Ch.Asim Tipu Advocate writer JTNOnline 95

آئل پرائس معاملہ، انتقام کے راستے پر چلنے سے پہلے 2 قبریں کھودو ۔۔ ؟

آئل پرائس معاملہ

عالمی سطح پر طلب میں نمایاں کمی کی وجہ سے تیل کی پیداوار کم کرنے کی تجویز، یوں تو اوپیک پلس کے اجلاس میں 6 مارچ کو زیربحث آئی۔ مگر اس اجلاس میں اوپیک پلس ممالک کسی بھی معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے، کیونکہ اس اجلاس سے کچھ دیر پہلے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کا فون پر رابطہ ہوا، اس میں اہم ترین بات یہ تھی کہ یہ گفتگو 2 سربراہانِ حکومت کے درمیان روایتی سفارتی آداب سے ہٹ گئی۔

——————————————————————————
یہ بھی پڑھیں : بائیولوجیکل جنگ کا تجربہ کیسا رہا ….. ؟
——————————————————————————

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فون کال میں دونوں رہنما ایک دوسرے سے کافی ناراض نظر آئے۔ سعودی ولی عہد اس فون کال کے دوران بہت جارحانہ موڈ میں تھے، اور پیداوار کم کرنے کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں، انہوں نے روسی صدر کو دھمکی دی کہ، وہ پرائس وار شروع کردیں گے۔ روسی صدر اس دباؤ میں نہیں آئے، اور یوں فون پر ہونیوالا یہ رابطہ انتہائی بدمزگی کے ماحول میں انجام کو پہنچا۔

تیل بحران ایک دوسرے کیلئے قبر کھودنے والے خود اسی میں گر گئے؟

بتایا جاتا ہے سعودی ولی عہد نے پیوٹن کیساتھ فون پر رابطے سے پہلے وائٹ ہاؤس میں اپنے دوست اور صدر ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر کیساتھ صلاح مشورہ بھی کیا تھا۔ جارڈ کشنر نے سعودی ولی عہد کو صدر ٹرمپ کی ایما پر مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی۔
اوپیک پلس کے اجلاس میں سعودی عرب نے روس کو کونے میں دھکیلنے کی پوری کوشش کی، لیکن تیل کی پیداوار میں مجموعی طور پر 15 لاکھ بیرل یومیہ کٹوتی کا معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

سعودی عرب کا پیداوار میں اضافہ، قیمتیں گرانا، صدر ٹرمپ کی تعریف

سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافے کا اعلان کرکے قیمتیں گرا دیں، اور صدر ٹرمپ نے سعودی اقدام کی تعریف کی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس سستے تیل سے وہ امریکہ کے ذخائر بھر دیں گے، یوں ناصرف امریکی عوام کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا، بلکہ قومی آئل انڈسٹری کو بھی مدد ملے گی۔ امریکہ توانائی کیلئے اب محتاج نہیں رہا اور ایک شاندار مقصد حاصل کر لیا ہے، جس کے حصول کا کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔

امریکی تیل کمپنیوں کا ٹرمپ کے بیان پر شدید احتجاج

شیل آئل کے مہنگے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنیوالی امریکی، تیل کمپنیوں نے ٹرمپ کے اس بیان پر شدید احتجاج کیا، کیونکہ تیل قیمتوں کی جنگ اور اس کے نتیجے میں سستے تیل کی وجہ سے ان منصوبوں پر کی گئی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی تھی۔

——————————————————————————
یہ بھی ضرور پڑھیں : امریکہ سعودیہ 75 سالہ اسٹریٹیجک معاہدہ خطرے میں
——————————————————————————

امریکی تیل کمپنیوں کے احتجاج پر وائٹ ہاؤس کو موقف تبدیل کرنا پڑا۔ واشنگٹن، ریاض اور ماسکو کے درمیان فون پر رابطوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا، اور 10 اپریل کو ماسکو نے کہا کہ صدر پیوٹن نے سعودی ولی عہد سے فون پر بات کی، اور دونوں نے ماسکو، ریاض رابطوں کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

