپنے حق کے طور پر ملیں۔ دنیا میں وقوع پذیر حالات

پُکار پُکار کر دہائیاں دے رہے ہیں کہ ہم اپنی اصلاح کریں، اسی لیے میں نے بار

بار کہا کہ ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا چاہیے، اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں۔

=-.-= آزاد، مقبوضہ جموں و کشمیر سے مزید خبریں ( =.= پڑھیں =.= )

نواز شریف نے کہا ہمارے خلاف ڈان لیکس کا ڈرامہ رچایا گیا، جھوٹے مقدمات

بنا کر سزائیں دلوائی گئیں اور رسوا کیا گیا، اب ہمیں پاکستان اور آئین و قانون

اور جمہوریت کی حکمرانی کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا، ایک قومی

ایجنڈا بنانا ہو گا اور اسے قومی تحریک کی شکل دینی ہو گی۔ عاصمہ جہانگیر

کانفرنس میں دی گئی تجاویز کی روشنی میں فوری حکمت عملی مرتب کی

جائے، سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور حکمت عملی اپنائیں تاکہ ایک عملی

جدوجہد کی راہ اپنائی جا سکے۔ ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، یہ کام

آج ہی بیٹھ کر کیا جائے تاکہ قوم کو اس گہری کھائی سے نکالا جا سکے، اگر

ایسا نہ ہو سکا تو ملک کو اس کھائی سے نکالنا ناممکن ہو جائے گا اور تاریخ

ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

آئین کا پاسدار مقدس ، آئین کا پاسدار مقدس ، آئین کا پاسدار مقدس
آئین کا پاسدار مقدس ، آئین کا پاسدار مقدس ، آئین کا پاسدار مقدس

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply