124

سرکار سے عوام پریشان، سپریم کورٹ، پاک ترک سکولز انتظامیہ کی نظرثانی اپیل خارج

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن) چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے نجی

سکولوں کی فیسوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت میں کہا ہے سرکار

کی وجہ سے آج لوگ پریشان ہیں،ہم نے سرکار سے اس حوالے سے بہت کچھ

پوچھنا ہے، ہمیں گلی محلوں میں قائم سرکاری سکولوں کے اعداد و شمارچاہیں،

کہ کتنے سرکاری سکول اوران میں کتنے ٹیچر ہیں،اب سرکاری سکولوں کا وہ

معیار نہیں رہا، ٹیچر گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لیتے ہیں۔ کیس کی سماعت کے

دوران والدین کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا سندھ ہائی کورٹ کے لارجر بنچ

نے والدین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے سکولز کو صرف سالانہ پانچ فیصد

اضافے کی اجازت دی، ہائی کورٹ نے قرار دیا نجی کاروبار پر حکومت مناسب

پابندیاں لگا سکتی ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کیا نجی

کاروبارمیں بنیادی حقوق کا نفاذ کیا جا سکتا ہے؟۔ والدین کے وکیل نے کہا تعلیم

بنیادی آئینی حق ہے، چند لوگوں کے مفاد کیلئے معاشرے کو قربان نہیں کیا جا

سکتا۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کئی سرکاری سکولز میں تو اساتذہ

ہی نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تعلیم اورصحت کبھی بھی حکومتوں کی

ترجیح نہیں رہے، نجی سکولز بند ہوئے تو تعلیمی نظام ہی بیٹھ جائے گا تاہم انہیں

جائز منافع لینے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔ والدین کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے

پر کیس کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی گئی۔ دریں اثنا سپریم کورٹ نے

اورنج لائن ٹرین منصوبہ کیس میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ، سیکرٹری فنانس اور

چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، جسٹس عظمت سعید

نے ریمارکس دیے پراجیکٹ کے راستے میں جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنایا

جائے، کمپنیاں ذمے داریاں پوری نہیں کریں گی تو پھرکہیں اورجائیں گی۔ اورنج

لائن ٹرین پراجیکٹ کیس کی سماعت میں جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے

کہ فنڈزکی وجہ سے منصوبے پر کام نہیں رکنا چاہیے۔ کام نہیں ہوگا تومعاملہ نیب

بھی بھیجا جا سکتا ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کام نہ ہونے سے

منصوبے میں تاخیرہورہی ہے۔ تعمیراتی کمپنیوں نے 15 اپریل تک کام مکمل کرنا

تھا، تعمیراتی کمپنیوں نے اپنی یقین دہانی پوری نہیں کی۔ بعدازاں کیس کی سماعت

جمعے تک کیلیے ملتوی کردی گئی۔ سپریم کورٹ نے پاک ترک سکولز کی حوا

لگی سے متعلق کیس میں پاک ترک سکولزانتظامیہ کی نظرثانی اپیل خارج کرتے

ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ اپیل قابل سماعت نہیں ۔ جسٹس عظمت سعید کی

سربراہی میں3 رکنی بنچ نے اپیل کی سماعت کی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا

ترک حکومت اور سپریم کورٹ بھی اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں

دیگر 40 ممالک بھی ان سکولوں کو بند کر چکے ہیں۔ حکومت پاکستان ترک

حکومت کیساتھ ہے۔ پاک ترک سکولز کے وکیل نے دلائل میں کہا کوئی دہشت

گرد تنظیم فنڈنگ نہیں کر رہی بلکہ ترک عوام فنڈ دے رہے ہیں، ملائیشیا میں ان

سکولوں کو بند نہیں کیا گیا۔اس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے آپ پھر

ملائیشیا چلے جائیں،کیا آپ نام بدل کر لوگوں کو دوبارہ بیوقوف بنانا چاہتے ہیں؟

اس طرح تو دیگر دہشت گرد تنظیمیں بھی پاکستان میں ادارے کھولنا شروع کر دیں

گی۔ وکیل پاک ترک سکول نے کہا پاکستان کی وزارت داخلہ اور خارجہ نے

تنظیم کی منظوری دی تھی۔ اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ابھی

وزارتوں نے عدالت میں آکر کہا یہ دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے۔ تنظیم کے

ذریعے منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ کی جارہی ہے۔ جسٹس

عظمت سعید نے وکیل سے مخاطب ہوکر کہا آپ ایک دہشت گرد تنظیم کا عدالت

میں آکر دفاع نہیں کر سکتے۔