روس کو سبق سکھانے کا منصوبہ امریکہ کیلئے الٹا پڑگیا

12 اپریل کو صدر ٹرمپ، سعودی شاہ سلمان اور روسی صدر کے فون پر رابطے ہوئے، 13 اپریل کو صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر خبر دی کہ اوپیک پلس ممالک میں بڑا معاہدہ طے پا گیا ہے، اس معاہدے سے امریکی تیل سیکٹر میں ہزاروں ملازمتیں بچ جائیں گی۔ ( آئل پرائس معاملہ )
وائٹ ہاؤس اور سعودی ولی عہد کا روس کو سبق سکھانے کا مشترکہ منصوبہ امریکہ کیلئے الٹا پڑگیا، اور اس کاروباری ہفتے کے پہلے روز امریکی خام تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی بار منفی ٹریڈنگ میں چلی گئیں، وجہ مارکیٹ میں ضرورت سے زیادہ رسد بنی جو سعودی تیل کی پیداوار بڑھانے کا نتیجہ تھا۔
اس وجہ سے تیل ذخیرہ کرنے کیلئے جگہ کم پڑگئی، کمپنیاں خریداروں کو تیل اپنے سٹوریج سے اٹھانے کیلئے خرچہ دینے پر مجبور ہوگئیں ۔

تیل کی قیمت کی یہ جنگ تیل برآمد کرنیوالے ملکوں کو بھی مہنگی پڑی

تیل کی قیمت کی یہ جنگ تیل برآمد کرنےوالے ملکوں کو بھی مہنگی پڑی ہے۔ سعودی عرب، عرب امارات اور کویت کی معیشت کا انحصار ہی تیل کی برآمد پر ہے۔
عراق اور وینزویلا اس تیل قیمت کی جنگ کے نتیجے میں بدامنی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ افریقہ میں نائیجریا کی معیشت پہلے ہی کرونا وائرس کی وجہ سست پڑ چکی ہے۔ ( آئل پرائس معاملہ )
امریکہ اور کینیڈا اس بحران کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہیں، لیکن اس بحران سے نکلنے کا عمل تکلیف دہ ہوگا۔ کرونا وائرس کی وبا اور اس کے نتیجے میں معاشی شٹ ڈاؤن تیل انڈسٹری کے بحران کو گہرا کر رہا ہے۔ امریکہ ، یورپ، بھارت اور چین نے ٹیل کو ذخیرہ کرنے کی جگہ کم پڑنے پر تیل کی شپ منٹس واپس بھیجنا شروع کردیں۔

چین اپریل اور مئی کے 10 سودے سعودی عرب کو واپس کر چکا

چین نے اپریل اور مئی کے 10 سودے سعودی عرب کو واپس کردئیے ۔عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ تیل کی طلب 2022ءکے اختتام تک منفی رہنے کا امکان ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی قبل از وقت اندازہ لگانے میں ناکام رہی

عالمی تونائی ایجنسی تیل کی منفی ٹریڈنگ کا قبل از وقت اندازہ لگانے میں ناکام رہی، تاہم ایجنسی نے خبردار کیا تھا کہ، دنیا بھر میں آئل انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں ملازمین پر، کرونا وائرس کے اثرات کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
تیل برآمد کرنیوالے ملکوں کی معیشت زبردست خطرے سے دوچار ہے۔ امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کو، بجٹ خسارے سے بچنے کیلئے تیل کی کم از کم قیمت 91 ڈالر فی بیرل پر رکھنے کی ضرورت ہے۔

کس ملک کو تیل کی کتنی قیمت رکھنے کی ضرورت

عمان 82 ڈالر، ابوظہبی 65 ڈالر، قطر 55 ڈالر، بحرین 96 ڈالر، عراق 60 ڈالر اور ایران کو تیل کی قیمت 195 ڈالر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ افریقہ میں الجزائر کو بجٹ ضروریات پوری کرنے کےلئے تیل کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل، لیبیا کو 100 ڈالر، نائیجیریا کو 144 ڈالر، انگولا کو 155 ڈالر فی بیرل قیمت کی ضرورت ہے۔

