Halat e Hazra,Current Affair

آئینہ دکھایا تو بُرا مان گئے، فوکل پرسن سی ایم کے پی کے کی بداحواسی

Spread the love

پشاور(تجزیہ بیورو چیف عمران رشید) آئینہ دکھایا تو بُرا

Journalist Imran Rasheed

پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی حکومت جہاں ایک طرف صحافی برادری

کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کا دعوے کرتے نہیں تھکتی، اور

اس ضمن میں وہ جرنلسٹ پروٹیکشن بل کی منظوری کیلئے بھی کوشاں ہے، تو

دوسری جانب پی ٹی آئی خیبر پختونخوا حکومت کے ایم پی اے سرعام صحافیوں

کو غلیظ گالیاں اور دھمکیاں دینے پر تُلے ہیں، جو پی ٹی آئی کے پی کے ہی نہیں

بلکہ مرکزی قیادت کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے-

=-،-= خیبر پختونخوا سے متعلق مزید خبریں (=-= پڑھیں =-=)

ویسے بھی وطن عزیز میں صحافیوں کو قتل کیا جانا، تشدد کا نشانہ بنانا، ان پر

جھوٹے مقدمات درج کرنا کوئی نئی بات نہیں، لیکن صحافی برادری کو تحفظ

فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والی پی ٹی آئی

حکومت کے ایم این ایز اور اپم پی ایز کی جانب سے اہل قلم کے ساتھ روا رکھا

جانے والا ہتک آمیز رویہ جہاں تحریک انصاف کی حکومت کے دعووں کی نفی

کرتا ہے، وہیں حکومتی ارکان اسمبلی کے بے لگام ہونے اور ذاتیات کو ترجیح

دینے کے ثبوت سمیت اپنی پارٹی قیادت کے لئے باعث سبکی بننے کی دلیل بھی

ہے-

journalist musrat ullah jan
سینئر صحافی مسرت اللہ جان
——————————————————————–

گذشتہ روز ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ خیبر پختونخوا کے معروف سینئر

صحافی مسرت اللہ جان کے ساتھ پیش آیا جس میں وزیراعلیٰ کے پی کے محمود

خان کے فوکل پرسن اور رکن صوبائی اسمبلی آصف خان اور ان کے ساتھی ناظم

نے صوبائی دارالحکومت پشاور کے ایک علاقے یوسف آباد میں جاری ترقیاتی

کاموں کے غیر معیاری ہونے سے متعلق تصاویر شائع کرنے پر سینئر صحافی

مسرت اللہ جان کو فون کر کے غلیظ گالیاں دینے سمیت انہیں انتہائی سنگین نتائج

کی دھمکیاں دیں- مسرت اللہ جان نے مذکورہ فون کی ریکارڈنگ سوشل میڈیا پر

وائرل کر دی جس میں موصوف ایم پی اے اور فوکل پرسن ٹو سی ایم کے پی کے

آصف خان کی صحافی سے انتہائی ہتک آمیز اور شرما دینے والی گفتگو سُن کر

ایسا لگتا ہے جیسے بولنے والا کوئی منتخب عوامی نمائندہ نہیں بلکہ کسی مافیا کا

کارندہ ہے-

=،= سنیئے =،= صحافی مسرت اللہ جان کو کی گئی آصف خان کا ( == ٹیلی فون ==)

آئینہ دکھایا تو بُرا مان گئے، فوکل پرسن سی ایم کے پی کے کی بداحواسی
اس ضمن میں صحافی مسرت اللہ جان نے سوشل میڈیا پر آڈیو شیئر کرتے ہوئے

لکھا ہے کہ ” اگر مجھے کسی نے بھی ہاتھ لگایا تو اس کا ذمہ دار ممبر صوبائی

اسمبلی اور وزیراعلیٰ محمود خان کے فوکل پرسن آصف خان ہوں گے “- اس

کے ساتھ ساتھ متاثرہ صحافی نے حکومتی رکن کی جانب سے دھمکی آمیز فون

کے بارے میں خیبر یونین آف جرنلسٹ اور پشاور پریس کلب کے نام فوری

کارروائی کیلئے درخواستیں بھی ارسال کر دی ہیں-

آئینہ دکھایا تو بُرا،آئینہ دکھایا تو بُرا

سنیئر جرنلسٹ مسرت اللہ جان سے تضہیک اور دھمکی آمیز رویے پر جہاں

صحافی برادری میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں، پاکستان

تحریک انصاف کی قیادت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کے فوکل

پرسن آصف خان کیخلاف تادیبی کارروائی کرنے کیساتھ ساتھ متاثرہ صحافی سے

معافی مانگنے سمیت آئندہ ایسی غلیظ حرکت نہ دہرانے کا حلف لے-

=،-= افسوسناک واقعہ کے پی کے حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کیلئے امتحان

صحافت ریاست کے چوتھے ستون کا درجہ رکھتی ہے اور اس شعبے سے

وابستہ افراد کو معاشرے کی آنکھ کہا جاتا ہے کیونکہ یہی اہل قلم طبقہ ارباب

اختیار ہی نہیں عوام کو بھی ان کی اچھائیوں، برائیوں، خامیوں اور خوبیوں سے

آگاہ کرتا ہے اچھائیوں، خوبیوں میں مزید اضافے، برائیوں اور خامیوں پر قابو

پانے کے ترغیب دیتا ہے- اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا اور

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اس واقعہ پر کیا ایکشن لیتی ہے-

آئینہ دکھایا تو بُرا ، آئینہ دکھایا تو بُرا ، آئینہ دکھایا تو بُرا ، آئینہ دکھایا تو بُرا

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply