263

ممتاز ادیب، دانشور، ماہر تعلیم ڈاکٹرجمیل جالبی انتقال کر گئے

Spread the love

کرا چی (مانیٹرنگ)معروف ماہر تعلیم ، ادیب اورنقاد ڈاکٹر جمیل جالبی انتقال کر

گئے اردو ادب اورتعلیم کے شعبے میں نام کمانے والے ڈاکٹر جمیل جالبی 1929

میں بھارتی صوبے اترپردیش کے شہر علیگڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ڈاکٹر جمیل

جالبی 1983 میں کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور 1987 میں مقتدرہ قومی

زبان (موجودہ نام ادارہ برائے فروغ قومی زبان)کے چیئرمین تعینات ہوئے۔ اس

کے علاوہ آپ 1990 سے 1997 تک اردو لغت بورڈ کراچی کے سربراہ بھی مقرر

ہوئے ۔ڈاکٹر جمیل جالبی کی کتاب ‘ارسطو سے ایلیٹ تک’ ان کی اہم تصانیف میں

شامل ہے اور انہوں نے تاریخ ادب اردو، پاکستانی کلچر، قومی کلچر کی تشکیل کا

مسئلہ، تنقید اور تجربہ کی تصنیف و تالیف کی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کا سب سے اہم

کام قومی انگریزی اردو لغت کی تدوین رہا ہے۔انہوں نے ہندوستان، پاکستان کے

مختلف شہروں میں تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ میں ہوئی۔ 1943 میں

گورنمنٹ ہائی اسکول سہارنپور سے میٹرک کیا۔ میرٹھ کالج سے 1945 میں انٹر

اور 1947 میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ کالج کی تعلیم کے دوران جالبی

صاحب کو ڈاکٹر شوکت سبزواری، پروفیسر غیور احمد رزمی اور پروفیسر کرار

حسین ایسے استاد ملے جنہوں نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔اردو ادب

کے صف اول کے صحافی سید جالب دہلوی اور جمیل جالبی کے دادا دونوں ہم

زلف تھے۔ محمد جمیل خاں نے کالج کی تعلیم کے دوران ہی ادبی دنیا میں قدم رکھ

دیا تھا۔ ان دنوں ان کا آئیڈیل سید جالب تھے۔ اسی نسبت سے انہوں نے اپنے نام کے

ساتھ جالبی کا اضافہ کر لیا۔تقسیم ہند کے بعد 1947 میں ڈاکٹر جمیل جالبی اور ان

کے بھائی عقیل پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ یہاں

ان کے والد صاحب ہندوستان سے ان دونوں بھائیوں کے تعلیمی اخراجات کے لیے

رقم بھیجتے رہے۔ بعد ازاں جمیل جالبی کو بہادر یار جنگ ہائی اسکول میں ہیڈ

ماسٹری کی پیش کش ہوئی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ جمیل جالبی نے ملازمت

کے دوران ہی ایم اے اور ایل ایل بی کے امتحانات پاس کر لیے۔ اس کے بعد 1972

میں سندھ یونیورسٹی سے ڈاکٹر غلام مصطفی خان کی نگرانی میں قدیم اردو ادب

پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی اور 1978 میں مثنوی کدم را پدم را پر ڈی لٹ کی

ڈگریاں حاصل کیں۔ڈاکٹر جمیل جالبی سی ایس ایس کے امتحان میں شریک ہوئے

اور کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والدین کو بھی پاکستان بلا لیا۔

ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد باقاعدہ طور پر ادبی سرگرمیوں میں مصروف

ہوئے۔ قبل ازیں انہوں نے ماہنامہ ساقی میں معاون مدیر کے طور پر خدمات سر

انجام دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنا ایک سہ ماہی رسالہ نیا دور بھی جاری کیا۔

حکومت پاکستان کی طرف سے اردو ادب میں گرانقدر خدمات کے اعتراف میں ان

کو ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا ہے۔ڈاکٹر جمیل جالبی نے 89

سال 10 ماہ 6 دن کی عمر میںگزشتہ روز18 اپریل 2019 کو کراچی میں وفات

پائی۔