فی بیرل قیمت ہی آئل انڈسٹری بچانے کی امید

اس سال کی بجٹ ضروریات کیلئے روس کو تیل کی قیمت 42 ڈالر، میکسیکو 49 ڈالر اور قازقستان کو 58 ڈالر فی بیرل رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ 48 ڈالر، کینیڈا 60 ڈالر اور ناروے کو 27 ڈالر فی بیرل قیمت کی صورت میں انڈسٹری بچانے کی امید ہے۔ امریکہ کی تیل انڈسٹری میں ایک کروڑ ملازمتوں میں سے کتنی متاثر ہوں گی ابھی یہ دیکھنا باقی ہے۔

کروڑوں ملازمتیں خطرے میں ،انرجی مارکیٹ انتہائی متاثر

روس اور سعودی عرب کی تیل جنگ نے انرجی مارکیٹ کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جو پہلے ہی کورونا کی وبا کی وجہ سے دباؤ میں تھی۔ تیل کمپنیاں امریکہ کی جی ڈی پی میں 8 فیصد حصہ ڈالتی ہیں، جبکہ ایس اینڈ پی فائیو ہنڈرڈ انڈیکس میں تیل کمپنیوں کا حصہ 2.6 فیصد ہے۔ تیل مارکیٹ کے اس بحران کا امریکی معیشت پر اثر، 2020ء کے بعد بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

روسی تیل کے بڑے خریدار چین اور یورپی یونین

روسی تیل کے بڑے خریدار چین اور یورپی یونین ہیں اور کورونا وائرس کی وبا سے یہ مارکیٹ بھی متاثر ہوئی، لیکن تیل قیمتوں نے اس اثر کو گہرا کردیا ہے۔ روس کی کل برآمدات کا نصف تیل پر منحصر ہے۔ روس کو اس صورتحال میں 40 سے 50 ارب ڈالر بجٹ خسارے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگیوں میں بھی بے حد مشکلات

ماسکو کی جی ڈی پی میں تیل سیکٹر کا حصہ 30 فیصد ہے اور 10 لاکھ ملازمتیں خطرے میں ہیں۔سعودی عرب کی برآمدات میں 70 فیصد حصہ تیل کا ہے، اور سعودی عرب کا 500 ارب ڈالر کا ویلتھ فنڈ کچھ عرصے کیلئے اسے تیل قیمتوں کے بحران سے گزرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ( آئل پرائس معاملہ )
سعودی عرب نے معاشی بحران سے نکلنے کےلئے کورونا وائرس کی وبا کے دوران، ملازمین کی 60 فیصد تنخواہیں ادا کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ بیل آؤٹ پیکیج شاید پوری طرح قابل عمل نہیں رہا، کیونکہ اطلاعات ہیں کہ سعودی عرب کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنی کے ملازمین کو صرف 10 فیصد تنخواہیں مل رہی ہیں۔

کورونا وباء نے بنایا ہوٹلوں کو ہسپتال

ہوٹل انڈسٹری کو ہسپتالوں میں تبدیل کیا گیا ہے، لیکن انڈسٹری کو کوئی بیل آؤٹ پیکیج دیا گیا، اور نہ ہی اخراجات دئیے جا رہے ہیں۔ مملکت میں کام کرنےوالے مصر کے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جارہی ہے، اور جو سالانہ چھٹیوں پر ہیں انہیں تو ادائیگی بالکل نہیں کی جارہیں۔ سعودی عرب یہ توقع کر رہا تھا روس کیساتھ پیداوار میں کمی کے معاہدے کے بعد تیل قیمتیں 40 ڈالر فی بیرل پر چلی جائیں گی، اگر تیل قیمت موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہے، تو سعودی عرب کو 40 ارب ڈالر ریونیو کمی کا سامنا ہوگا۔

سعودی عرب میں بدامنی کا بھی خطرہ

روس کیساتھ معاہدے سے پہلے ہی سعودی عرب نے اپنے اداروں کو اخراجات میں 30 فیصد کمی کی ہدایت کردی تھی۔ سعودی حکومت کو اپنے بڑے منصوبے روکنا پڑیں گے، اور ولی عہد کا وژن 2030ء بھی رک جائے گا۔ سعودی تیل سیکٹر میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد ملازمت کر رہے ہیں۔ اخراجات کیلئے سعودی عرب کو ویلتھ فنڈز سے خرچ کرنا پڑے گا، اور شہریوں کو بھی مدد دینا پڑے گی۔
معاشی بحران مزید گہرا ہونے کی صورت میں سعودی عرب میں بدامنی کا بھی خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ( آئل پرائس معاملہ )
سعودی عرب کا معاشی بحران پورے خطے کو متاثر کرسکتا ہے۔ مصر، سوڈان، لبنان، شام اور تیونس میں سعودی معاشی بحران کے اثرات فوری محسوس کیے جائیں گے ،کیونکہ ان ملکوں کے لاکھوں افراد کا روزگار سعودی عرب میں ہے۔

لاک ڈاؤن کے باعث تیل کی طلب بالکل تباہ ہوچکی

تیل کی عالمی تجارت میں آنیوالی تاریخی، غیر معمولی اور تکنیکی بے قاعدگی کے پیچھے اصل مسئلہ بڑا حقیقی ہے۔ تمام تجارتی اشیاء کی قیمت اس کی رسد اور طلب کی بنیاد پر ہی طے ہوتی ہے۔ تیل کی طلب عالمی معاشی سرگرمی کا ایک اہم حصہ ہے، اور اسوقت سب یہ بات کر رہے ہیں کہ، کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں جاری، لاک ڈاؤن کے باعث طلب بالکل تباہ ہو گئی ہے، جہاز کھڑے ہو گئے ہیں، شہروں میں سڑکیں گاڑیوں سے خالی اور فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی ،معیشت میں بہتری کا بڑاسبب

جس طرح آسمان کو چھوتی تیل کی قیمتوں سے معیشتیں سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں، تو تیل کی کم قیمتوں کی وجہ سے معیشت میں بہتری آتی ہے۔ بڑے پیمانے پر تیل کی قیمتوں میں کمی دنیا بھر میں چھوٹے بڑے کاروبار پر ایک عالمی ٹیکس کی طرح ہوتا ہے۔ اگر کسی فضائی کمپنی کو اپنا کاروبار بچانا ہے اور لوگ سفر کرنا شروع کرتے ہیں، تو وہ اپنے سب سے بڑے خرچے تیل کی قیمتوں کو کم سے کم رکھنا چاہیں گی۔ ( آئل پرائس معاملہ )
اس طرح سے تجارتی مال لانے لے جانیوالی کمپنیاں، سپرمارکیٹس، پھول بیچنے والے سب کاروباری ٹرانسپورٹ پر ہونیوالے خرچے میں کمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، تیل کی کم قیمت کی وجہ سے انکے گاہکوں کی قوت خرید بھی بڑھ جاتی ہے۔

موجودہ معاشی سست روی سے کساد بازاری کا بھی خدشہ

پٹرول کی قیمت گزشتہ ایک دہائی میں پہلی مرتبہ ایک پاؤنڈ فی لیٹر یا اس سے بھی کم ہونے جا رہی ہیں۔ لیکن ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتوں میں وہ اپنے منافع کی شرح میں اضافہ کر دیں، تاکہ وہ تیل کی فروخت میں کمی سے ہونیوالے نقصان کو پورا کر سکیں۔ ( آئل پرائس معاملہ )
یہ ممکن ہے کہ تیل کی انتہائی کم قیمت کی وجہ سے معیشتیں تیزی سے بحال ہو جائیں، اور موجودہ معاشی سست روی کسی کساد بازاری میں تبدیل نہ ہو۔ لیکن یہ بچت کرنیوالوں کیلئے بری خبر ہے۔ تیل کی کمپنیاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ پیسہ بنانےوالی مشینوں کی مانند ہیں، اور اس پیسے کا بڑا حصہ پینشن سکیموں میں لگایا جاتا ہے۔

برطانوی کمپنیوں کی طرف سے بری خبر پر ریٹائرمنٹ کی آمدن خطرے میں

برطانوی کمپنیوں کی طرف سے کھاتے داروں کو جو منافع ادا کیا جاتا ہے، اس کا پانچواں حصہ تیل کی دو کمپنیوں شیل اور برٹش آئل کی طرف سے آتا ہے۔ ان کی طرف سے کسی بھی بری خبر سے ریٹائرمنٹ کی آمدن خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
یہ کمپنیاں بہت زیادہ ٹیکس بھی ادا کرتی ہیں۔ یہ صورتحال عالمی ماحول کیلئے بھی تشویش کا باعث ہے۔ جب تیل اتنی کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، تو توانائی کے دوسرے ذرائع حاصل کرنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی۔

عالمی منڈی میں آئل پرائس دنیا بھر انتہائی نازک و اہم معاملہ

اسلئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت دنیا بھر کے ملکوں اور کمپنیوں کے مفاد کےلئے انتہائی نازک اور اہم معاملہ ہے، اور اسلئے ان کی خواہش رہتی ہے کہ، تیل کی فی بیرل قمیت 40 سے 60 ڈالر کے درمیان میں رہیں۔اس وقت یہ توازن بری طرح بگڑ گیا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ اگر ہمیں اس بارے میں ابھی تک نہیں پتا تو ہمیں بہت بری معاشی خبریں ملنے والی ہیں۔

روس اور سعودی عرب کی یہ خوشی عارضی ہے،ماہرین

مارکیٹ پر نظر رکھنے والے اداروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ، تیل قیمتوں کی جنگ میں فوری طور پر روس اور سعودی عرب دونوں فاتح نظر آتے ہیں، کیونکہ دونوں کو امریکی شیل آئل عرصے سے کھٹک رہا تھا۔ ( آئل پرائس معاملہ )
ماہرین کا کہنا ہے کہ روس اور سعودی عرب کی یہ خوشی عارضی ہے، کیونکہ برینٹ کروڈ کی مارکیٹ بھی بچ نہیں پائے گی، اور اگلے چند ہفتوں (مئی کے آخر یا جون کے آغاز) میں دنیا بھر میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوجائے گی۔
سعودی عرب نے صرف اتنی ہوشیاری دکھائی کہ روس کےساتھ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں، اس نے پیداوار بڑھا کر دنیا بھر میں جہاں کہیں تیل کی طلب موجود تھی، اپنا تیل بیچ ڈالا، اور روس کےساتھ معاہدے کے بعد تیل کی پیداوار کم کرلی۔

—————————————————————————–
قارئین : جے ٹی این کی کاوش اچھی لگے تو شیئر کریں، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
—————————————————————————–

اب تیل پیداواری ملکوں کےلئے ایک ہی راستہ ہے کہ، وہ پیداوار میں ایک اور بڑی کٹوتی پر اتفاق کریں ،اور اس مقصد کے حصول کی خاطر اوپیک پلس کا اگلا اجلاس 10 جون کو ہونا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر روس کو سبق سکھانے کےلئے سعودی عرب کو تیل قیمتوں کی جنگ میں دھکیلا تو، قبر اپنی تیل انڈسٹری کیلئے بھی کھودی۔ اگر سعودی ولی عہد نے روسی صدر کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے ،تو نقصان خود بھی اٹھایا ہے۔ یوں کنفیوشس کا قول سچ ثابت ہوا کہ انتقام کے راستے پر چلنے سے پہلے 2 قبریں کھودو۔

آئل پرائس معاملہ

Leave a Reply